
پاکستان کا بجٹ: سالانہ رسم بمقابلہ فیصلہ کن موڑ
ٹیکسوں اور خساروں کی سرخیوں سے پرے، پاکستان کی معاشی بقا کے لیے ایک خاموش اور ساختی جنگ جاری ہے۔
ہر سال، تقریباً اسی وقت، ہم ایک قومی رسم میں حصہ لیتے ہیں۔ وزیر خزانہ ہاتھ میں بریف کیس لیے کھڑے ہوتے ہیں، اور چند گھنٹوں کے لیے ہم سب ماہرِ معیشت بن جاتے ہیں۔ ہم دودھ کی قیمت، تنخواہوں پر ٹیکس، اور بجٹ خسارے کے اعداد و شمار پر بحث کرتے ہیں۔ نیوز چینلز کی سکرینیں روشن ہو جاتی ہیں، سرخیاں چیختی ہیں، اور پھر، چند ہفتوں بعد، یہ شور تھم جاتا ہے۔ ہم آگے بڑھ جاتے ہیں۔ لیکن کیا ہو اگر اس سال کچھ مختلف ہو؟ کیا ہو اگر اس سالانہ رسم کے شور کے نیچے، ایک کہیں زیادہ اہم، ساختی تبدیلی کا فیصلہ کن مرحلہ طے پا رہا ہو؟
اسے سمجھنے کے لیے، ہمیں پہلے ایک تلخ حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا۔ یہ بجٹ، پچھلے کئی بجٹوں کی طرح، مستقبل کے لیے کوئی اسٹریٹجک وژن نہیں ہے۔ یہ معیشت کو مستحکم کرنے کی ایک کوشش ہے۔ یہ ایک ہنگامی اقدام ہے جو آئی ایم ایف سے ایک اور بیل آؤٹ حاصل کرنے اور ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ جیسا کہ اٹلانٹک کونسل کے تجزیہ کار عزیر یونس اکثر دلیل دیتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت بیرونی فنانسنگ کی ضروریات، کم شرح نمو اور اشرافیہ کے قبضے کے ایک 'مسلسل بحران کے چکر' میں پھنسی ہوئی ہے۔ اصل مسئلہ صرف ایک سال کا خسارہ نہیں، بلکہ پائیدار آمدنی پیدا کرنے، ٹیکس کا دائرہ کار وسیع کرنے، اور خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی اصلاح کرنے میں دائمی ناکامی ہے۔
اعداد و شمار ایک واضح کہانی سناتے ہیں۔ پاکستان میں ٹیکس اور جی ڈی پی کا تناسب 9 سے 10 فیصد کے درمیان اٹکا ہوا ہے، جو خطے میں سب سے کم شرحوں میں سے ایک ہے۔ معیشت کا ایک بہت بڑا حصہ—خاص طور پر رئیل اسٹیٹ، ریٹیل اور زراعت—یا تو بہت کم ٹیکس دیتا ہے یا بالکل ہی ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔ نتیجتاً، اس کا سارا بوجھ تنخواہ دار طبقے اور باقاعدہ صنعتوں پر پڑتا ہے، جو ٹیکس وصولی کے لیے سب سے آسان اہداف ہیں۔ یہ کوئی تکنیکی خرابی نہیں، بلکہ ایک سیاسی انتخاب ہے۔ یہ وہ 'اشرافیہ کا گٹھ جوڑ' ہے جس کے بارے میں بروکنگز انسٹی ٹیوشن کی مدیحہ افضل لکھتی ہیں، جہاں طاقتور مفاد پرستوں نے اپنے سرمائے کے تحفظ کے لیے نظام کو اس طرح ترتیب دیا ہے کہ ریاست ہمیشہ وسائل کی کمی کا شکار رہتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں میٹا اینالیسس اور میڈیا کی سوجھ بوجھ انتہائی اہم ہو جاتی ہے۔ جب آپ یہ سرخی دیکھتے ہیں کہ 'حکومت نے بھاری ٹیکس عائد کر دیے'، تو آپ کا پہلا سوال اپنی تنخواہ کی پرچی کے بارے میں نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ 'کون ہے جو ٹیکس *نہیں* دے رہا؟' 'پاکستانی اکانومی' جیسے آزاد پلیٹ فارمز یا عمار خان جیسے ماہرینِ معیشت کا ڈیٹا پر مبنی تجزیہ، فہم کی ایک اہم دوسری تہہ فراہم کرتا ہے۔ وہ سیاسی بیان بازی سے ہٹ کر یہ دکھاتے ہیں کہ پیسہ اصل میں کہاں سے آ رہا ہے اور کہاں جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر، وہ اس بات پر روشنی ڈالتے ہیں کہ جہاں تنخواہ دار طبقے کو ایک اور مشکل کا سامنا ہے، وہیں رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر مجوزہ ٹیکس، اگرچہ درست سمت میں ایک قدم ہیں، لیکن شاید اتنے سخت نہیں کہ معاشی سوچ کو حقیقی معنوں میں بدل سکیں۔
ان مختلف ذرائع سے معلومات کو ملا کر دیکھنے سے اصل کہانی سامنے آتی ہے۔ حکومت کا بیانیہ 'قومی مفاد میں مشکل فیصلوں' کا ہے۔ اپوزیشن کا بیانیہ 'عوام دشمن پالیسیوں' کا ہے۔ لیکن آزاد اور ڈیٹا پر مبنی بیانیہ دہائیوں پر محیط ساختی زوال کے خلاف ایک تکلیف دہ، بتدریج اور سیاسی طور پر مشکل جنگ کا ہے۔ یہ ایک غیر دستاویزی معیشت کو دستاویزی شکل دینے کی کوشش کی کہانی ہے، ایک وقت میں ایک پوائنٹ آف سیل مشین کے ذریعے، جس میں طاقتور تاجر لابیوں اور دیگر گروہوں کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔
اس اندرونی کشمکش کے گہرے جیو پولیٹیکل اثرات ہیں۔ ایک ایسا پاکستان جو ہر وقت ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑا ہو، ایک ایسا پاکستان ہے جس کی اسٹریٹجک خودمختاری کم ہو جاتی ہے۔ اس کے خارجہ پالیسی کے فیصلے اس کے قرض دہندگان کے مطالبات سے متاثر ہو سکتے ہیں، چاہے وہ آئی ایم ایف ہو، چین ہو یا خلیجی اتحادی۔ آئی ایم ایف سے ایک طویل مدتی اور بڑا پروگرام حاصل کرنا صرف ڈالرز حاصل کرنے کے بارے میں نہیں، بلکہ عالمی منڈی کو یہ پیغام دینا ہے کہ پاکستان سرمایہ کاری کے لیے ایک قابل عمل، اگرچہ پرخطر، جگہ ہے۔ اس پیغام کے بغیر، قرض کے چکر کو حقیقی معنوں میں توڑنے کے لیے درکار براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ معاشی خطرہ اور جیو پولیٹیکل خطرہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔
اب، آئیے اس گفتگو پر غالب منفی تاثرات کا شعوری طور پر مقابلہ کریں۔ مایوس ہونا آسان ہے، لیکن ساختی ترقی کے آثار بھی موجود ہیں، چاہے وہ کتنے ہی سست اور تکلیف دہ کیوں نہ ہوں۔ یہ حقیقت کہ اب تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور اداروں میں اس بات پر وسیع اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں، بذات خود ایک تاریخی تبدیلی ہے۔ پہلی بار، ریٹیلرز اور رئیل اسٹیٹ کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ایک سنجیدہ، اگرچہ متنازعہ، کوشش کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر اکرام الحق جیسے ٹیکس ماہرین کی حمایت یافتہ ڈیجیٹلائزیشن اور معیشت کو دستاویزی بنانے کی مہم، دل کی اچانک تبدیلی کی وجہ سے نہیں، بلکہ سراسر ضرورت کے تحت زور پکڑ رہی ہے۔
مزید یہ کہ، اب گفتگو میں پختگی آ رہی ہے۔ دس سال پہلے، عوامی مباحثوں پر سادہ سیاسی نعرے حاوی تھے۔ آج، ماہرینِ معیشت کی نئی نسل اور آزاد میڈیا پلیٹ فارمز کی بدولت، عوام کا ایک بڑھتا ہوا طبقہ پرائمری خسارے، کرنٹ اکاؤنٹ، اور وقتی و ساختی مسائل کے فرق جیسے تصورات کو سمجھتا ہے۔ یہ بڑھتی ہوئی معاشی خواندگی ایک طاقتور، اگرچہ غیر محسوس، اثاثہ ہے۔ یہ رہنماؤں کے لیے سیاسی گنجائش پیدا کرتی ہے کہ وہ کم از کم ان مشکل اصلاحات کی کوشش کریں جو کبھی شجرِ ممنوعہ سمجھی جاتی تھیں۔
تو، بحیثیت شہری، ہمیں اس معلومات کو کیسے سمجھنا چاہیے؟ سب سے پہلے، اپنے ذرائع کو متنوع بنائیں۔ پرائم ٹائم ٹیلی ویژن پر متعصبانہ چیخ و پکار سے آگے بڑھیں۔ ان آزاد ماہرینِ معیشت اور پلیٹ فارمز کو فالو کریں جو ڈرامے کے بجائے ڈیٹا پر توجہ دیتے ہیں۔ دوسرا، صرف سرخیوں کے بجائے نظام کے لحاظ سے سوچیں۔ جب آپ کسی نئے ٹیکس کے بارے میں سنیں تو اس نظام کے بارے میں پوچھیں جسے یہ ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ شعبہ پہلے ٹیکس کیوں نہیں دیتا تھا؟ اس کے پاس کیا سیاسی طاقت تھی؟ یہ نظامی نقطہ نظر آپ کو طویل مدتی کھیل کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
آخر میں، اس بجٹ کی کہانی مخصوص ٹیکس فیصد یا خسارے کے اہداف میں نہیں ہے۔ یہ صرف کام چلانے کی پرانی رسم اور اس نئے احساس کے درمیان کشمکش میں ہے کہ پرانے طریقے اب پائیدار نہیں رہے۔ پاکستان صرف معاشی طور پر ہی نہیں بلکہ نفسیاتی طور پر بھی ایک دوراہے پر کھڑا ہے۔ آگے بڑھنے کے راستے میں اس تصور کو ترک کرنا شامل ہے کہ کوئی آسان، تکلیف کے بغیر حل موجود ہے۔ حقیقی پیش رفت کا اعلان کسی شاندار پریس کانفرنس میں نہیں کیا جائے گا۔ یہ معیشت کی ساخت کو بدلنے کے سست، مشکل اور اکثر غیر محسوس کام میں ملے گی۔ اور یہ ایک ایسی کہانی ہے جو بجٹ کی سرخیاں ماند پڑ جانے کے بہت بعد تک بھی توجہ کے قابل ہے۔