سعودی حکومت نے وژن 2030 (Vision 2030) کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاری کے نئے قوانین کے نفاذ کا آغاز کیا ہے، جن کا بنیادی مقصد مملکت میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کو فروغ دینا ہے۔ ان نئی اصلاحات کے تحت ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے درمیان فرق کو کم کیا گیا ہے، جس سے بین الاقوامی کمپنیوں اور انفرادی کاروباری شخصیات کے لیے سعودی مارکیٹ میں داخل ہونا مزید آسان ہو گیا ہے۔ اس قانون سازی کے بعد روایتی لائسنسنگ کے طویل طریقہ کار کو جدید اور ڈیجیٹل رجسٹریشن کے عمل سے تبدیل کر دیا گیا ہے۔
ان نئے ضوابط کا براہ راست اور مثبت اثر سعودی عرب میں مقیم لاکھوں پاکستانی، ہندوستانی اور دیگر جنوبی ایشیائی تارکینِ وطن پر پڑے گا۔ ماضی میں بہت سے تارکینِ وطن مقامی شہریوں کی کفالت (Sponsorship) کے تحت غیر رسمی طور پر کاروبار چلاتے تھے، جسے تجارتی پردہ پوشی کے زمرے میں دیکھا جاتا تھا۔ اب، نئے قوانین کی بدولت، جنوبی ایشیائی انویسٹرز (Investors) اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری افراد قانونی طور پر سو فیصد غیر ملکی ملکیت کے ساتھ اپنے کاروبار کو رجسٹر اور آپریٹ کر سکیں گے۔
ماہرینِ اقتصادیات کے مطابق، یہ نیا فریم ورک سٹارٹ اپس (Startups)، وینچر کیپیٹل (Venture Capital) اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں کام کرنے والے افراد کے لیے انتہائی سازگار ہے۔ جنوبی ایشیائی خطے سے تعلق رکھنے والے آئی ٹی (IT) پروفیشنلز اور انجینئرز اب مقامی شراکت دار کے بغیر اپنی کمپنیاں قائم کر سکتے ہیں۔ اس اقدام سے نہ صرف سعودی معیشت کو تنوع ملے گا بلکہ تارکینِ وطن کے لیے کارپوریٹ (Corporate) سطح پر ترقی کرنے اور عالمی سطح پر مسابقت کے بے شمار مواقع بھی فراہم ہوں گے۔
قانون میں کی گئی یہ ترامیم سرمایہ کاروں کو قانونی تحفظ اور مساوی حقوق کی ضمانت دیتی ہیں۔ اس سے قبل غیر ملکی سرمایہ کاروں کو منافع کی منتقلی اور جائیداد کی ملکیت کے حوالے سے بعض پیچیدگیوں کا سامنا تھا، جنہیں اب واضح اور سرمایہ کار دوست بنا دیا گیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں مقیم اردو بولنے والی کمیونٹی کے لیے یہ تبدیلیاں ایک سنہری موقع ہیں، جس کے ذریعے وہ اپنے معاشی مستقبل کو محفوظ بنا کر مملکت کی تیز رفتار معاشی ترقی میں ایک کلیدی اور باوقار کردار ادا کر سکتے ہیں۔
