ح
سماجی202629 منٹ

بھوت اسکول

جو اسکول کاغذ پر زندہ تھا اور حقیقت میں مردہ — ایک استانی نے درخت کے نیچے اسے دوبارہ سانس دی

مارچ 2026

تعیناتی کا خط جب آیا تو زرنگار نے تین بار پڑھا۔ ضلع دھندکوٹ، تحصیل بارگاہ، سرکاری لڑکیوں کا پرائمری اسکول موضع پیرواہ — یہ نام اس نے پہلے کبھی نہیں سنا تھا۔ اس کے ابا نے عینک ٹھیک کرتے ہوئے کہا: 'یہ کہاں ہے؟' زرنگار نے فون پر نقشہ کھولا — شہر سے سات گھنٹے، آخری تیس کلومیٹر کچی سڑک۔ نقشے پر ایک نقطہ تھا اور اس نقطے کے ارد گرد سبز رنگ — جس کا مطلب تھا کھیت، یعنی لوگ، یعنی بچے، یعنی اسکول۔ زرنگار نے خط تہہ کیا اور کہا: 'ابا، میں جاؤں گی۔'

زرنگار کے ابا ریٹائرڈ کلرک تھے — پورا ریکارڈ ان کی زندگی تھا۔ انہوں نے کہا: 'بیٹی، تعیناتی بدلوا لو — ہمارے شہر میں بھی اسکول ہیں۔' زرنگار کا چہرا سخت ہو گیا: 'ابا، جو اسکول شہر میں ہیں وہاں ٹیچر پہلے سے ہیں — جہاں نہیں ہیں وہاں جانا چاہیے۔' امی نے دوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے کہا: 'تیرے ابا کی بات سن — لڑکیاں اکیلی ایسی جگہ نہیں جاتیں۔'

زرنگار نے ماں کا ہاتھ پکڑا: 'امی، بی ایڈ کے چار سال میں ہمیں بتایا گیا تھا کہ تعلیم ہر بچے کا حق ہے — اگر میں نہیں گئی تو یہ بات جھوٹی ہو جائے گی۔' ابا نے آہستہ سے عینک اتاری: 'مطلب جائے گی — یہ تو طے ہے۔' زرنگار نے سر ہلایا۔ ابا نے لمبی سانس لی: 'اچھا — تو جب وہاں کی مٹی پاؤں جلائے، تو یاد رکھنا، واپسی کا راستہ ہمیشہ کھلا ہے۔'

سات گھنٹے کی سواری — پہلے بس، پھر ویگن، پھر ایک ٹریکٹر ٹرالی جس میں بیس بوریاں گندم کی اور ایک زرنگار بیٹھی تھی۔ ٹریکٹر والے نے پوچھا: 'بی بی، پیرواہ کون جاتا ہے پڑھانے؟' زرنگار نے کہا: 'میں جا رہی ہوں۔' ٹریکٹر والے نے عجیب نظروں سے دیکھا: 'اسکول والے اسکول؟' زرنگار بولی: 'جی، سرکاری لڑکیوں کا پرائمری اسکول۔' ٹریکٹر والا ہنسا — ایسے جیسے کسی نے مذاق سنایا ہو — لیکن کچھ بولا نہیں۔

پیرواہ ایک سو پچاس گھروں کا گاؤں تھا — ہر طرف نہریں، کھیت، اور بھینسیں۔ گاؤں کے بیچ میں ایک بڑا گھر تھا جس کی دیوار اونچی تھی اور دروازے پر دو کرسیاں پڑی تھیں۔ زرنگار نے ایک عورت سے راستہ پوچھا: 'بہن، اسکول کہاں ہے؟' عورت نے سر پر گھڑا ٹھیک کیا: 'کون سا اسکول؟' زرنگار نے کہا: 'سرکاری لڑکیوں کا — پرائمری۔' عورت نے ادھر ادھر دیکھا، جیسے سوچ رہی ہو: 'وہ جو سردار صاحب کی حویلی کے پیچھے ہے — وہاں تو کوئی نہیں جاتا، بی بی۔'

اسکول کی عمارت گاؤں کے کنارے پر تھی — سفید دیواریں، نیلا گیٹ، دیوار پر بورڈ: 'سرکاری لڑکیوں کا پرائمری اسکول، موضع پیرواہ، قائم شدہ: دو ہزار چودہ۔' بورڈ نیا تھا، پینٹ تازہ، حروف صاف — جیسے کل ہی لگایا گیا ہو۔ زرنگار نے گیٹ دھکیلا۔ گیٹ کھلا۔ اندر صحن میں تین بھینسیں کھڑی تھیں، ایک کمرے سے بھوسے کی بو آ رہی تھی، دوسرے کمرے میں ٹوٹے ہوئے فرنیچر پر کسی نے چارپائی بچھا رکھی تھی۔ تیسرے کمرے کا دروازہ بند تھا — تالا زنگ آلود۔ بلیک بورڈ دیوار سے لگا ہوا تھا، اس پر کسی نے چاک سے لکھا تھا: 'سردار صاحب کا مال — ہاتھ نہ لگانا۔'

زرنگار دیر تک صحن میں کھڑی رہی۔ ایک بھینس نے اس کی طرف دیکھا اور پھر سر جھکا کر چارہ کھانے لگی۔ زرنگار کے ہاتھ میں تعیناتی کا خط تھا — جس پر لکھا تھا کہ اس اسکول میں پانچ کمرے ہیں، دو سو بچیاں رجسٹرڈ ہیں، تین ٹیچر تعینات ہیں۔ پانچ کمروں میں سے تین بھینسوں کے قبضے میں تھے۔ دو سو بچیاں کہیں نظر نہیں آ رہی تھیں۔ اور تین ٹیچروں میں سے — ایک زرنگار تھی جو ابھی پہنچی تھی۔

شام کو زرنگار نے گاؤں کی ایک عورت شکیلاں کے گھر قیام کیا — شکیلاں کا گھر اسکول سے قریب تھا اور اس کے تین بچے تھے۔ زرنگار نے پوچھا: 'شکیلاں بی بی، آپ کے بچے اسکول جاتے ہیں؟' شکیلاں نے روٹی پکاتے ہوئے ہنسی دبائی: 'کون سا اسکول، بی بی؟ وہ جس میں بھینسیں رہتی ہیں؟' زرنگار خاموش رہی۔ شکیلاں نے تندور سے روٹی نکالتے ہوئے کہا: 'یہاں بچے کھیتوں میں جاتے ہیں — اسکول تو بس نام کا ہے۔'

زرنگار نے پوچھا: 'اور جو ٹیچر پہلے سے تعینات ہیں — وہ کہاں ہیں؟' شکیلاں نے آگ پر نظر رکھتے ہوئے کہا: 'طیب ماسٹر — مہینے میں ایک بار آتے ہیں۔ انگوٹھا لگاتے ہیں کسی مشین پر، رجسٹر پر دستخط کرتے ہیں، سردار صاحب سے ملتے ہیں — اور واپس شہر چلے جاتے ہیں۔ دوسری ٹیچر کا نام ہے — لیکن وہ تو کبھی آئی ہی نہیں، شاید ہے بھی یا نہیں — اللہ جانے۔'

رات کو زرنگار چارپائی پر لیٹی رہی — آسمان صاف تھا، تارے اتنے قریب جیسے ہاتھ بڑھا کر توڑ لو۔ شکیلاں کی بچی جمیلاں — سات سال کی — باہر آئی: 'بی بی، آپ ٹیچر ہیں نا؟' زرنگار نے مسکرا کر کہا: 'ہاں۔' جمیلاں نے انگلی سے زمین پر کچھ لکیریں کھینچیں: 'مجھے لکھنا سکھاؤ گی؟' زرنگار نے اس کی زمین پر بنائی ہوئی لکیریں دیکھیں — بے ترتیب لیکن کوشش واضح۔ 'ضرور سکھاؤں گی۔' جمیلاں اچھلتی ہوئی اندر چلی گئی اور اپنی ماں سے بولی: 'امی، بی بی نے ہاں کہہ دی!'

اگلی صبح زرنگار اسکول گئی — اس بار ارادے کے ساتھ۔ صحن میں بھینسیں وہی تھیں۔ زرنگار نے بلیک بورڈ پر سے 'سردار صاحب کا مال' مٹایا اور اس پر لکھا: 'الف — انار۔' ابھی دوسرا حرف لکھنے والی تھی کہ پیچھے سے آواز آئی: 'بی بی، یہ کیا کر رہی ہیں؟'

زرنگار نے مڑ کر دیکھا — ایک آدمی تھا، پچاس کے قریب عمر، سفید شلوار قمیص، چپل، تھکی ہوئی آنکھیں۔ اس نے اپنا تعارف کرایا: 'میں طیب ہوں — یہاں کا ماسٹر۔ آپ نئی ٹیچر ہیں؟' زرنگار نے کہا: 'جی — زرنگار۔ آج سے یہاں تعینات ہوں۔' طیب ماسٹر نے صحن میں بھینسوں کو دیکھا اور پھر زرنگار کو — جیسے فیصلہ کر رہا ہو کہ اسے سچ بتائے یا نہیں۔

طیب نے آہستہ سے کہا: 'بی بی، میں آپ کو ایک بات بتاتا ہوں — دل پر نہ لیجیے گا۔ یہ اسکول چلتا نہیں — یہ صرف کاغذوں پر چلتا ہے۔ رجسٹر بھرے ہوئے ہیں، حاضری لگتی ہے، رپورٹیں جاتی ہیں — سب کاغذ پر۔ حقیقت میں یہاں کوئی نہیں پڑھتا، کوئی نہیں پڑھاتا۔'

زرنگار نے پوچھا: 'اور آپ — آپ بھی نہیں پڑھاتے؟' طیب نے نظریں جھکا لیں — ایک لمحے کی خاموشی جو بہت کچھ کہہ گئی۔ پھر بولا: 'بی بی، میری تعیناتی اٹھارہ سال پہلے ہوئی تھی۔ پہلے سال میں نے پڑھایا — سچ میں پڑھایا۔ بچے آتے تھے، بیٹھتے تھے۔ پھر سردار صاحب نے کہا کہ لڑکیوں کو پڑھانے کی ضرورت نہیں، عمارت میرے کام کی ہے۔ میں نے ضلعی دفتر میں شکایت کی — شکایت واپس آئی، سردار صاحب کے دستخط کے ساتھ۔ پتا چلا شکایت سردار صاحب کے بھانجے کو گئی تھی جو اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہے۔'

طیب نے لمبی سانس لی: 'اس کے بعد سب سمجھ آ گیا — یہاں سب ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔ اسکول کا بجٹ آتا ہے، تنخواہیں نکلتی ہیں، انسپکشن ہوتی ہے — سب کاغذ پر۔ کوئی سوال نہیں پوچھتا کیونکہ سوال پوچھنے والے کا تبادلہ ہو جاتا ہے — ایسی جگہ جہاں سے واپسی نہیں ہوتی۔' زرنگار نے اس کی آنکھوں میں دیکھا — وہاں غصہ نہیں تھا، صرف تھکاوٹ تھی۔ اٹھارہ سال کی تھکاوٹ۔

زرنگار نے کہا: 'طیب صاحب — آپ تنخواہ لیتے ہیں بغیر پڑھائے؟' طیب نے سر اٹھایا — اس کے چہرے پر شرم اور درد دونوں تھے: 'بی بی، میرے گھر میں بوڑھی ماں ہے، بیوی ہے، تین بچے ہیں — تنخواہ بند ہو جائے تو کھائیں کیا؟ میں نے کوشش کی تھی — مجھ پر کیس کرنے کی دھمکی دی گئی، تبادلے کی دھمکی دی گئی۔ آخر میں سمجھوتہ ہو گیا — میں مہینے میں ایک بار آ کر بائیومیٹرک لگا دیتا ہوں، رجسٹر بھر دیتا ہوں — باقی شہر میں ٹیوشن پڑھاتا ہوں۔ غلط ہے — مجھے معلوم ہے غلط ہے — لیکن بی بی، غلط تو سب کچھ ہے یہاں۔'

زرنگار خاموش رہی۔ طیب کے چہرے پر وہ تکلیف تھی جو ان لوگوں کے چہرے پر ہوتی ہے جنہوں نے ایک دن ہار مان لی تھی اور اس ہار کے ساتھ جینا سیکھ لیا تھا۔ وہ برا آدمی نہیں تھا — وہ ایک اچھا آدمی تھا جسے ایک بری مشین نے پیس دیا تھا۔ زرنگار نے پوچھا: 'اور سردار صاحب — وہ کون ہیں؟'

🔒

مکمل کہانی پڑھیں

اپنا ای میل درج کریں اور ہر ہفتے مکمل کہانیاں مفت حاصل کریں

مفت — کوئی سپیم نہیں — کبھی بھی ان سبسکرائب