خلیجی خطے میں ایران کے ساتھ جاری جیو پولیٹیکل کشیدگی کے باعث امریکہ نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، چین، بھارت اور یورپی ممالک کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز پر تجارتی اور توانائی کا انحصار کم کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اس اہم بحری گزرگاہ سے دنیا کے تیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے، اور کسی بھی ممکنہ رکاوٹ کی صورت میں عالمی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے ان ممالک نے توانائی کی ترسیل کے لیے متبادل تجارتی راستوں اور پائپ لائنز کی تعمیر پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔
اس نئی حکمتِ عملی کے تحت عالمی طاقتیں لاجسٹکس اور سپلائی چین کے نئے نیٹ ورکس قائم کر رہی ہیں۔ ان منصوبوں میں نئی بندرگاہوں کی توسیع اور زمینی تجارتی راہداریوں کی ترقی شامل ہے تاکہ توانائی کی ترسیل کو بلاتعطل جاری رکھا جا سکے۔ معاشی ماہرین کے مطابق، ان متبادل راستوں کی فعالیت سے نہ صرف عالمی تجارتی منڈیوں میں استحکام آئے گا بلکہ کسی بھی غیر متوقع علاقائی تنازعے کی صورت میں خام تیل کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں بھی خاطر خواہ مدد ملے گی۔
مشرقِ وسطیٰ میں مقیم لاکھوں جنوبی ایشیائی اور بالخصوص اردو بولنے والے تارکینِ وطن کے لیے یہ جیو اسٹریٹجک تبدیلیاں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں نئے میگا پراجیکٹس، ٹرانزٹ کوریڈورز اور بندرگاہوں کی تعمیر سے تعمیرات، انجینئرنگ، آئی ٹی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں روزگار کے بے شمار نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔ اس پیش رفت سے خلیجی ممالک میں کام کرنے والے محنت کشوں اور پیشہ ور افراد کے معاشی تحفظ میں اضافہ ہوگا اور کیریئر کی ترقی کے نئے امکانات میسر آئیں گے۔
مزید برآں، توانائی کی ترسیل کے محفوظ اور متبادل راستوں کی وجہ سے خطے میں ایندھن کی قیمتیں مستحکم رہیں گی، جس سے افراطِ زر کے دباؤ میں کمی آئے گی اور تارکینِ وطن کے روزمرہ کے اخراجات قابو میں رہیں گے۔ ایک مستحکم اور ترقی کرتی ہوئی خلیجی معیشت کے براہِ راست مثبت اثرات پاکستان اور بھارت بھیجے جانے والی ترسیلاتِ زر پر بھی پڑیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ، لاجسٹکس اور سفری راستوں میں استحکام کی بدولت تارکینِ وطن کے لیے اپنے آبائی ممالک کا سفر بھی زیادہ محفوظ اور آسان رہے گا۔
