ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Business & Economy23 مئی، 2026Fact Confidence: 90%

پاکستان 20 ارب ڈالر کی آمدن کے لیے ترسیلاتِ زر میں بڑی چھوٹ پر غور کر رہا ہے

گرتے ہوئے ذخائر کو سہارا دینے کے لیے، پاکستان غیر ملکی کرنسی کی آمد پر پابندیوں کو ختم کرنے کا ایک بڑا قدم اٹھانے کی تیاری کر رہا ہے، جس میں 'بغیر کسی سوال' کی پالیسی کے ذریعے اربوں ڈالر کا سمندر پار سرمایہ واپس لانے کی کوشش کی جائے گی۔

AI Editor's Analysis
Regional NarrativeFact-BasedSpeculative Financial Claims

This report synthesizes deliberations within the Pakistani government based on a regional financial source; the $20 billion figure is explicitly framed as an estimate from a private advisory firm rather than an official projection.

پاکستان 20 ارب ڈالر کی آمدن کے لیے ترسیلاتِ زر میں بڑی چھوٹ پر غور کر رہا ہے
"انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 111 کے تحت ڈیکلیریشن کی حد کو 1 لاکھ ڈالر تک بڑھانے سے FATF کے مطابق سمندر پار اثاثوں کی واپسی کی حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے، جس سے 20 ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری متحرک ہونے کا امکان ہے۔"
Tola Associates (Regarding the potential impact of increasing the declaration threshold for foreign currency inflows.)

تفصیلی جائزہ

یہ قدم کفایت شعاری سے ہٹ کر سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی ایک جارحانہ حکمتِ عملی ہے، اگرچہ یہ ایک بڑا جوا بھی ہو سکتا ہے۔ 'بغیر کسی سوال' کی حد بڑھا کر حکومت ہنڈی اور حوالہ مارکیٹ کو ختم کرنے اور اس پیسے کو باضابطہ بینکاری نظام میں لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ Tola Associates کے مطابق اس سے 20 ارب ڈالر آ سکتے ہیں، جبکہ IMF ایسی رعایتوں کو منی لانڈرنگ (AML) کے خلاف قوانین میں ایک سوراخ کے طور پر دیکھتا ہے۔

پاکستان بزنس کونسل (PBC) بھی دولت کے بیرونِ ملک فرار کو روکنے کے لیے ان مراعات کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اس حکمتِ عملی کی کامیابی کا دارومدار اس توازن پر ہے کہ حکومت ایک طرف FATF کے ضوابط پر بھی پورا اترے اور دوسری طرف سرمایہ کاروں کو بھی راغب کرے۔ اگر IMF نے دوبارہ مخالفت کی تو پاکستان مالی ضرورت اور عالمی قرض دہندگان کی شرائط کے درمیان پھنس سکتا ہے۔

پس منظر اور تاریخ

پاکستان طویل عرصے سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور زرمبادلہ کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر پر انحصار کر رہا ہے۔ 50 لاکھ روپے کی حد اس وقت لگائی گئی تھی جب کرنسی مستحکم تھی، لیکن اب مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی نے اسے سرمایہ کاروں کے لیے ایک رکاوٹ بنا دیا ہے۔

ملکی ضرورت اور عالمی ریگولیٹری معیارات کے درمیان تناؤ 2023 میں اس وقت عروج پر پہنچا جب IMF نے ایسی ہی ایک تجویز کو رکوا دیا تھا۔ پاکستان ماضی میں بھی سخت کنٹرول اور ایمنسٹی سکیموں کے درمیان جھولتا رہا ہے، جس پر اکثر عالمی مالیاتی اداروں نے تنقید کی ہے۔

عوامی ردعمل

اداریہ کا رجحان کاروباری طبقے کی پرامیدی اور عالمی سطح پر ہونے والے ممکنہ ردعمل کے حوالے سے خدشات کا مجموعہ ہے۔ جہاں ایک طرف 50 لاکھ کی حد کو پرانا مانا جا رہا ہے، وہیں یہ ڈر بھی موجود ہے کہ IMF کے ساتھ تعلقات دوبارہ خراب ہو سکتے ہیں۔

اہم حقائق

  • حکومت غیر ملکی ترسیلاتِ زر پر موجودہ 50 لاکھ روپے کی حد کو بڑھانے یا ختم کرنے کے لیے Income Tax Ordinance کے سیکشن 111(4) میں ترمیم کا جائزہ لے رہی ہے۔
  • سالوں پہلے مقرر کردہ 50 لاکھ روپے کی موجودہ حد، روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے اب صرف تقریباً 17,900 ڈالر کے برابر رہ گئی ہے۔
  • PDM حکومت نے 2023 کے بجٹ میں اس حد کو بڑھا کر 1 لاکھ ڈالر کرنے کی کوشش کی تھی جسے IMF کے اعتراضات کے بعد واپس لے لیا گیا تھا۔

📍 مقامات

© OpenStreetMap
📍 Islamabad

ذرائع

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

Pakistan Weighs High-Stakes Remittance Liberalization to Capture $20 Billion Inflow - Haroof News | حروف