برطانیہ کی 'One In, One Out' پناہ گزین پالیسی ناکام، ڈی پورٹ ہونے والے چھپ کر دوبارہ واپس آنے لگے
برطانوی حکومت کی پناہ گزینوں کو روکنے کی اہم حکمت عملی اندرونی طور پر ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے، کیونکہ ڈی پورٹ کیے گئے پناہ گزین سخت سیکیورٹی کے باوجود انہی اسمگلنگ نیٹ ورکس کے ذریعے واپس آ رہے ہیں جنہیں ختم کرنے کے لیے یہ پالیسی بنائی گئی تھی۔
This report is based on an exclusive investigation by The Guardian featuring anonymous testimony. The bias tags highlight that while the facts are derived from reputable journalism, the narrative maintains a critical stance on UK government policy based on a limited number of unverified individual claims.

"جب مجھے Home Office نے واپس فرانس بھیجا، تو اسمگلروں نے مجھے پکڑ لیا اور مجھ پر اپنے ساتھ کام کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے لگے۔ میں اسمگلروں کے ساتھ کام نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے میں نے انکار کر دیا۔ انہوں نے مجھے اتنا بے دردی سے مارا کہ میرا چہرہ اب بھی زخموں اور نیلوں سے بھرا ہوا ہے۔"
تفصیلی جائزہ
'One In, One Out' معاہدہ انسانی اسمگلروں کا کام روکنے کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن ابتدائی اشارے بتاتے ہیں کہ اس سے خطرناک راستوں پر اسمگلروں کے منافع میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ لاریوں کے سفر نے خطرے کو سمندر سے زمین پر منتقل کر دیا ہے، جبکہ ڈی پورٹ شدہ افراد کی واپسی نگرانی کے نظام کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔
اب طاقت کا توازن حکومت کے بجائے اسمگلروں کے ہاتھ میں چلا گیا ہے جو فرانس کے کیمپوں میں پھنسے مجبور لوگوں کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اسمگلنگ گینگز میں شامل ہونے سے انکار کرنے والوں پر تشدد یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس پالیسی نے غیر ارادی طور پر مجرمانہ نیٹ ورکس کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
دو دہائیوں سے زائد عرصے سے، برطانیہ اور فرانس کی سرحد یورپی ہجرت کی پالیسی کا مرکز رہی ہے، خاص طور پر Calais کی بندرگاہ اور Eurotunnel۔
'One In, One Out' اسکیم برطانوی Home Office کی جانب سے غیر قانونی ہجرت کو روکنے کے لیے کیے گئے سخت اقدامات کا تسلسل ہے۔ اس سے قبل Rwanda پلان اور رائل نیوی کی تعیناتی جیسے متنازع منصوبے بھی سامنے آ چکے ہیں۔
عوامی ردعمل
عوامی اور صحافتی حلقوں میں اس پالیسی پر شدید تقسیم پائی جاتی ہے۔ ناقدین اسے ایک نمائشی ناکامی قرار دے رہے ہیں جو سرحدوں کو محفوظ بنائے بغیر جانوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔
اہم حقائق
- •برطانیہ اور فرانس کے 'One In, One Out' منصوبے کے تحت ڈی پورٹ کیا گیا ایک پناہ گزین لاری کے ذریعے دوبارہ برطانیہ پہنچ گیا ہے اور اس وقت چھپ کر رہ رہا ہے۔
- •اسمگلروں نے اپنے طریقے بدل لیے ہیں؛ اب وہ بیلجیئم سے کام کر رہے ہیں اور فی کس 4,000 سے 5,000 یورو کے عوض لاریوں کا استعمال کر رہے ہیں۔
- •گزشتہ سال کے مقابلے میں انگلش چینل عبور کرنے والوں کی تعداد میں تقریباً ایک تہائی کمی آئی ہے، لیکن حکام اسے پالیسی کی کامیابی کے بجائے خراب موسم کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔