برطانیہ میں نوجوانوں کی بے روزگاری کا بحران: روزگار کی مدد کے مقابلے میں فلاحی وظائف پر 25 گنا زیادہ اخراجات
حکومت کے اپنے سوشل موبلٹی مشیر کی جانب سے ایک سخت تنقید میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ریاستی نظام بری طرح ناکام ہو چکا ہے، جہاں حکومت فلاحی امداد پر انحصار کو تو بڑھا رہی ہے لیکن ان پروگراموں کو نظر انداز کر رہی ہے جو ایک پوری نسل کو عملی زندگی میں واپس لا سکتے ہیں۔
While the brief is grounded in factual reporting from a high-trust source, it adopts the critical and urgent vocabulary of the social mobility report it summarizes. The analysis provides necessary context by contrasting these findings with official government stances.

"موجودہ نظام بنیادی طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ اسے فعال ہونا چاہیے تھا مگر یہ غیر فعال ہے۔ جب اسے فائدہ مند ہونا چاہیے تھا، یہ الٹا نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔"
تفصیلی جائزہ
مسئلے کی اصل جڑ فعال مداخلت سے ہٹ کر صرف گزارہ کرنے کی پالیسی ہے۔ Alan Milburn کی رپورٹ ایک ایسے خطرناک چکر کی نشاندہی کرتی ہے جہاں Treasury طویل مدتی انسانی سرمائے کی سرمایہ کاری کے بجائے فوری فلاحی ادائیگیوں کو ترجیح دے رہی ہے۔ اس پالیسی نے تقریباً 10 لاکھ شہریوں کو معاشی طور پر غیر فعال بنا دیا ہے، جس سے ایک بڑا مالیاتی بم پیدا ہو رہا ہے کیونکہ 16 سے 24 سال کے نوجوانوں کے لیے وظائف کی لاگت گزشتہ دہائی میں 2.5 ارب پاؤنڈ سے بڑھ کر 4.5 ارب پاؤنڈ ہو گئی ہے۔
اگرچہ Alan Milburn نے موجودہ نظام کو مکمل طور پر ناکام قرار دیا ہے، لیکن Department for Work and Pensions (DWP) اپنے آنے والے Get Britain Working وائٹ پیپر کو حتمی حل کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ یہ صورتحال حکومت کے دعووں اور فنڈنگ میں 45 فیصد کٹوتی کی تلخ حقیقت کے درمیان تضاد کو ظاہر کرتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جب تک 25:1 کے اخراجات کے تناسب کو درست نہیں کیا جاتا، لیبر گورنمنٹ کا یوتھ گارنٹی کا وعدہ صرف ایک کھوکھلا سیاسی ہدف رہے گا۔
پس منظر اور تاریخ
نوجوانوں کے لیے روزگار کی امداد میں کمی کا سراغ 2010 میں متعارف کرائی گئی کفایت شعاری (austerity) کی مہم اور علاقائی ترقیاتی ایجنسیوں کے خاتمے سے ملتا ہے۔ گزشتہ دہائی کے دوران، DWP کی توجہ Universal Credit کے نفاذ پر رہی، جس کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ اس میں نوجوانوں کی پیشہ ورانہ رہنمائی کے بجائے انتظامی کارکردگی کو زیادہ ترجیح دی گئی۔
تاریخی طور پر، برطانیہ نوجوانوں کے لیے مواقع کے حوالے سے علاقائی عدم مساوات کا شکار رہا ہے۔ موجودہ بحران مقامی یوتھ ہبز میں برسوں کی کم سرمایہ کاری اور سینکڑوں کیریئر سروس سینٹرز کی بندش کا نتیجہ ہے، جس سے ایک ایسا خلا پیدا ہوا جسے نجی شعبہ پُر کرنے میں ناکام رہا ہے، خاص طور پر ملک کے سابقہ صنعتی علاقوں میں۔
عوامی ردعمل
تجزیہ کاروں اور میڈیا میں اس حوالے سے شدید تشویش اور غصہ پایا جاتا ہے، اور کئی ماہرین 25:1 کے تناسب کو حکومتی نااہلی کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ عوامی حلقوں میں یہ خوف پایا جاتا ہے کہ ایک پوری نسل کو ایسے فلاحی نظام کی نذر کیا جا رہا ہے جو کوشش کے بجائے سستی کو فروغ دیتا ہے۔ اب مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ چھوٹی موٹی تبدیلیوں کے بجائے پورے ڈھانچے میں اصلاحات لائی جائیں۔
اہم حقائق
- •نوجوانوں کے روزگار کی مدد کے لیے لگائے گئے ہر 1 پاؤنڈ کے مقابلے میں، برطانیہ کی حکومت فلاحی وظائف پر 25 پاؤنڈ خرچ کر رہی ہے۔
- •نوجوانوں کی بے روزگاری کی خدمات پر ہونے والے اخراجات میں مالی سال 2014-15 کے بعد سے حقیقی طور پر 45 فیصد کمی آئی ہے۔
- •برطانیہ میں اس وقت تقریباً 900,000 نوجوان ایسے ہیں جو نہ تو تعلیم حاصل کر رہے ہیں، نہ نوکری کر رہے ہیں اور نہ ہی کسی تربیت میں شامل (NEET) ہیں۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔