پاکستان کی ٹیک خواہشات کو دھچکا، عالمی AI کی وجہ سے مقامی مینوفیکچرنگ متاثر
عالمی الیکٹرانکس کی دنیا میں، پاکستان کی موبائل انڈسٹری عالمی AI (مصنوعی ذہانت) چپس کی دوڑ اور ملکی ٹیکسوں کے دباؤ کے درمیان پھنس کر رہ گئی ہے۔
The draft reflects the source's use of dramatized language—such as 'predatory' and 'noose'—to frame the economic challenges, while heavily prioritizing the perspectives of industry stakeholders who are actively lobbying against domestic tax measures.

"سپلائی کی کمی نے بین الاقوامی سطح پر ہینڈ سیٹ بنانے کی لاگت بڑھا دی ہے، بشمول پاکستان میں جہاں یہ صنعت ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔"
تفصیلی جائزہ
پاکستانی اسمبلرز کو درپیش مارجن میں کمی 'AI گولڈ رش' کا ضمنی نقصان ہے۔ جب عالمی سیمی کنڈکٹر کمپنیاں کنزیومر الیکٹرانکس کے بجائے ڈیٹا سینٹر انفراسٹرکچر کو ترجیح دیتی ہیں، تو پاکستان جیسے ابھرتے ہوئے مراکز اپنی مسابقتی حیثیت کھو دیتے ہیں۔ پیداوار میں 35 فیصد کی کمی محض موسمی نہیں بلکہ ایک ڈھانچہ جاتی وارننگ ہے۔
مالیاتی پالیسی اور صنعتی ترقی کے درمیان تناؤ واضح ہے۔ انڈسٹری اسٹیک ہولڈرز کا دعویٰ ہے کہ 18 فیصد GST نے بڑھتی ہوئی لاگت کے مسئلے کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے، جس سے پورے سیکٹر میں انوینٹری جمع ہو رہی ہے اور مالی نقصان ہو رہا ہے۔ حکومت ٹیکس کے ذریعے فوری ریونیو تو چاہتی ہے، لیکن یہ اقدام اسی صنعتی بنیاد کو نقصان پہنچا رہا ہے جسے اس نے لائسنس دیا تھا۔
پس منظر اور تاریخ
پاکستان کے موبائل مینوفیکچرنگ سیکٹر کو 2020 کے آس پاس متعارف کرائی گئی Mobile Device Manufacturing Policy (MDMP) کے تحت نئی زندگی ملی، جس کا مقصد ملک کو CBU امپورٹ ماڈل سے مقامی اسمبلی کی طرف منتقل کرنا تھا۔ اس پالیسی نے 30 سے زائد کمپنیوں اور عالمی برانڈز کو راغب کیا۔
ان کامیابیوں کے باوجود، یہ سیکٹر تاریخی طور پر پاکستان کی کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور درآمدی پابندیوں کی وجہ سے غیر مستحکم رہا ہے۔ موجودہ بحران خطرے کے ایک نئے دور کی نمائندگی کرتا ہے جہاں مقامی صنعتی استحکام کو اب براہ راست عالمی تکنیکی تبدیلیوں سے خطرہ ہے۔
عوامی ردعمل
انڈسٹری کے کھلاڑیوں میں تشویش اور غصہ پایا جاتا ہے۔ مینوفیکچررز عالمی سپلائی چین میں تبدیلیوں اور زیادہ ملکی ٹیکسوں کو اس سیکٹر کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں جسے کبھی ایک کامیاب صنعتی مثال قرار دیا گیا تھا۔ حکومت کی مالیاتی بھوک طویل مدتی اقتصادی فوائد کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
اہم حقائق
- •پاکستان میں مقامی موبائل فون کی پیداوار اپریل 2026 میں 35 فیصد کم ہو کر 1.81 ملین یونٹس رہ گئی، جو پچھلے مہینے 2.79 ملین تھی۔
- •عالمی میموری چپ کی قیمتوں میں تقریباً 100 فیصد اضافہ ہوا ہے کیونکہ سیمی کنڈکٹر بنانے والے کنزیومر الیکٹرانکس کے بجائے AI پر مرکوز ڈیٹا سینٹرز کو ترجیح دے رہے ہیں۔
- •18 فیصد سیلز ٹیکس کے نفاذ کے بعد مقامی طور پر تیار کردہ فونز کا مارکیٹ شیئر مارچ میں 89 فیصد سے گر کر اپریل 2026 میں 83 فیصد رہ گیا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔