روس کا ایٹمی جدید کاری کے پروگرام کے تحت Sarmat ICBM کا کامیاب تجربہ
Sarmat، جسے مغرب میں 'Satan II' کے نام سے جانا جاتا ہے، روس کے ایٹمی نظام کو جدید بنانے کے مشن کا ایک اہم حصہ ہے تاکہ میزائل ڈیفنس سسٹمز سے بچا جا سکے...
This report is tagged with 'Pro-State Leaning' and 'Disputed Claims' because it synthesizes official Kremlin military declarations while explicitly highlighting the technical discrepancies noted by independent international defense analysts regarding the missile's actual range.

تفصیلی جائزہ
Sarmat، جسے مغرب میں 'Satan II' کے نام سے جانا جاتا ہے، روس کے ایٹمی نظام کو جدید بنانے کے مشن کا ایک اہم حصہ ہے تاکہ میزائل ڈیفنس سسٹمز سے بچا جا سکے۔ اس تجربے کی ٹائمنگ انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ صدر Putin کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوکرین کی جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے۔ اس بھاری ICBM کی نمائش کر کے Kremlin اپنی طویل مدتی اسٹریٹجک تیاری اور مغربی ایٹمی طاقتوں کے ساتھ تکنیکی برابری کا پیغام دے رہا ہے، باوجود اس کے کہ 2024 میں ایک تجرباتی دھماکے جیسی ناکامیاں بھی سامنے آئی تھیں۔
میزائل کی کارکردگی کے حوالے سے روسی حکام کے دعوؤں اور مغربی انٹیلیجنس کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔ روس کا دعویٰ ہے کہ Sarmat کی رینج 35,000 کلومیٹر سے زیادہ ہے جو اسے قطب جنوبی کے راستے حملہ کرنے کی صلاحیت دیتی ہے، لیکن CSIS اور مغربی ماہرین کے مطابق اصل رینج تقریباً 18,000 کلومیٹر ہے۔ مزید یہ کہ جہاں Moscow اسے ہر قسم کے دفاعی نظام کے خلاف ناقابل تسخیر قرار دیتا ہے، وہیں مغربی ماہرین اس کی کارکردگی اور سروس میں شمولیت کی ٹائم لائن پر شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔
عوامی ردعمل
اس خبر کا مجموعی تاثر اسٹریٹجک تناؤ اور شکوک و شبہات پر مبنی ہے۔ جہاں روس میں اسے قومی سلامتی کے لیے ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، وہیں عالمی سطح پر اسے ایٹمی دھمکی یا 'nuclear saber-rattling' قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ Kremlin کی یہ فوجی طاقت کی نمائش بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست پر اثر انداز ہونے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔
اہم حقائق
- •روس نے 12 مئی 2026 کو RS-28 Sarmat انٹر کانٹینینٹل بیلسٹک میزائل (ICBM) کا تجربہ کیا تاکہ پرانے سوویت دور کے Voyevoda سسٹم کو تبدیل کیا جا سکے۔
- •RS-28 Sarmat کی لمبائی 35.3 میٹر، چوڑائی 3 میٹر، وزن 208.1 ٹن ہے اور یہ 10 ٹن تک وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
- •روسی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ یہ ایٹمی میزائل 2026 کے آخر تک باقاعدہ طور پر فعال جنگی سروس میں شامل کر لیا جائے گا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔