برطانیہ میں نیٹ مائیگریشن میں بڑی کمی، لیبر حکومت کا بارڈر پالیسی پر کنٹرول مضبوط
Keir Starmer کی حکومت کے لیے ایک بڑی کامیابی، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نیٹ مائیگریشن میں 48 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو برطانیہ کے سیاسی اور آبادیاتی منظر نامے میں ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے۔
This brief synthesizes verified data from the UK Office for National Statistics (ONS) and the Home Office, though it adopts a political lens common in mainstream British media by framing statistical shifts as tactical maneuvers against opposition parties.

""مائیگریشن میں اب کمی تو آئی ہے، لیکن معاشی اثرات کا انحصار اس بات پر زیادہ ہے کہ کون آ رہا ہے اور کون نہیں، نہ کہ صرف تعداد پر۔""
تفصیلی جائزہ
یہ بڑی کمی صرف اعداد و شمار کی جیت نہیں ہے بلکہ یہ Reform UK کے انتخابی خطرے کے خلاف ایک سوچی سمجھی دفاعی حکمت عملی ہے۔ ویزا قوانین کو سخت بنا کر، خاص طور پر طلباء کے لواحقین اور غیر یورپی ورکرز کو نشانہ بنا کر، Labour حکومت سرحدوں کے کنٹرول اور خود مختاری کے بیانیے کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم، اس پالیسی کے اپنے خطرات بھی ہیں۔ University of Oxford کی Migration Observatory کے مطابق، معاشی نقصان کا انحصار ان شعبوں پر ہوگا جہاں لیبر کی کمی ہو رہی ہے، جس سے ان صنعتوں میں افرادی قوت کا بحران پیدا ہو سکتا ہے جو پہلے بین الاقوامی ٹیلنٹ پر انحصار کرتی تھیں۔
ہوٹلوں میں پناہ گزینوں کے استعمال میں کمی اور پناہ کی درخواستوں میں 12 فیصد کمی سسٹم کی سختی کو ظاہر کرتی ہے، جہاں درخواستیں منظور ہونے کی شرح 49 فیصد سے گر کر 39 فیصد رہ گئی ہے۔ اگرچہ حکومت اسے نظم و ضبط کی بحالی قرار دیتی ہے، لیکن سیاسی داؤ اب بھی خطرے میں ہے۔ Source 1 کے مطابق 2024 کے اعداد و شمار کو تقریباً آدھا کرنا ایک بڑی کامیابی ہے، جبکہ Source 2 Nigel Farage کی مقبولیت کے خلاف اسے ایک اہم سیاسی میدانِ جنگ قرار دیتا ہے۔ Keir Starmer کے لیے اصل امتحان یہ ہوگا کہ کیا چھوٹی افرادی قوت برطانیہ کے طویل مدتی معاشی ترقی کے اہداف کو پورا کر پائے گی۔
عوامی ردعمل
اس صورتحال پر حکومتی اطمینان اور معاشی خدشات کا ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ Starmer انتظامیہ کے لیے یہ ڈیٹا اپوزیشن کے ان دعوؤں کو غلط ثابت کرنے کے لیے اہم ہے کہ سرحدیں بے قابو ہیں۔ تاہم، عوامی رائے ابھی تک ان اعداد و شمار سے مطابقت نہیں رکھتی؛ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2023 کے 944,000 کے ریکارڈ اضافے کے بعد اتنی بڑی کمی کے باوجود، بہت سے ووٹرز اب بھی سمجھتے ہیں کہ مائیگریشن بڑھ رہی ہے، جو سرکاری ڈیٹا اور عوام کے درمیان اعتماد کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے۔
اہم حقائق
- •دسمبر 2025 کو ختم ہونے والے سال میں برطانیہ میں نیٹ مائیگریشن گر کر 171,000 رہ گئی ہے، جو کہ 2024 میں ریکارڈ کی گئی 331,000 کی تعداد سے 48 فیصد کم ہے۔
- •2025 میں کام کی غرض سے آنے والے غیر یورپی (non-EU) شہریوں میں 47 فیصد کمی آئی، جبکہ 2023 سے اب تک بین الاقوامی طلباء کے اہل خانہ کے داخلے میں 87 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔
- •مارچ 2026 کے آخر تک ہوٹلوں میں ٹھہرائے گئے پناہ گزینوں کی تعداد سالانہ بنیادوں پر 35 فیصد کم ہو کر 20,885 رہ گئی ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔