پاکستان کے وزیرِ سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے اسلام آباد میں منعقدہ ’پاکستان-چین انڈسٹریلائزیشن ڈائیلاگ‘ کے دوران انکشاف کیا ہے کہ ملک 2018 سے 2024 کے درمیانی عرصے میں اسپیشل اکنامک زونز (SEZs) میں 8 ارب ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) اور 5 لاکھ ملازمتوں کی فراہمی کے اہداف حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔ مقررہ 9 زونز میں سے صرف 4—رشکئی، علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی، دھابیجی اور بوستان—ہی منصوبہ بندی کے ابتدائی مراحل سے آگے بڑھ کر کسی حد تک فعال ہو سکے ہیں۔ اس معاشی سست روی نے نہ صرف مقامی سطح پر روزگار کے مواقع محدود کیے ہیں بلکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں پر بھی مالی دباؤ بڑھایا ہے، جو ملکی معیشت اور اپنے خاندانوں کو سہارا دینے کے لیے مسلسل ترسیلاتِ زر (Remittances) بھیجنے پر مجبور ہیں۔
وفاقی حکومت اب سی پیک (CPEC) کے فیصلہ کن دوسرے مرحلے پر کام شروع کر رہی ہے، جس کا بنیادی مقصد درآمدات پر مبنی معیشت کو برآمدات اور ویلیو ایڈڈ اشیاء کی پیداوار کی جانب موڑنا ہے۔ اس حکمتِ عملی کے تحت الیکٹرانکس، الیکٹرک وہیکلز (EVs)، ٹیکسٹائل اور فارماسیوٹیکل جیسے اہم شعبوں میں چینی صنعتوں کی منتقلی کے لیے کراچی اور اسلام آباد میں نئے حکومتی صنعتی پارکس تجویز کیے گئے ہیں۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی سرمایہ کاروں اور آئی ٹی (IT) کے شعبے سے وابستہ افراد کے لیے یہ ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ ملک میں انٹرنیٹ کے استعمال کی شرح 54 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو ڈیجیٹل انڈسٹریلائزیشن، سٹارٹ اپس (Startups) اور عالمی تجارتی شراکت داری کے لیے ایک سازگار ماحول فراہم کر رہی ہے۔
پاکستان اور چین کے درمیان وسیع تجارتی عدم توازن ایک سنگین معاشی چیلنج کے طور پر ابھرا ہے۔ 2024 میں چین کی پاکستان کو کی جانے والی برآمدات 20 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ پاکستان کی برآمدات محض 3 ارب ڈالر تک محدود رہیں، جو معاشی ڈھانچے کی ایک واضح خامی کو ظاہر کرتا ہے۔ وزیرِ سرمایہ کاری کے اعداد و شمار کے مطابق، سی پیک نے 2015 سے اب تک توانائی اور نقل و حمل کے شعبوں میں 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور 2 لاکھ 61 ہزار سے زائد ملازمتیں پیدا کی ہیں، تاہم تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے لیبر انٹینسیو (Labour-intensive) مینوفیکچرنگ پر زور دینا ناگزیر ہے۔ مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے سے تارکینِ وطن پر انحصار کم ہوگا اور ملکی زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہوں گے۔
مستقبل کے معاشی منظر نامے کو عالمی معیار پر لانے کے لیے مین لائن-ون (ML-1) ریلوے منصوبے کو کلیدی اہمیت دی جا رہی ہے، جو کراچی پورٹ اور اندرونِ ملک صنعتی مراکز کے درمیان مال برداری کے وقت اور لاگت میں 40 فیصد تک کمی لائے گا۔ اس میگا پروجیکٹ کے لیے ایشین ڈیولپمنٹ بینک (ADB) کی مالی معاونت کے حصول پر بھی بات چیت جاری ہے۔ ڈائیلاگ میں موجود چینی سفارت خانے کے حکام نے بھی انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں دو طرفہ تعاون کی وسیع صلاحیتوں کا اعتراف کیا ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر حکومتی طرزِ حکمرانی اور ریگولیٹری فریم ورک کو عالمی سرمایہ کاری کے معیار کے مطابق ڈھال لیا جائے، تو صنعتی برآمدات میں 20 فیصد تک اضافہ متوقع ہے، جس سے عالمی سطح پر پاکستانی معیشت کا تشخص بہتر ہوگا۔
