ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Pakistan6 مئی، 20261 MIN READ

پاکستان میں سولر انرجی کا بے مثال انقلاب: اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر کے نئے رجحانات اور مقامی گرڈ کا بحران

پاکستان میں ہوشربا بجلی کے بلوں اور سستے سولر پینلز نے عوام کو تیزی سے آف گرڈ سسٹم کی جانب راغب کر دیا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف مقامی سطح پر توانائی کا منظر نامہ بدل دیا ہے بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے اپنے خاندانوں کی کفالت کے طریقوں میں ایک نیا زاویہ بھی متعارف کروایا ہے۔

پاکستان میں سولر انرجی کا بے مثال انقلاب: اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر کے نئے رجحانات اور مقامی گرڈ کا بحران

پاکستان اس وقت ایک خاموش مگر انتہائی موثر سولر انرجی (Solar Energy) انقلاب سے گزر رہا ہے، جس کی قیادت حکومتی پالیسیوں کے بجائے براہِ راست عام صارفین اور صنعت کار کر رہے ہیں۔ آئی ایم ایف (IMF) کی سخت شرائط، عالمی سطح پر ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور گرڈ (Grid) کے بے تحاشا ٹیرف نے عوام کو متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ دوسری جانب عالمی مارکیٹ بالخصوص چین کی جانب سے سولر پینلز (Solar Panels) کی پیداوار میں اضافے کے باعث ان کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی واقع ہوئی ہے۔ اقتصادی اعداد و شمار کے مطابق، سال 2025 تک 51.5 گیگا واٹ کے پینلز کی درآمد اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ملک میں توانائی کے حصول کا روایتی طریقہ کار مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔

اس ماحولیاتی اور معاشی تبدیلی کا براہِ راست اثر بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں (Overseas Pakistanis) کی معاشی ترجیحات پر بھی پڑ رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور امریکہ میں مقیم تارکینِ وطن کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر (Remittances) کا ایک بڑا حصہ اب ان کے آبائی علاقوں میں خاندانوں کو بھاری بجلی کے بلوں سے نجات دلانے کے لیے سولر سسٹمز اور لیتھیم آئن بیٹریز (Lithium-ion Batteries) کی تنصیب پر خرچ ہو رہا ہے۔ مزید برآں، تارکین وطن سرمایہ کاروں کے لیے بھی یہ ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ پاکستان میں ٹیکسٹائل اور دیگر برآمدی صنعتیں اب یورپی یونین کے کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم (CBAM) جیسے عالمی ماحولیاتی معیارات پر پورا اترنے کے لیے تیزی سے سولر انرجی کو اپنا رہی ہیں، جس سے ان کی بین الاقوامی مارکیٹ میں مسابقت برقرار ہے۔

حکومت کی جانب سے نیٹ میٹرنگ (Net Metering) کی پالیسیوں میں کی جانے والی حالیہ ترامیم اور اضافی بجلی کی قیمتِ خرید میں کٹوتی نے ایک نئے تکنیکی چیلنج کو جنم دیا ہے۔ حکومتی اقدامات کے ردعمل میں اب صارفین بڑے پیمانے پر بیٹری اسٹوریج (Battery Storage) کی جانب منتقل ہو کر خود کو نیشنل گرڈ سے مکمل طور پر الگ (Off-grid) کر رہے ہیں۔ ماہرینِ اقتصادیات کے مطابق، اگر اعلیٰ آمدنی والے صارفین اسی طرح گرڈ سے نکلتے رہے تو سارا مالی بوجھ کم آمدنی والے طبقے پر آ جائے گا، جس سے 'یوٹیلیٹی ڈیتھ اسپائرل' (Utility Death Spiral) کا شدید خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ اس رجحان سے نہ صرف قومی گرڈ کا خسارہ بڑھے گا بلکہ بند پڑے تھرمل پلانٹس کی کیپیسٹی پیمنٹس (Capacity Payments) کا بحران مزید سنگین ہو جائے گا۔

اس گھمبیر صورتحال میں توانائی کے ماہرین اور پاکستان سولر ایسوسی ایشن کا ماننا ہے کہ وفاقی حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (BESS) کی جامع پالیسی متعارف کروانی چاہیے۔ زراعت کے شعبے میں لاکھوں ٹیوب ویلز کو سولر پر منتقل کرنے سے نہ صرف مہنگے درآمدی ڈیزل پر انحصار کم ہوگا بلکہ کاربن کے اخراج میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ بیرون ملک بسنے والی پاکستانی کمیونٹی اس قومی ماحولیاتی مہم میں مزید مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے، بشرطیکہ حکومت سولر آلات کو لگژری کے بجائے بنیادی ضرورت کا درجہ دے، ان پر عائد ٹیکسز کا خاتمہ کرے، اور بین الاقوامی کلائمیٹ فنانس (Climate Finance) تک رسائی کو یقینی بنائے۔

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

Original Source: Dawn News (AI Translated)