برطانیہ اور یورپ میں مقیم جنوبی ایشیائی تارکین وطن کے لیے 'کری ہاؤس' (Curry House) دہائیوں سے ایک ثقافتی اور معاشی علامت رہا ہے، تاہم اب نامور شیفس نے اس روایتی تاثر کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نئی کاوش کا مقصد 'پروگریسو انڈین فوڈ' (Progressive Indian Food) متعارف کروانا ہے، جو دیسی ذائقوں کو اعلیٰ درجے کی بین الاقوامی کولنری آرٹس (Culinary Arts) کے ساتھ ملا کر پیش کرتا ہے۔ اس سے مغربی دنیا میں جنوبی ایشیائی کھانوں کی پہچان محض سستے اور روایتی کھانوں سے نکل کر فائن ڈائننگ (Fine Dining) کی سطح تک پہنچ رہی ہے۔
اس تبدیلی کا براہ راست اثر برطانیہ میں مقیم پاکستانی اور بھارتی کمیونٹی کی معاشی اور سماجی حیثیت پر پڑ رہا ہے۔ جدید ریستورانوں اور کھانوں کی اس نئی جدت کی وجہ سے ہاسپٹلٹی انڈسٹری (Hospitality Industry) میں کام کرنے والے تارکین وطن کے لیے روزگار کے نئے اور بہتر مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ علاوہ ازیں، اس اقدام نے مقامی کھانوں کی مارکیٹ میں جنوبی ایشیائی ثقافت کی ایک مستند اور جدید تصویر پیش کی ہے، جس سے تارکین وطن کی نئی نسل کو اپنی ثقافتی شناخت پر فخر محسوس ہوتا ہے اور وہ مقامی معاشرے میں زیادہ پراعتماد انداز میں ابھر رہے ہیں۔
شیفس کی اس 'پروگریسو' سوچ کے تحت پرانے اور روایتی پکوانوں کو جدید تکنیکوں اور پریزنٹیشن کے نئے انداز کے ساتھ تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ نقطہ نظر روایتی مسالوں اور اجزاء کی افادیت کو برقرار رکھتے ہوئے انہیں ایک ایسی شکل میں پیش کرتا ہے جو مقامی یورپی اور بین الاقوامی دونوں طرح کے صارفین کے لیے انتہائی پرکشش ہو۔ اس جدت نے یورپی فوڈ کریٹکس (Food Critics) اور ماہرین کی توجہ بھی نمایاں طور پر اپنی جانب مبذول کروائی ہے، جو اسے کولنری دنیا کا ایک اہم سنگ میل قرار دے رہے ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ رجحان آنے والے برسوں میں یورپ اور امریکہ میں جنوبی ایشیائی کھانوں کے کاروبار (Business) کو مکمل طور پر تبدیل کر دے گا۔ اس سے نہ صرف کمیونٹی کے معاشی حالات میں مزید بہتری آئے گی بلکہ بین الاقوامی سطح پر دیسی شیفس اور ریستوران مالکان کو عالمی ایوارڈز (Global Awards) اور اعلیٰ سطح پر تسلیم کیے جانے کے مزید مواقع ملیں گے۔ یہ نیا سفر روایتی حدود کو عبور کر کے تارکین وطن کی عالمی کامیابیوں کا ایک نیا اور روشن باب رقم کر رہا ہے۔
