برطانیہ بھر میں امیگریشن حکام اور متعلقہ اداروں کی جانب سے کی جانے والی حالیہ کارروائیوں کے نتیجے میں ریسٹورنٹس اور کیفیز پر تقریباً 9 ملین پاؤنڈز کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ یہ جرمانے ان کاروباری اداروں پر لگائے گئے ہیں جو قانونی دستاویزات کے بغیر افراد کو ملازمت فراہم کر رہے تھے۔ برطانوی حکومت کی جانب سے اس کریک ڈاؤن کا بنیادی مقصد لیبر مارکیٹ میں شفافیت لانا اور غیر قانونی امیگریشن کے رجحان کی سختی سے حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ اس وسیع تر مہم کے تحت ہاسپٹلٹی سیکٹر (hospitality sector) کو خاص طور پر ہدف بنایا گیا ہے، جہاں ماضی میں غیر قانونی ورکرز کی تعداد عموماً زیادہ پائی گئی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، حکام نے متعدد شہروں میں اچانک چھاپے مار کر سینکڑوں غیر قانونی ورکرز کو حراست میں لیا ہے، جبکہ ان کے آجرین پر فی ورکر بھاری جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔ نئے امیگریشن قوانین کے تحت، کسی بھی غیر ملکی کو ملازمت دینے سے پہلے اس کے کام کرنے کے قانونی حق کی تصدیق کرنا آجر کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اس قانونی تقاضے کو نظر انداز کرنے والے کاروباری اداروں کو نہ صرف مالی جرمانوں کا سامنا ہے، بلکہ ان کے لائسنس کی منسوخی اور کاروباری سرگرمیوں پر فوری پابندی جیسے سنگین نتائج بھی بھگتنے پڑ رہے ہیں۔
اس صورتحال نے برطانیہ میں مقیم جنوبی ایشیائی اور اردو بولنے والے تارکینِ وطن کی کمیونٹی میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔ چونکہ اس کمیونٹی کی ایک بڑی تعداد ریسٹورنٹ، ٹیک اوے اور کیٹرنگ (catering) کے کاروبار سے وابستہ ہے، اس لیے یہ کریک ڈاؤن براہِ راست ان کے معاشی مفادات کو متاثر کر رہا ہے۔ بہت سے پاکستانی اور انڈین نژاد کاروباری مالکان اب نئی بھرتیوں کے حوالے سے انتہائی محتاط ہو گئے ہیں، جس کی وجہ سے قانونی طور پر مقیم ان طلباء اور پارٹ ٹائم ورکرز کے لیے بھی روزگار کے مواقع محدود ہو رہے ہیں جو اپنے ویزا کی شرائط کے تحت صرف محدود گھنٹے کام کرنے کے اہل ہیں۔
ماہرینِ قانون اور کمیونٹی رہنماؤں نے تارکینِ وطن کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ لیبر لاز (labor laws) اور امیگریشن کے ضوابط کی مکمل پاسداری یقینی بنائیں۔ کاروباری مالکان پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے ملازمین کے ریکارڈز کو اپ ڈیٹ رکھیں اور صرف انہی افراد کو ملازمت دیں جن کے پاس برطانیہ میں کام کرنے کا قانونی ویزا اور اجازت نامہ موجود ہو۔ دوسری جانب، روزگار کے متلاشی افراد کے لیے بھی یہ ناگزیر ہو گیا ہے کہ وہ اپنے ویزا اسٹیٹس کے حوالے سے مکمل طور پر شفاف رہیں، تاکہ کسی بھی قانونی پیچیدگی یا ڈیپورٹیشن (deportation) جیسے خطرات سے محفوظ رہا جا سکے۔
