ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Business & Economy5 مئی، 20261 MIN READ

پے پال کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ذریعے تنظیم نو کا اعلان: 4500 ملازمتیں ختم کرنے کا فیصلہ

معروف مالیاتی کمپنی پے پال نے اپنی ٹیکنالوجی کو جدید بنانے اور اخراجات میں کمی کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) اپنانے کا اعلان کیا ہے۔ اس تنظیم نو کے نتیجے میں کمپنی 20 فیصد تک عملہ کم کرے گی، جس سے امریکہ اور دیگر ممالک میں مقیم جنوبی ایشیائی آئی ٹی پیشہ ور افراد کے روزگار پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

پے پال کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ذریعے تنظیم نو کا اعلان: 4500 ملازمتیں ختم کرنے کا فیصلہ

معروف عالمی فنٹیک کمپنی پے پال (PayPal) نے اپنے حالیہ سہ ماہی نتائج کے اجلاس میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) پر مبنی ایک جامع حکمت عملی کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے سرمایہ کاروں کو بتایا کہ پے پال کو دوبارہ ایک 'ٹیکنالوجی کمپنی' بننے کی ضرورت ہے، جس کے لیے وہ اپنے ٹیک اسٹیک (tech stack) کو جدید بنا رہے ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد کلاؤڈ نیٹو (cloud-native) انفراسٹرکچر کی جانب تیزی سے منتقلی اور ڈیولپمنٹ کے عمل میں اے آئی کا بھرپور استعمال ہے تاکہ کمپنی اگلے چند سالوں میں 1.5 بلین ڈالر کے اخراجات بچا سکے۔

اس تکنیکی تبدیلی اور تنظیم نو کی سب سے بڑی قیمت ملازمین کو چکانا پڑے گی، جس نے امریکہ میں مقیم جنوبی ایشیائی اور بالخصوص پاکستانی و ہندوستانی آئی ٹی پیشہ ور افراد میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، پے پال آئندہ دو سے تین برسوں کے دوران اپنی 20 فیصد ورک فورس یعنی تقریباً 4,500 سے زائد ملازمتیں ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ سلیکن ویلی اور دیگر امریکی ریاستوں میں فنٹیک سیکٹر سے وابستہ تارکین وطن کے لیے یہ صورتحال انتہائی اہم ہے، کیونکہ اس طرح کی وسیع کٹوتیوں سے نہ صرف ان کے روزگار کو خطرہ لاحق ہوتا ہے بلکہ ورک ویزا (جیسے H-1B) کے حامل افراد کے لیے قانونی اور رہائشی پیچیدگیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔

پے پال کی نئی حکمت عملی کے تحت کمپنی کو تین بنیادی حصوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے، جن میں چیک آؤٹ سلوشنز، کنزیومر فنانشل سروسز (بشمول وینمو - Venmo)، اور پیمنٹ سروسز و کرپٹو شامل ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق، اے آئی کا استعمال صرف سافٹ ویئر کوڈنگ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اسے کسٹمر سروس، سپورٹ آپریشنز اور رسک مینجمنٹ جیسے شعبوں میں بھی مؤثر انداز میں لاگو کیا جائے گا۔ پے پال نے اس مقصد کے لیے ایک نیا 'اے آئی ٹرانسفارمیشن' گروپ بھی تشکیل دیا ہے تاکہ وہ دیگر مسابقتی کمپنیوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہو سکے جنہوں نے پہلے ہی اے آئی کی بدولت اپنے کام کی رفتار کو تیز کر لیا ہے۔

مالیاتی اعتبار سے، اگرچہ پے پال نے پہلی سہ ماہی میں 8.4 بلین ڈالر کی آمدنی کے ساتھ 7 فیصد سالانہ ترقی ظاہر کی ہے، تاہم دوسری سہ ماہی کی کمزور پیشین گوئیوں نے اسٹاک مارکیٹ میں اس کے حصص کی قدر کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ 2021 کی بلندیوں سے حصص کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے بعد، کمپنی تنظیم نو کے ذریعے اپنے شیئر ہولڈرز کا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بیرون ملک مقیم جنوبی ایشیائی کمیونٹی، ڈیجیٹل خانہ بدوشوں اور فری لانسرز کے لیے پے پال کی یہ اندرونی تبدیلیاں مستقبل میں کراس بارڈر ادائیگیوں، ترسیلات زر اور عالمی مالیاتی لین دین کے طریقہ کار پر اہم اور دور رس اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

Original Source: TechCrunch (AI Translated)