کیلیفورنیا کے محکمہ موٹر وہیکلز نے سلیکن ویلی کے سٹارٹ اپ نیرو (Nuro) کو عوامی سڑکوں پر بغیر ڈرائیور کے لوسڈ گریویٹی (Lucid Gravity) ایس یو ویز کی ٹیسٹنگ کا اجازت نامہ جاری کر دیا ہے۔ یہ گاڑیاں مستقبل میں اوبر (Uber) کی پریمیم روبوٹیکسی (Robotaxi) سروس کے لیے استعمال کی جائیں گی۔ اگرچہ این ویڈیا (Nvidia) اور اوبر کی حمایت یافتہ اس کمپنی نے تاحال ڈرائیور لیس ٹیسٹنگ کا باقاعدہ آغاز نہیں کیا، تاہم توقع ہے کہ رواں سال کے اواخر تک اس پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔ اس پیش رفت کو اٹونومس (Autonomous) گاڑیوں کی صنعت میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکہ، بالخصوص کیلیفورنیا میں مقیم جنوبی ایشیائی اور اردو بولنے والے تارکین وطن کے لیے یہ تکنیکی تبدیلی گہرے معاشی اثرات کی حامل ہے۔ ہزاروں پاکستانی اور دیگر ایشیائی تارکین وطن اپنے روزگار کے لیے اوبر جیسی رائیڈ ہیلنگ ایپس پر انحصار کرتے ہیں۔ ڈرائیور لیس روبوٹیکسی کی آمد روایتی ڈرائیونگ کے پیشے سے وابستہ افراد کے مستقبل کے حوالے سے نئے سوالات جنم دے رہی ہے۔ تاہم، دوسری جانب اس سے سافٹ ویئر انجینئرنگ، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور فلیٹ مینجمنٹ کے شعبوں میں جنوبی ایشیائی آئی ٹی پروفیشنلز کے لیے روزگار کے نئے اور جدید مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔
نیرو کے پاس گزشتہ چھ سالوں سے ڈرائیور لیس پرمٹ موجود تھا، لیکن اس کا اطلاق محض کم رفتار والی ڈیلیوری گاڑیوں پر ہوتا تھا۔ نئی اجازت کے بعد اب کمپنی انسانی ڈرائیور کی موجودگی کے بغیر جدید لوسڈ گاڑیوں کو سڑکوں پر ٹیسٹ کر سکے گی۔ قبل ازیں، جولائی دو ہزار پچیس میں اوبر نے لوسڈ کے ساتھ ایک وسیع معاہدے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت اوبر کی جانب سے پچاس کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری اور کم از کم پینتیس ہزار روبوٹیکسی گاڑیاں خریدنے کی تصدیق کی گئی تھی۔ یہ گاڑیاں نیرو کے اٹونومس سسٹم اور این ویڈیا کے جدید ترین ہارڈ ویئر سے لیس ہوں گی۔
لوسڈ کی یہ جدید گاڑیاں ہائی ریزولوشن کیمروں، سالڈ سٹیٹ لائڈار (LiDAR) سینسرز اور ریڈار ٹیکنالوجی سے مزین ہیں، جو حقیقی ماحول کا درست ادراک کرنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔ لوسڈ کی جانب سے نیرو اور اوبر کو پچھتر انجینئرنگ گاڑیاں فراہم کی جا چکی ہیں جن کی مختلف امریکی شہروں میں ٹیسٹنگ جاری ہے۔ تجارتی بنیادوں پر روبوٹیکسی سروس کا باقاعدہ آغاز دو ہزار چھبیس کے اواخر میں متوقع ہے، تاہم اس سے قبل متعلقہ کمپنیوں کو کیلیفورنیا پبلک یوٹیلٹیز کمیشن سے مزید ریگولیٹری منظوری درکار ہوگی تاکہ وہ باقاعدہ طور پر عوام کے لیے اپنی سفری خدمات پیش کر سکیں۔
