
مجھے حوالہ چاہیے: عقیدہ، ثقافت اور گھر میں اختیار
برطانیہ میں مقیم بعض پاکستانی گھرانوں میں بحث اب برطانیہ کے بارے میں نہیں رہی، بلکہ اس بات پر ہے کہ اسلام کے تقاضے طے کرنے کا حق کس کے پاس ہے۔
دس برٹش پاکستانی خاندانوں کے انٹرویوز کے متن میں ایک ماں اپنے جوان بچوں کا ذکر کرتی ہے۔ وہ غصے میں نہیں، بلکہ ایسے بات کر رہی ہے جیسے موسم کا حال سنا رہی ہو۔ وہ کہتی ہے، ”وہ ہر چیز پر سوال اٹھاتے ہیں۔ ہر چیز مستند ہونی چاہیے۔“ یہ جملہ خاموشی سے بہت کچھ کہہ جاتا ہے۔ اس کے بچے یہ نہیں کہہ رہے کہ وہ نماز پڑھنا چھوڑ دے۔ وہ بس اس سے ثبوت مانگتے ہیں۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ جو کام وہ ان کی پیدائش سے بھی پہلے ہر سال کرتی آ رہی ہے، اس کے پیچھے کون سی قرآنی آیت یا حدیث ہے۔ یہ وہ رواج ہے جو اس کی اپنی ماں نے ایک ایسے گاؤں میں نبھایا تھا جس کی صورت بھی اب اسے بمشکل یاد ہے۔ یہ مطالبہ بظاہر بہت شائستہ ہے، مگر اپنی جگہ خاندان کے اندر بغاوت ہے۔
یہ گفتگو لاہور کی انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے ڈاکٹر ذیشان رفیق اور یونیورسٹی آف ایڈنبرا کی پروفیسر سوزن ڈنیٹ کی تحقیق کا حصہ ہے۔ یہ تحقیق مارچ 2025 میں جریدے Marketing Theory میں شائع ہوئی۔ اس کی بنیاد تین نسلوں پر مشتمل 10 برٹش پاکستانی خاندانوں کے 27 افراد کے انٹرویوز ہیں۔ نتائج عام توقع کے برعکس ہیں۔ بیرونِ ملک آباد برادریوں کی عام کہانی یہ ہے کہ بچے میزبان ملک کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں، جبکہ والدین آبائی وطن سے جڑے رہتے ہیں۔ لیکن رفیق اور ڈنیٹ نے کچھ اور دیکھا۔ بعض نوجوانوں نے مذہب کا سہارا اپنے والدین کی پاکستانی روایات کو بچانے کے لیے نہیں، بلکہ انہیں پرکھنے کے لیے لیا۔ اسلام ان رواجوں کو جانچنے کا پیمانہ بن جاتا ہے، اور یہی رواج کٹہرے میں کھڑے ہوتے ہیں۔
یہ تنازعات اتنے چھوٹے اور گھریلو ہیں کہ باہر سے دکھائی نہیں دیتے۔ مثلاً، کیا گھر میں محفلِ میلاد ہونی چاہیے؟ کیا لاہور یا میرپور کے سفر میں کسی مزار پر جانا چاہیے؟ کیا مہندی میں گانا بجانا اور رقص ہونا چاہیے، اور کیا خالائیں اور پھوپھیاں مردوں کے سامنے ناچ سکتی ہیں؟ بچوں کو مذہبی تعلیم اردو میں دی جائے، پنجابی میں، یا عربی اصطلاحات والی انگریزی میں؟ ان میں سے کوئی بحث بھی برطانیہ سے متعلق نہیں۔ یہ اختیار کی جنگ ہے: فیصلہ یہ ہونا ہے کہ بریڈفورڈ یا سمال ہیتھ میں کسی منگل کی شام اسلام کی کون سی تعبیر پر عمل ہو گا۔
وہ تبدیلی جو بظاہر نقصان، مگر دراصل منزل معلوم ہوتی ہے
یہ محض خاندانی جھگڑا نہیں۔ نوجوان نسل کو اپنی نسلی روایات ترک کرنا مغربی بننے کے مترادف نہیں لگتا۔ رفیق اور ڈنیٹ کی تحقیق میں شامل دوسری نسل کی ایک خاتون، جسے انیلا کا فرضی نام دیا گیا ہے، کہتی ہے کہ وہ پاکستانی ثقافت سے آگے دیکھنا چاہتی ہے کیونکہ اسے ایسی مسلم ثقافت چاہیے جس کا ہر شخص حصہ بن سکے۔ یہ روایات سے انکار نہیں، کسی بڑی برادری میں شمولیت کی خواہش ہے۔ پاکستانیت کا دائرہ محدود ہے، جبکہ عالمی امت بہت وسیع ہے۔ اس میں صومالی، ملائیشین، ترک، نو مسلم سفید فام اور یونیورسٹی کی اسلامی سوسائٹی کے مختلف ملکوں سے آئے لوگ شامل ہیں۔ جس نوجوان کے والدین کی دنیا برادری اور گاؤں کے ان رشتوں تک محدود رہی ہو جنہیں اس نے کبھی دیکھا ہی نہیں، اسے یہ سودا برا نہیں لگتا۔ پرانا بوجھ اتاریں اور پوری دنیا حاصل کر لیں۔
یہ تبدیلی محض گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں۔ یونیورسٹی آف پنسلوانیا میں ہجرت اور تعلیم پر تحقیق کرنے والی ڈاکٹر آمنہ غفار-کوچر نے محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے پاکستانی نژاد امریکی نوجوانوں میں ایک عمل دیکھا ہے، جسے وہ religification کہتی ہیں۔ اس عمل میں نسل یا قومیت کے بجائے مذہب انسان کی شناخت کی بنیادی اکائی بن جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ شناخت ان نوجوانوں پر مسلط بھی کی جاتی ہے، کیونکہ لوگ اکثر پوچھتے ہیں کہ کیا وہ واقعی اس معاشرے کا حصہ ہیں۔ لیکن نوجوان خود بھی برادری سے تعلق اور سیاسی شناخت حاصل کرنے کے لیے اسے خوشی سے اپناتے ہیں۔ یہ فرق اہم ہے۔ جو نوجوان خود کو سب سے پہلے مسلمان کہنا شروع کرتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ پہلے سے زیادہ مذہبی ہو رہا ہو۔ ممکن ہے وہ بس اس نظر کو زیادہ درست انداز میں بیان کر رہا ہو جس سے معاشرہ اسے پہلے ہی دیکھتا ہے۔
برطانیہ کے اعداد و شمار بھی اس پہلو کی تائید کرتے ہیں۔ مارچ 2025 میں انسٹی ٹیوٹ فار اسلامک فیتھ اینڈ لیڈرشپ کے 815 بالغ برطانوی مسلمانوں پر کیے گئے ایک سروے سے معلوم ہوا کہ 78% لوگ برطانیہ کو فرانس، جرمنی اور ہالینڈ کی نسبت مسلم روایات اور عوامی زندگی کے لیے زیادہ سازگار سمجھتے ہیں۔ اسے بیگانگی کی تصویر نہیں کہا جا سکتا۔ اسی رپورٹ میں بتایا گیا کہ سفید فام مسلمانوں کی نسبت ایشیائی، سیاہ فام اور مخلوط نسل کے جواب دہندگان میں خود کو برطانوی سے پہلے مسلمان کہلوانے کا رجحان زیادہ تھا۔ رپورٹ نے اس کی ایک وجہ معاشرتی تنہائی کو قرار دیا۔ دوسری طرف، مارچ 2025 کو ختم ہونے والے سال کے ہوم آفس کے اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں 0.8% بالغ مسلمان مذہبی نفرت پر مبنی جرائم کا نشانہ بنے، جبکہ مجموعی شرح 0.1% تھی۔ ایسے تقریباً 38,000 واقعات رپورٹ ہوئے۔ معاشرے سے لگاؤ اور خطرے کا احساس ساتھ ساتھ ہونا کوئی تضاد نہیں۔ یہ موجودہ حالات کی حقیقت ہے۔
لفظ ”ثقافت“ کی آڑ میں کیا کچھ رد کر دیا جاتا ہے
یہاں آ کر معاملہ بدل جاتا ہے۔ گھر کی چار دیواری میں جب کوئی بچہ حوالہ مانگتا ہے تو اسے محض علمی سوال نہیں سمجھا جاتا۔ اسے مر چکے لوگوں کے بارے میں ایک فیصلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ وہ دادی جس نے ہجرت کے کٹھن سفر میں خاندان کو جوڑے رکھا، عید پر اجنبیوں کو کھانا کھلایا اور اپنی واحد زبان میں وہ سب پڑھا جو اسے سکھایا گیا تھا، اسے گویا ماضی میں جا کر بتایا جا رہا ہوتا ہے کہ اس کے بعض اعمال عقیدہ نہیں، محض ثقافت تھے۔ یعنی وہ سب غیر ضروری، اور شاید باعثِ شرمندگی تھا۔ کوئی یہ بات زبان سے نہ بھی کہے، والدین کو اس میں اپنے عقیدے کی خرابی کا طعنہ سنائی دیتا ہے۔ اصل اور مستند ہونے کی اس بحث میں خاصی کاٹ ہے، اور جنوبی ایشیا کے مسلمانوں میں اس کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ ان روایات کو ہندوؤں کی باقیات، گاؤں کی توہم پرستی یا ایسی چیزیں کہہ کر مسترد کر دیا جاتا ہے جو کسی کتابی دلیل کے سامنے نہیں ٹک سکتیں۔
”میں روادار اور غیر روادار معاشروں کی اس سادہ سی تقسیم کو چیلنج کرنا چاہتا تھا۔“ہارون خالد
ہارون خالد نے پاکستان کے مزارات اور اقلیتوں پر اپنی کتابوں کے تناظر میں Scroll کے لیے ایک مضمون لکھا ہے۔ وہ برسوں سے یہ دستاویزی شکل دیتے آئے ہیں کہ روادار اور غیر روادار کی یہ سادہ تقسیم کن چیزوں کو مٹا دیتی ہے: پنجابی لوک روایات، صوفیانہ عقیدت، شیعہ رسومات، وہ مشترکہ مقامات جہاں مسلمان اور غیر مسلم دونوں چڑھاوے چڑھاتے تھے، اور وہ تہہ در تہہ مذہبی نقشہ جو یک رنگ قومی بیانیے کے لیے دردِ سر بن جاتا ہے۔ ان کے بیان کردہ مزارات اس تنگ نظر تصور کو چیلنج کرتے ہیں کہ مسلم معاشرہ کیسا ہونا چاہیے۔ اس کے برعکس برمنگھم کے ایک ڈرائنگ روم کا تصور کریں، جہاں بحث ختم کرنے کے لیے کہہ دیا جاتا ہے: ”یہ تو بس کلچر ہے۔“ یہ جملہ مذہب کی تطہیر کے دعوے سے زیادہ پاکستان کے بارے میں ایک بہت پرانی بحث معلوم ہوتا ہے۔ یہی بحث برطانوی لہجے میں بولنے والے وہ لوگ دوبارہ چھیڑ رہے ہیں جنہیں کبھی اردو میں کسی دیوبندی چچا کے سامنے اپنی بریلوی دادی کا دفاع نہیں کرنا پڑا۔
وہ 56 نوجوان جنہوں نے اس بیانیے کو ماننے سے انکار کر دیا
اس ساری بحث پر سب سے جائز اعتراض اس کے محدود پیمانے کا ہے۔ 10 خاندانوں کے 27 افراد گھروں میں ہونے والے کسی عمل کا ثبوت تو ہو سکتے ہیں، مگر یہ پوری نسل کا سروے نہیں۔ رفیق اور ڈنیٹ خود بھی یہ بات تسلیم کرتے ہیں اور خبردار کرتے ہیں کہ ان کے شرکا کو تمام برطانوی مسلمانوں کا نمائندہ نہ سمجھا جائے۔ اس کے برعکس ایک بڑی میدانی تحقیق کچھ اور کہانی سناتی ہے۔ نارتھمبریا یونیورسٹی کی ڈاکٹر نفیسہ علی اور ان کے ساتھیوں نے جون 2016 سے مئی 2018 کے درمیان یارکشائر، گلاسگو اور نیوکاسل میں 16 سے 30 سال کی عمر کے 56 برٹش پاکستانی مسلمانوں کے انٹرویوز کیے۔ ڈاکٹر علی نے یہ انٹرویوز خود ایک برٹش پاکستانی مسلمان خاتون کی حیثیت سے کیے، اس لیے شرکا نے بناوٹ نہیں برتی۔ اس عام بیانیے کے بارے میں ان کا نتیجہ دو ٹوک تھا کہ نوجوان پاکستانیت چھوڑ کر یا تو برطانوی بن رہے ہیں یا خالص مسلمان: یہ بات زیادہ سے زیادہ آدھا سچ ہے۔
اس کے بجائے ڈاکٹر علی کی تحقیق کے شرکا نے اپنے ورثے سے کام لیا۔ میرپور، کشمیر، برادری کے فرائض، علاقائی تاریخ اور جہلم میں رہنے والے کسی کزن کی رائے، ان سب کو انہوں نے پتھر پر لکیر ماننے کے بجائے اپنے کام آنے والے وسیلے سمجھا۔ شادی، قربت، آزادی اور کیسا انسان بننا ہے، ان معاملات میں نوجوانوں نے اپنے طور پر اس ورثے سے انتخاب کیا۔ کوئی نوجوان طے شدہ شادی سے انکار کے باوجود اپنی ماں کو راضی کرنے کے لیے پاکستانی برادری کی زبان بخوبی استعمال کر سکتا ہے۔ یہاں ثقافتی ورثہ کسی اصول کے بجائے عملی وسیلہ بن جاتا ہے۔ یوں یہ ورثہ کمزور بھی پڑتا ہے اور باقی بھی رہتا ہے۔
”میں اس نسل سے ہوں جہاں میں اپنے برطانوی ہونے کو بھی کھلے دل سے تسلیم کرتی ہوں اور اپنے پاکستانی ورثے کو بھی اپناتی ہوں۔“مریم وحید
برمنگھم سے تعلق رکھنے والی فوٹوگرافر مریم وحید کا کام خواتین کی زندگی، ہجرت اور وطن کے گرد گھومتا ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ 2019 میں جب وہ پہلی بار پاکستان گئیں تو یہ جگہ انہیں بالکل اجنبی لگی۔ لیکن اس اجنبیت میں کوئی دکھ نہیں تھا، کیونکہ انہیں اپنے پن کی کمی نہیں تھی: ان کے پاس برطانیہ تھا۔ لاہور میں اجنبیت کا یہ احساس ان کے لیے نیا تجربہ تھا، صدمہ نہیں۔ ان کی بات اس مفروضے کو بالکل رد کر دیتی ہے کہ بیرونِ ملک آباد خاندانوں کے ہر بچے کو آبائی وطن، عقیدے اور موجودہ ملک میں سے صرف ایک کو چن کر اسی سے وابستہ رہنا پڑتا ہے۔
یہ بات ہمیں پھر اسی ماں اور اسے لاجواب کر دینے والے بچوں کی طرف لے جاتی ہے۔ ایک وجہ ہے کہ وہ حوالہ ہی کیوں مانگتے ہیں۔ لکھی ہوئی بات آسانی سے سفر کرتی ہے: ہاتھ کے سامان میں رکھی جا سکتی ہے، فون میں ڈاؤن لوڈ ہو سکتی ہے، اور قاہرہ یا ٹورنٹو میں بیٹھا کوئی اجنبی بھی اس کی تصدیق کر سکتا ہے۔ مزار سفر نہیں کر سکتا۔ اس عورت کا اختیار بھی اس طرح منتقل نہیں ہو سکتا، جب اس کی دلیل بس یہ ہو کہ اس کی ماں فلاں کام اسی طرح کرتی تھی، وہ بھی ایسی جگہ جہاں اب خاندان کا کوئی شخص نہیں جاتا۔ حوالہ مانگنے والے بچوں نے کوئی نیا مذہبی تصور ایجاد نہیں کیا۔ انہوں نے خود کو ایک ایسی دنیا کے مطابق ڈھال لیا ہے جہاں صرف وہی ثبوت قابلِ قبول ہے جسے جیب میں رکھا جا سکے۔ اس دنیا میں سب سے پہلے زبانی گواہی رد ہوتی ہے۔ رفیق اور ڈنیٹ کا سب سے حیران کن مشاہدہ یہ ہے کہ بعض والدین بھی اس تبدیلی کو مان لیتے ہیں اور اپنی اولاد سے دین کو نئے سرے سے سمجھتے ہیں۔ ممکن ہے کسی خاندان میں میلاد کی محفل خاموشی سے ختم ہو جائے اور کوئی اس کی آخری محفل کا ذکر تک نہ کرے۔ کچن میں چلنے والی یہ بحث اس سوال کا جواب تو دے سکتی ہے کہ اس رسم کے پیچھے کوئی حدیث ہے یا نہیں۔ لیکن اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں کہ کیا آپ کی دادی کی محبت بھی کسی بات کی دلیل ہو سکتی ہے؟