ایندھن اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان میں قلیل مدتی مہنگائی 14.5 فیصد تک پہنچ گئی
SPI میں یہ تیزی پاکستان میں مہنگائی میں کمی کے حالیہ رجحان کے الٹ جانے کی نشاندہی کرتی ہے، جس کی بنیادی وجہ بیرونی سپلائی کے مسائل اور توانائی کے بڑھت...
While the core data is based on official statistics from the Pakistan Bureau of Statistics, the framing of global geopolitical events reflects a regional perspective on international supply chain disruptions.

تفصیلی جائزہ
SPI میں یہ تیزی پاکستان میں مہنگائی میں کمی کے حالیہ رجحان کے الٹ جانے کی نشاندہی کرتی ہے، جس کی بنیادی وجہ بیرونی سپلائی کے مسائل اور توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات ہیں۔ ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ Iran، US اور Israel کے درمیان علاقائی کشیدگی کے اثرات نے سپلائی چین کو شدید متاثر کیا ہے اور عالمی فریٹ لاگت میں اضافہ کر دیا ہے۔ قلیل مدتی مہنگائی میں یہ اضافہ مرکزی بینک کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ اسے شرحِ سود (interest rate) میں کمی کے منصوبوں کو موخر کرنا پڑ سکتا ہے۔
جہاں عوام کا ایک طبقہ اس مہنگائی کو حکومتی بدانتظامی سے جوڑتا ہے، وہیں معاشی ماہرین اسے مقامی طلب کے بجائے سپلائی سائیڈ کا مسئلہ قرار دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس کا اثر تمام آمدنی والے طبقات پر پڑا ہے، تاہم سب سے زیادہ آمدنی والے طبقے میں 14.24 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ سب سے کم آمدنی والے طبقے میں یہ شرح 11.56 فیصد رہی۔ تجزیہ کاروں کی جانب سے حکومت پر Petroleum Development Levy (PDL) میں کمی کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے تاکہ ٹرانسپورٹ اور فوڈ سپلائی چین کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
عوامی ردعمل
مجموعی طور پر شدید معاشی بے چینی اور عوامی غصہ پایا جاتا ہے۔ صارفین اپنی قوتِ خرید میں تیزی سے کمی، بالخصوص اشیائے خورونوش اور یوٹیلیٹیز کی قیمتوں سے پریشان ہیں۔ ماہرین کی رائے میں صورتحال تشویشناک ہے اور انتباہ دیا گیا ہے کہ اگر حکومت نے ایندھن اور مال برداری کے اخراجات کو مستحکم کرنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے تو خوف و ہراس میں خریداری اور سپلائی چین کی غیر یقینی صورتحال مہنگائی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
اہم حقائق
- •14 مئی 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران پاکستان کا Sensitive Price Indicator (SPI) سالانہ بنیادوں پر 14.52 فیصد بڑھ گیا، جس کی بڑی وجہ ہفتہ وار 0.47 فیصد اضافہ ہے۔
- •Pakistan Bureau of Statistics نے توانائی اور بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں بڑے سالانہ اضافے کی اطلاع دی ہے، جس میں petrol کی قیمت میں 64.23 فیصد، diesel میں 61.61 فیصد اور گندم کے آٹے میں 57.56 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
- •ہفتہ وار اعداد و شمار کے مطابق صرف سات دنوں میں ٹماٹر کی قیمتوں میں 22.13 فیصد اضافہ ہوا، جس سے مجموعی انڈیکس 358.71 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔