پاکستان میں قلیل مدتی مہنگائی 14.5 فیصد تک پہنچ گئی، ایندھن اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ
قلیل مدتی مہنگائی میں اچانک اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سپلائی چین کے مسائل اور مشرق وسطیٰ میں علاقائی کشیدگی کی وجہ سے مہنگائی میں کمی کا حالی...
This report is based on official figures from the Pakistan Bureau of Statistics; however, the narrative incorporates sensationalized language regarding public panic and specific regional geopolitical interpretations common in Pakistani media.

تفصیلی جائزہ
قلیل مدتی مہنگائی میں اچانک اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سپلائی چین کے مسائل اور مشرق وسطیٰ میں علاقائی کشیدگی کی وجہ سے مہنگائی میں کمی کا حالیہ سلسلہ وقت سے پہلے ختم ہو گیا ہے۔ Institute of Business Administration (IBA) کے ماہرین کا کہنا ہے کہ فریٹ اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے اشیائے ضرورت کی قیمتوں پر براہ راست اثر پڑا ہے۔ SPI میں یہ اضافہ ہر طبقے کو متاثر کر رہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مہنگائی کا بحران پورے معاشرے میں پھیل چکا ہے۔
مالیاتی مارکیٹیں ان حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اس سے اسٹیٹ بینک کے مستقبل میں شرح سود کے فیصلوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ جہاں The Express Tribune کے مطابق ماہرین اسے بیرونی عوامل قرار دے رہے ہیں، وہاں حکومت کی قیمتوں پر کنٹرول کی صلاحیت پر بھی بحث چھڑ گئی ہے۔ کچھ تجزیہ کار پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں کمی کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ عوام کو فوری ریلیف ملے، جبکہ دوسروں کو ڈر ہے کہ اگر یہ دباؤ برقرار رہا تو مئی کے Consumer Price Index (CPI) کے اعداد و شمار معاشی بحالی کو روک سکتے ہیں۔
عوامی ردعمل
مجموعی طور پر عوام میں شدید غصہ اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کراچی جیسے بڑے شہروں میں شہری آٹے جیسی بنیادی ضرورت کی قیمتوں میں اضافے سے شدید پریشان ہیں۔ 'Panic buying' کی خبریں ظاہر کرتی ہیں کہ عوام کا قیمتوں کے استحکام پر بھروسہ ختم ہو رہا ہے، اور عوامی سطح پر اس کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہرایا جا رہا ہے جو معیشت کو عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ سے بچانے میں ناکام رہی۔
اہم حقائق
- •پاکستان کے Sensitive Price Indicator (SPI) میں 14 مئی 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے لیے سالانہ بنیادوں پر 14.52 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
- •Pakistan Bureau of Statistics کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پیٹرول کی قیمتوں میں 64.23 فیصد، ڈیزل میں 61.61 فیصد اور آٹے کی قیمت میں سالانہ 57.56 فیصد اضافہ ہوا۔
- •ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں 0.47 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ ٹماٹر کی قیمتوں میں 22.13 فیصد اور پیٹرولیم مصنوعات میں تقریباً 4 فیصد اضافہ ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔