واچ ڈاگ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے 'گولڈن ڈوم' میزائل شیلڈ پر 1.2 ٹریلین ڈالر کی لاگت آئے گی
'گولڈن ڈوم' کی تجویز امریکہ کی 'قلعہ بندی' والی دفاعی حکمت عملی کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔ اگرچہ مکمل میزائل شیلڈ کا تصور 1980 کی دہائی سے امریکی پالیسی ک...
This brief synthesizes a fiscal projection from the Committee for a Responsible Federal Budget, an independent watchdog, while explicitly attributing cost rebuttals to the Trump campaign to highlight the political and economic debate.

تفصیلی جائزہ
'گولڈن ڈوم' کی تجویز امریکہ کی 'قلعہ بندی' والی دفاعی حکمت عملی کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔ اگرچہ مکمل میزائل شیلڈ کا تصور 1980 کی دہائی سے امریکی پالیسی کا حصہ رہا ہے، لیکن موجودہ تجویز میں شارٹ رینج اور مڈ رینج انٹرسیپٹر ٹیکنالوجی کی جدید پیشرفت کا فائدہ اٹھایا گیا ہے۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ ہائپرسونک میزائلوں اور خطرناک ممالک کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر ملکی تحفظ کے لیے یہ تبدیلی ضروری ہے۔ تاہم، 1.2 ٹریلین ڈالر کا تخمینہ اسے تاریخ کے مہنگے ترین فوجی منصوبوں میں سے ایک بناتا ہے، جس کا مالی بوجھ F-35 پروگرام کے برابر ہے۔
تنازعات کی بنیادی وجہ اس منصوبے کی عملی صلاحیت اور حتمی لاگت ہے۔ CRFB کا دعویٰ ہے کہ 1.2 ٹریلین ڈالر کی رقم ایک حقیقت پسندانہ بنیاد ہے، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی مہم کا کہنا ہے کہ نجی شعبے کی جدت اور حکومتی خریداری کے عمل کو بہتر بنا کر اخراجات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ مزید برآں، بعض دفاعی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ نظام شاید غیر ضروری ہو کیونکہ یہ پینٹاگون کے موجودہ گراؤنڈ بیسڈ مڈکورس ڈیفنس (GMD) سسٹمز کے ساتھ ٹکراتا ہے۔
عوامی ردعمل
اس تخمینے پر عوامی اور ادارتی ردعمل کافی منقسم ہے۔ مالی طور پر قدامت پسند حلقوں اور معاشی ماہرین نے قومی قرضوں میں اس بڑے اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے ایک 'مالیاتی بلیک ہول' قرار دیا ہے۔ اس کے برعکس، قومی سلامتی کے حامی اور سابق صدر کے چاہنے والے اس اخراجات کو قومی خود مختاری میں ایک اہم سرمایہ کاری اور عالمی دشمنوں کے خلاف ایک ضروری رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ یہ بحث بڑی حد تک سیاسی رنگ اختیار کر چکی ہے، جہاں ناقدین اسے 'نمائشی منصوبہ' کہہ رہے ہیں اور حامی اسے 21 ویں صدی کی تکنیکی ضرورت قرار دے رہے ہیں۔
اہم حقائق
- •کمیٹی فار اے ریسپانسبل فیڈرل بجٹ (CRFB) نے ایک تخمینہ جاری کیا ہے جس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے تجویز کردہ قومی میزائل دفاعی نظام پر دس سالوں میں تقریباً 1.2 ٹریلین ڈالر خرچ ہوں گے۔
- •'گولڈن ڈوم' تجویز کا مقصد پورے امریکہ کے لیے ایک جامع اور کثیر الجہتی میزائل دفاعی شیلڈ تیار کرنا ہے، جو اسرائیل کے 'آئرن ڈوم' (Iron Dome) سسٹم سے متاثر ہے۔
- •ان متوقع اخراجات میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ (R&D)، انٹرسیپٹرز کی خریداری، اور ملک بھر میں جدید سینسر نیٹ ورکس اور ریڈار سسٹم کی تنصیب شامل ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔