جنوبی کوریا کی حکومت نے ملک میں بڑھتی ہوئی لیبر شارٹیج اور آبادیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر غیر ملکی ورکرز اور بین الاقوامی طلباء کے لیے ویزا پالیسیوں میں نمایاں نرمی کا اعلان کیا ہے۔ نئی ترامیم کے تحت سکلڈ ورکرز اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کے لیے ورک پرمٹ اور ریزیڈنسی ویزا کے حصول کے عمل کو آسان بنایا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے عالمی ٹیلنٹ کو راغب کرنا اور موجودہ غیر ملکی ورک فورس کو طویل مدت تک ملک میں برقرار رکھنا ہے۔
اس نئی پالیسی کا سب سے زیادہ فائدہ ان بین الاقوامی طلباء کو ہوگا جو جنوبی کوریا کی یونیورسٹیوں سے گریجویشن مکمل کر رہے ہیں۔ قبل ازیں، طلباء کو تعلیم مکمل کرنے کے بعد جاب سرچ ویزا کے حصول اور پھر اسے پروفیشنل ویزا میں تبدیل کرنے میں سخت شرائط کا سامنا تھا۔ اب حکومت نے ان رکاوٹوں کو کم کرتے ہوئے انہیں اسٹارٹ اپ (Startup) ایکو سسٹم اور ٹیکنالوجی سیکٹر میں فوری ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کی راہ ہموار کی ہے، تاکہ وہ ملکی معاشی ترقی میں براہ راست کردار ادا کر سکیں۔
جنوبی ایشیائی تارکین وطن، بالخصوص پاکستانی اور انڈین کمیونٹی کے لیے یہ پیش رفت انتہائی خوش آئند ہے۔ جنوبی کوریا کے مینوفیکچرنگ، زراعت اور آئی ٹی (IT) سیکٹرز میں ہزاروں جنوبی ایشیائی ورکرز خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ویزا کیٹیگریز میں اس لچک کے باعث اب ان تارکین وطن کے لیے اپنے عارضی ویزوں کو طویل مدتی یا مستقل رہائش کے ویزوں میں تبدیل کرنا نسبتاً آسان ہو جائے گا۔ اس سے نہ صرف ان کے روزگار کا تحفظ یقینی ہوگا بلکہ ان کے اہل خانہ کے لیے بھی امیگریشن کے نئے راستے کھلیں گے۔
معاشی ماہرین کے مطابق جنوبی کوریا کا یہ فیصلہ گلوبل مارکیٹ میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر تھا۔ دیگر ایشیائی ممالک کے مقابلے میں جنوبی کوریا اپنی ورک فورس کو پرکشش مراعات دینے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس جدید پالیسی کے نفاذ سے جنوبی ایشیائی ممالک سے مزید ہنر مند افراد اور طلباء جنوبی کوریا کا رخ کریں گے، جس سے نہ صرف دوطرفہ معاشی تعلقات مضبوط ہوں گے بلکہ تارکین وطن کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔
