ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Europe & UK5 مئی، 20261 MIN READ

برطانیہ: 'رائس ککر' تنازع پر ملازمت سے نکالی گئی یونیورسٹی کلینر کو 2 لاکھ 60 ہزار پاؤنڈز کا ہرجانہ

برطانوی یونیورسٹی کی ایک کلینر کو طالب علم کے لیے ممنوعہ 'رائس ککر' خریدنے کے الزام میں نوکری سے نکال دیا گیا تھا۔ اب ایمپلائمنٹ ٹربیونل نے اسے غیر منصفانہ برطرفی پر 2 لاکھ 60 ہزار پاؤنڈز ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

برطانیہ: 'رائس ککر' تنازع پر ملازمت سے نکالی گئی یونیورسٹی کلینر کو 2 لاکھ 60 ہزار پاؤنڈز کا ہرجانہ

برطانیہ کی ایک یونیورسٹی میں کام کرنے والی کلینر کو غیر منصفانہ طور پر نوکری سے نکالنے پر 2 لاکھ 60 ہزار پاؤنڈز کا بھاری زرِ تلافی ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب انتظامیہ نے کلینر پر الزام عائد کیا کہ اس نے ایک طالب علم کو 'رائس ککر' (Rice Cooker) خرید کر دیا تھا، جو کہ یونیورسٹی کے ہاسٹل کے حفاظتی قوانین کے تحت مکمل طور پر ممنوع ہے۔ ایمپلائمنٹ ٹربیونل نے اس برطرفی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے خاتون کے حق میں فیصلہ سنایا ہے۔

یہ فیصلہ برطانیہ میں مقیم تارکینِ وطن، بالخصوص جنوبی ایشیائی اور پاکستانی کمیونٹی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جن کی ایک بڑی تعداد کلیننگ، کیٹرنگ اور دیگر سپورٹ اسٹاف کے طور پر مختلف اداروں میں خدمات انجام دیتی ہے۔ اکثر اوقات زبان کی رکاوٹوں اور مزدور قوانین سے عدم واقفیت کی بنا پر تارکینِ وطن ورکرز کو معمولی غلط فہمیوں پر نوکریوں سے فارغ کر دیا جاتا ہے۔ اس فیصلے نے یہ ثابت کیا ہے کہ برطانوی نظامِ عدل اور لیبر قوانین کے تحت محنت کش طبقہ اپنے روزگار کا تحفظ اور کسی بھی انتظامی ناانصافی کے خلاف داد رسی حاصل کر سکتا ہے۔

قانونی کارروائی کے دوران کلینر نے موقف اختیار کیا کہ اس نے قوانین کی دانستہ طور پر کوئی خلاف ورزی نہیں کی تھی، بلکہ اس کا عمل محض ایک طالب علم کی مدد کرنے کی ایک ہمدردانہ کوشش تھی۔ یونیورسٹی کے ضوابط کے مطابق طلباء کی رہائش گاہوں میں آگ لگنے کے خدشات کے پیشِ نظر بعض الیکٹرانک آلات بشمول رائس ککر پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ تاہم، ٹربیونل نے پایا کہ انتظامیہ نے صورتحال کی مکمل اور شفاف تحقیقات کیے بغیر ہی انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے ملازمہ کو ملازمت سے برطرف کر دیا تھا۔

اس کیس کے نتائج نے برطانیہ کے تمام تعلیمی اداروں اور بڑے کارپوریٹ اداروں کے لیے ایک سخت قانونی انتباہ جاری کیا ہے کہ وہ نچلے درجے کے ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائی کرتے وقت طے شدہ ضوابط کو ملحوظ رکھیں۔ ایمپلائمنٹ ٹربیونل کی جانب سے دیا گیا یہ خطیر زرِ تلافی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آجرین (Employers) من مانی کارروائیوں کے ذریعے اپنے ورکرز کا استحصال نہیں کر سکتے۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ عدالتی فیصلہ تارکینِ وطن ورکرز میں اپنے بنیادی حقوق کے حوالے سے ایک نیا شعور بیدار کرے گا۔

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

Original Source: BBC UK (AI Translated)