تعلیمی خودمختاری خطرے میں: Erdogan نے Istanbul Bilgi University بند کر دی
صدر کے ایک حکم نامے نے ترکی کے آخری لبرل تعلیمی قلعوں میں سے ایک کا خاتمہ کر دیا ہے، جس سے 20,000 طلباء ایک ایسی 'مجرمانہ تحقیقات' کے نتیجے میں بے آسرا ہو گئے ہیں جو ریاستی کنٹرول کی بڑھتی ہوئی گرفت کی علامت ہے۔
The draft employs descriptive and loaded terminology to frame the state's administrative closure of the university as an ideological purge, contrasting the official legal justification with the perspectives of the academic community.

""30 سال کی محنت سے بنے ہوئے ایک ادارے کو صرف ایک رات میں بند کر دیا گیا۔""
تفصیلی جائزہ
یونیورسٹی کی بندش ترکی کی ریاست اور نجی، آزاد تعلیمی اداروں کے تعلقات میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔ 'ناکافی' تعلیمی معیار کے مبہم قانون کا سہارا لے کر انتظامیہ نے ان تمام روایتی طریقوں کو نظر انداز کر دیا جو لبرل نصاب اور بین الاقوامی روابط رکھنے والی یونیورسٹیوں کو حاصل ہوتے ہیں۔ یہ قدم تعلیمی معیار سے زیادہ ریاستی طاقت کو مستحکم کرنے کے بارے میں ہے تاکہ کسی بھی ایسے ڈھانچے کو ختم کیا جا سکے جو متبادل سیاسی بیانیے کو جنم دے سکے۔
اگرچہ سرکاری ذرائع، بشمول TRT Haber، اسے طلباء کے تحفظ کے اقدام کے طور پر پیش کر رہے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ 20,000 طلباء کو زبردستی سرکاری ماحول میں منتقل کرنے کے مترادف ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت کاروباری مسائل کو سیاسی صفائے کے لیے بطور ڈھال استعمال کر رہی ہے۔ فائنل امتحانات سے چند ہفتے قبل یہ فیصلہ انتظامی افراتفری پھیلانے اور طلباء کے احتجاج کو دبانے کی ایک سوچی سمجھی چال ہے۔
پس منظر اور تاریخ
2016 کی ناکام بغاوت کے بعد سے ترک حکومت تعلیمی شعبے کے خلاف سخت رویہ اپنائے ہوئے ہے، جسے وہ اپوزیشن کا گڑھ سمجھتی ہے۔ اس دور میں ہزاروں اساتذہ کی برطرفی اور درجنوں نجی اداروں کی بندش دیکھی گئی ہے۔ Bilgi University کی بندش اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے تاکہ اعلیٰ تعلیم کو ریاست کی قوم پرست ترجیحات کے مطابق ڈھالا جا سکے۔
1996 میں قائم ہونے والی Istanbul Bilgi University کبھی ترکی کے لبرل اور یورپی نظریات کی علامت تھی، جو Erasmus Mundus جیسے پروگراموں میں فعال تھی۔ اس کی تباہی ترکی میں تعلیمی تنوع کے خاتمے کا اشارہ ہے، جہاں اب نجی اداروں کی خودمختاری کی جگہ ریاست کا تیار کردہ تعلیمی ماڈل لے رہا ہے۔
عوامی ردعمل
ماحول شدید تناؤ اور انتظامی صدمے کا شکار ہے، جہاں حکومت اسے قانونی ضرورت قرار دے رہی ہے جبکہ تعلیمی حلقے اسے 'سیاسی قتل' کہہ رہے ہیں۔ طلباء کے احتجاج کی ویڈیوز اور قانونی ماہرین کی تنبیہات اس خوف کو ظاہر کر رہی ہیں کہ یہ بندش ترکی میں آزادانہ سوچ کے لیے آخری دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔
اہم حقائق
- •صدر Recep Tayyip Erdogan نے 22 مئی 2026 کو ایک ڈگری جاری کی جس میں Istanbul Bilgi University کا آپریٹنگ لائسنس فوری طور پر منسوخ کر دیا گیا۔
- •اس ادارے میں تقریباً 20,000 طلباء زیرِ تعلیم تھے اور یہ 2025 سے اپنی پیرنٹ کمپنی Can Holdings کے خلاف منی لانڈرنگ اور ٹیکس فراڈ کی تحقیقات کی وجہ سے ریاستی انتظام میں تھا۔
- •ترکی کی کونسل آف ہائر ایجوکیشن نے حکم دیا ہے کہ تمام موجودہ طلباء کو اپنی تعلیم اور جون کے امتحانات مکمل کرنے کے لیے سرکاری Mimar Sinan University منتقل کیا جائے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔