سینیٹ کمیٹی کا SBP کے ڈپٹی گورنر کی ایک سال سے خالی آسامی پر جواب کا مطالبہ
SBP میں طویل عرصے سے خالی آسامی اعلیٰ سطحی معاشی ٹیلنٹ کی بھرتی کے حوالے سے ایک بڑے قانونی اور سیاسی تعطل کی نشاندہی کرتی ہے۔ اگرچہ وزارت خزانہ اور SB...
This brief is based on reporting of official parliamentary proceedings and highlights the ongoing legislative tension between administrative requirements and nationalist political stances regarding dual-citizen appointments.

تفصیلی جائزہ
SBP میں طویل عرصے سے خالی آسامی اعلیٰ سطحی معاشی ٹیلنٹ کی بھرتی کے حوالے سے ایک بڑے قانونی اور سیاسی تعطل کی نشاندہی کرتی ہے۔ اگرچہ وزارت خزانہ اور SBP کی قیادت ڈاکٹر حسین جیسے تجربہ کار افسران کو برقرار رکھنا چاہتی تھی، لیکن دوہری شہریت سے متعلق قانونی رکاوٹیں ان تقرریوں کی راہ میں حائل رہیں۔ ذرائع کے مطابق، اگرچہ وزارت خزانہ نے 2024 کے آخر میں دوہری شہریت رکھنے والوں کو ان عہدوں پر کام کرنے کی اجازت دینے کے لیے ترامیم تجویز کی تھیں، لیکن کابینہ کے مختلف وزراء نے اس اقدام کو روک دیا، ان کا موقف تھا کہ دوہری شہریت رکھنے والے اکثر اپنی مدت پوری کرنے کے بعد ملک چھوڑ دیتے ہیں، جس سے قومی مفادات سے ان کی طویل مدتی وابستگی پر سوال اٹھتا ہے۔
یہ انتظامی خلا صرف مرکزی بینک تک محدود نہیں بلکہ وزارت خزانہ کے ڈیٹ آفس (Debt Office) تک پھیلا ہوا ہے، جو مالیاتی نگرانی کے اہم اداروں میں عملے کی کمی کے ایک بڑے نظامی مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ سینیٹ کمیٹی کا Exim Bank بل کی منظوری کو وقت کی پابند تقرریوں کی شرط سے جوڑنا، حکومتی تاخیر پر قانون سازوں کی بڑھتی ہوئی مایوسی کو ظاہر کرتا ہے۔ جیسے جیسے پاکستان ریاستی اداروں میں IMF کی سخت اصلاحات پر عمل درآمد کر رہا ہے، ان عہدوں کو پُر کرنے میں ناکامی بین الاقوامی شفافیت اور گورننس کے اہداف کو حاصل کرنے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
عوامی ردعمل
ادارتی لہجہ انتظامیہ کی مبینہ سستی پر قانون سازوں کی بے چینی کی عکاسی کرتا ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے ارکان نے خالی آسامیوں کی ٹھوس وجوہات فراہم کرنے میں وزارت خزانہ کی ناکامی پر واضح عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ ایک طرف مانیٹری پالیسی (Monetary Policy) میں ماہرانہ مہارت کی ضرورت کے پیشِ نظر پیشہ ورانہ عجلت کا احساس ہے، تو دوسری طرف کابینہ کے اندر ایک قوم پرست سیاسی جذبہ موجود ہے جو حساس ریاستی عہدوں پر دوہری شہریت رکھنے والوں کے بارے میں محتاط ہے۔
اہم حقائق
- •State Bank of Pakistan (SBP) میں ڈپٹی گورنر کا عہدہ ڈاکٹر عنایت حسین کی مدت ختم ہونے کے بعد سے گزشتہ 18 ماہ سے خالی پڑا ہے۔
- •State Bank of Pakistan Act کے سیکشن 13 کے تحت دوہری شہریت (Dual Nationality) رکھنے والا کوئی بھی شخص گورنر یا ڈپٹی گورنر کے عہدے کے لیے نااہل ہے۔
- •سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے Exim Bank ترمیمی بل کی منظوری دے دی ہے تاکہ ادارے کو State-Owned Enterprises Act کے مطابق بنایا جا سکے، جو کہ IMF کی ایک شرط تھی۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔