ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Business & Economy6 مئی، 20261 MIN READ

اے آئی کی غیر معمولی طلب: سام سنگ کی مالیت ایک ٹریلین ڈالر کی تاریخی سطح پر پہنچ گئی

مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور جدید چپس کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث سام سنگ کی مارکیٹ ویلیو ایک ٹریلین ڈالر کی حد عبور کر گئی ہے۔ اس اہم پیش رفت اور امریکہ میں متوقع مینوفیکچرنگ معاہدے سے مغربی ممالک میں مقیم جنوبی ایشیائی ٹیکنالوجی ماہرین کے لیے روزگار کے بے شمار نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

اے آئی کی غیر معمولی طلب: سام سنگ کی مالیت ایک ٹریلین ڈالر کی تاریخی سطح پر پہنچ گئی

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی بے مثال طلب نے عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں ایک نیا سنگِ میل عبور کیا ہے، جس کے تحت جنوبی کوریا کی معروف کمپنی 'سام سنگ' (Samsung) کی کل مالیت ایک ٹریلین ڈالر سے متجاوز ہو گئی ہے۔ بدھ کے روز کمپنی کے حصص میں 10 فیصد سے زائد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس نے اسے تائیوان کی 'ٹی ایس ایم سی' (TSMC) کے بعد یہ اعزاز حاصل کرنے والی دوسری ایشیائی کمپنی بنا دیا ہے۔ گزشتہ ہفتے جاری ہونے والی شاندار مالیاتی رپورٹ کے مطابق، سام سنگ کے منافع میں پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں آٹھ گنا اضافہ ہوا ہے۔ یہ پیش رفت عالمی سطح پر، خاص طور پر خلیجی ممالک اور مغرب میں مقیم جنوبی ایشیائی ٹیکنالوجی ماہرین کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ اس سے ہارڈویئر، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور سافٹ ویئر کی صنعتوں میں ملازمتوں کے نئے اور پرکشش مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

اس تاریخی اضافے کی ایک بڑی وجہ مارکیٹ میں زیرِ گردش وہ خبریں بھی ہیں جن کے مطابق 'ایپل' (Apple) امریکی سرزمین پر اپنے آلات کے لیے چپس تیار کرنے کے سلسلے میں سام سنگ اور 'انٹل' (Intel) کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ عالمی سیمی کنڈکٹر (Semiconductor) سپلائی چین میں ایک بہت بڑی اور اسٹریٹجک تبدیلی ہوگی۔ امریکہ میں مقیم پاکستانی اور دیگر جنوبی ایشیائی تارکینِ وطن کے لیے یہ ایک انتہائی خوش آئند خبر ہے، کیونکہ مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ کے آغاز سے انجینئرنگ، ڈیٹا سائنس اور سپلائی چین مینجمنٹ کے شعبوں میں ہزاروں اعلیٰ تنخواہ والی نوکریاں پیدا ہونے کا قوی امکان ہے۔ اس وقت ایپل مکمل طور پر تائیوان کی ٹی ایس ایم سی پر انحصار کرتا ہے، لیکن امریکی پیداوار کی طرف منتقلی مقامی لیبر مارکیٹ کو نمایاں فروغ دے گی۔

سام سنگ کے موجودہ مالیاتی عروج کے مرکز میں 'ہائی بینڈوتھ میموری' (HBM) نامی جدید چپس ہیں، جو اے آئی سسٹمز کو چلانے کے لیے ناگزیر سمجھی جاتی ہیں۔ اس وقت مارکیٹ میں طلب رسد سے کہیں زیادہ ہے جس کے باعث ان چپس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم، سام سنگ کو اس میدان میں 'ایس کے ہائنکس' (SK Hynix) جیسی حریف کمپنیوں کی جانب سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ عالمی سطح پر مائیکرون (Micron) اور دیگر بڑی کمپنیاں بھی اپنی سرمایہ کاری کا رخ صارفین کی الیکٹرانکس سے موڑ کر اے آئی انفراسٹرکچر کی طرف کر رہی ہیں۔ ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی اس وسیع پیمانے کی سرمایہ کاری کا براہ راست فائدہ عالمی منڈیوں میں کام کرنے والے ان ہزاروں ایشیائی پیشہ ور افراد کو ہو رہا ہے جو ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر اور دیکھ بھال سے وابستہ ہیں۔

ان شاندار کامیابیوں اور ریکارڈ منافع کے باوجود سام سنگ کو اندرونی طور پر کچھ انتظامی اور تزویراتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ کمپنی کے ملازمین، جن میں ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ کئی غیر ملکی کارکنان بھی شامل ہیں، اے آئی سے حاصل ہونے والے غیر معمولی منافع میں اپنا منصفانہ حصہ مانگ رہے ہیں اور رواں ماہ کے آخر میں 18 روزہ ہڑتال کی دھمکی دے چکے ہیں۔ اس کے علاوہ، کمپنی کے اپنے موبائل فون اور ٹی وی ڈویژنز کو اپنی ہی مصنوعات کی تیاری کے لیے اب وہی مہنگی میموری چپس خریدنی پڑ رہی ہیں، جس سے ان کے پیداواری اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اے آئی کے اس دور میں جہاں ایک طرف بے تحاشا مالی فوائد اور ترقی کے مواقع ہیں، وہیں عالمی کارپوریٹ دنیا کو مزدوری کے حقوق اور مساوی معاشی تقسیم کے سنجیدہ مسائل سے بھی باقاعدہ نمٹنا پڑ رہا ہے۔

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

Original Source: TechCrunch (AI Translated)