سرحدوں پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان پاکستان فوج کے دہشت گردی کے خلاف آپریشنز میں تیزی
پاکستان کی مغربی سرحد پر سیکورٹی کی صورتحال ایک بار پھر سنگین ہو گئی ہے، جہاں سیکورٹی فورسز نے مختلف محاذوں پر کارروائی کرتے ہوئے 27 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ کارروائی ریاست کی جانب سے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف جاری جنگ میں ایک بڑی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
The synthesis relies heavily on statements from the Pakistani military's media wing (ISPR), adopting official terminology such as 'Fitna al-Khawarij.' Allegations of foreign sponsorship (e.g., 'India-backed') are presented as regional state claims rather than independently verified facts.

""خفیہ معلومات پر مبنی آپریشنز کے تسلسل میں، گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران سیکورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں خارجیوں کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔""
تفصیلی جائزہ
تشدد میں حالیہ اضافہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکورٹی کی نازک صورتحال کو ظاہر کرتا ہے، جہاں ریاست اب 'آپریشن غضب الحق' میں مصروف ہے۔ فوج کی جانب سے شدت پسندوں کے لیے 'فتنۃ الخوارج' کی اصطلاح کا استعمال ایک سٹریٹجک تبدیلی ہے، جس کا مقصد دہشت گردوں کے نظریاتی بنیادوں کو ختم کرنا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست اب مذاکرات کے بجائے مکمل فوجی کارروائی کا ارادہ رکھتی ہے۔
جیو پولیٹیکل کشیدگی بھی اس بیانیے کا اہم حصہ ہے۔ ISPR نے ہلاک دہشت گردوں کو 'بھارت کی سرپرستی' میں کام کرنے والے قرار دیا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ریاست سیکورٹی بحران کو علاقائی پراکسی وار کے طور پر دیکھتی ہے، خاص طور پر جب افغان طالبان کے ساتھ سرحد پار ٹھکانوں پر کشیدگی برقرار ہے۔
پس منظر اور تاریخ
پاکستان کے سرحدی علاقوں میں سیکورٹی بحران کی جڑیں 9/11 کے بعد کے دور سے ملتی ہیں۔ شمالی وزیرستان دہائیوں تک شدت پسند گروہوں کا مرکز رہا، جس کے بعد 2014 میں 'ضربِ عضب' جیسے بڑے آپریشنز کیے گئے۔ تاہم، 2021 میں کابل میں طالبان کی واپسی نے صورتحال دوبارہ بدل دی، جس کے بعد اسلام آباد کا دعویٰ ہے کہ TTP جیسے گروہوں کو افغانستان میں پناہ گاہیں میسر ہیں۔
فروری 2026 میں شروع ہونے والا 'آپریشن غضب الحق' پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی کا تازہ ترین مرحلہ ہے۔ یہ افغان طالبان کے ساتھ تعلقات میں اتار چڑھاؤ اور سرحد پار سے ہونے والے حملوں کو روکنے کے وعدوں کی خلاف ورزی کے بعد شروع کیا گیا ہے۔
عوامی ردعمل
اس وقت جذبات میں سخت عزم کے ساتھ ساتھ قومی تشویش بھی نمایاں ہے۔ اگرچہ سرکاری بیانات خطرات کے مؤثر خاتمے پر زور دے رہے ہیں، لیکن کوئٹہ دھماکے اور پولیس اہلکاروں کی شہادت سے عوامی سطح پر بے چینی پائی جاتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ سفارت کاری میں تعطل آ چکا ہے۔
اہم حقائق
- •ISPR نے تصدیق کی ہے کہ شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں 48 گھنٹوں کے دوران خفیہ معلومات پر مبنی آپریشنز میں 11 دہشت گرد مارے گئے۔
- •بنوں کے علاقے میریاں میں پاکستان فوج، پولیس اور CTD کے مشترکہ آپریشن میں 16 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جن میں دو سرغنہ بھی شامل تھے، جبکہ دو پولیس اہلکار شہید ہو گئے۔
- •بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں ریلوے ٹریک کے قریب ہونے والے ایک دھماکے میں 14 افراد جاں بحق ہو گئے، جن میں Frontier Corps (FC) کے تین اہلکار اور کئی شہری شامل ہیں۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔