
پاکستان کا دائمی بحران: آئی ایم ایف کی سرخیوں سے آگے کی حقیقت
پاکستان کے معاشی مستقبل کا تعین کرنے والے ڈھانچہ جاتی چیلنجز اور پوشیدہ صلاحیتوں کا ایک جامع تجزیہ۔
خوش آمدید۔ ہر چند مہینوں بعد، ایک طویل ڈرامے کے بار بار دہرائے جانے والے منظر کی طرح، وہی سرخیاں ہماری اسکرینوں پر نمودار ہوتی ہیں: 'پاکستان دیوالیہ ہونے کے دہانے پر'، 'آئی ایم ایف مذاکرات تعطل کا شکار'، 'ڈیفالٹ کا خطرہ'۔ یہ بیانیہ تھکا دینے والا، پریشان کن اور سچ کہوں تو نامکمل ہے۔ آج رات، میں آپ کو ان سرخیوں سے آگے لے جانا چاہتا ہوں، اگلی قرض کی قسط کی فوری گھبراہٹ سے آگے بڑھ کر ان گہری لہروں کا جائزہ لینا چاہتا ہوں جو پاکستان کی معاشی سمت کا تعین کر رہی ہیں۔ کیونکہ اصل کہانی صرف بقا کی نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کی روح کے لیے ایک بنیادی جنگ کی ہے۔
آئیے موجودہ صورتحال سے آغاز کرتے ہیں۔ جی ہاں، صورتحال نازک ہے۔ پاکستان اس وقت اپنے 24ویں آئی ایم ایف پروگرام پر مذاکرات کر رہا ہے، یہ ایک حیران کن تعداد ہے جو خود بہت کچھ بیان کرتی ہے۔ حکومت نے حال ہی میں ایک سخت بجٹ پیش کیا ہے، جس میں آئی ایم ایف کی سخت شرائط کو پورا کرنے کے لیے ٹیکس بڑھائے گئے ہیں اور سبسڈیز میں کٹوتی کی گئی ہے۔ جیسا کہ اٹلانٹک کونسل میں پاکستان انیشی ایٹو کے ڈائریکٹر، عزیر یونس، اکثر نشاندہی کرتے ہیں، فوری چیلنج کرنسی کو مستحکم کرنا اور ایک بڑے مالیاتی خسارے کو پر کرنے کے لیے بیرونی فنانسنگ کو یقینی بنانا ہے۔ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر مستقل طور پر کم رہتے ہیں، جو اسے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں یا سرمایہ کاروں کے настроیات میں تبدیلی جیسے عالمی جھٹکوں کے لیے کمزور بنا دیتے ہیں۔ یہ وہ آگ ہے جسے فوری طور پر بجھانے کی ضرورت ہے۔
لیکن صرف آئی ایم ایف پر توجہ مرکوز کرنا ایک دائمی بیماری کی علامات کا علاج کرنے جیسا ہے جبکہ خود بیماری کو نظر انداز کر دیا جائے۔ آئی ایم ایف وجہ نہیں، نتیجہ ہے۔ اصل بیماری، جیسا کہ 'پاکستانی اکانومی' اور 'تبادلب' جیسے پلیٹ فارمز کے تجزیہ کاروں نے تفصیل سے دستاویز کیا ہے، ڈھانچہ جاتی ہے۔ یہ ایک ایسی معیشت ہے جو ریت کی بنیادوں پر کھڑی ہے: ایک خطرناک حد تک کم ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب جہاں رئیل اسٹیٹ اور ریٹیل جیسے طاقتور شعبے بڑی حد تک ٹیکس سے باہر ہیں؛ ایک ایسا سیاسی نظام جس پر 'ایلیٹ کیپچر' یا اشرافیہ کا قبضہ ہے، جہاں پالیسیاں عوام کی قیمت پر چند منتخب افراد کو فائدہ پہنچانے کے لیے بنائی جاتی ہیں؛ اور درآمدات کی ایک نہ ختم ہونے والی بھوک جسے اکثر مصنوعی طور پر مہنگی رکھی گئی کرنسی سے ہوا دی جاتی ہے تاکہ مراعات یافتہ طبقے کے لیے غیر ملکی اشیاء سستی رہیں۔
یہ داخلی بدانتظامی خلا میں موجود نہیں ہے۔ اسے طاقتور جغرافیائی سیاسی لہریں مزید بڑھاوا دیتی ہیں۔ کئی دہائیوں تک، پاکستان نے اپنے اسٹریٹجک محل وقوع کو 'جیو پولیٹیکل رینٹ' کے لیے استعمال کیا—سرد جنگ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران امریکہ سے امداد اور حمایت، یا چین اور خلیجی ریاستوں سے مالی معاونت۔ لیکن یہ نمونہ اب بدل رہا ہے۔ جیسا کہ بروکنگز انسٹی ٹیوشن کی مدیحہ افضل نے دلیل دی ہے، امریکہ کے ساتھ تعلقات اب بہت زیادہ لین دین پر مبنی ہیں اور سیکیورٹی امداد پر کم مرکوز ہیں۔ اگرچہ چین سی پیک کے ذریعے ایک مضبوط شراکت دار ہے، لیکن اس کے قرضے اب زیادہ محتاط ہیں، اور خلیجی ریاستیں، اگرچہ مددگار ہیں، اب محض خالی چیک دینے کے بجائے ٹھوس معاشی اصلاحات اور سرمایہ کاری کے مواقع کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
جغرافیائی سیاست سے جغرافیائی معیشت کی طرف یہ منتقلی ایک تکلیف دہ عمل ہے۔ پاکستان اب اپنی معاشی دراڑوں کو پر کرنے کے لیے کسی سپر پاور کی سرپرستی پر انحصار نہیں کر سکتا۔ اسے ایک سخت عالمی ماحول میں اپنے پیروں پر کھڑا ہونے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ یہ وہ عالمی رسک فیکٹر ہے جو اکثر گھریلو سیاسی جھگڑوں میں گم ہو جاتا ہے۔ دنیا اب پاکستان کے استعمال کو مالی اعانت فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں جب تک کہ وہ اپنے معاشی ماڈل میں بنیادی، اور اکثر تکلیف دہ، ڈھانچہ جاتی تبدیلیوں کا مطالبہ نہ کرے۔ آسان پیسے کا دور ختم ہو چکا ہے۔
اب، یہ وہ مقام ہے جہاں میڈیا کوریج میں عام منفی تعصب ہمیں گمراہ کر سکتا ہے۔ اگر آپ صرف سرخیاں پڑھیں، تو آپ سوچیں گے کہ ملک مستقل زوال کی حالت میں ہے۔ لیکن یہ پوری تصویر نہیں ہے۔ ہمیں اس تعصب کا فعال طور پر مقابلہ کرنا ہوگا اور سطح کے نیچے ہونے والی ڈھانچہ جاتی پیشرفت کو دیکھنا ہوگا۔ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں ایک خاموش انقلاب برپا ہو رہا ہے۔ ملک کی آئی ٹی برآمدات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جو 3 بلین ڈالر کی حد عبور کر چکی ہیں اور بڑھ رہی ہیں۔ ایک متحرک اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم نے، اگرچہ حال ہی میں فنڈنگ کے مسائل کا سامنا ہے، فنٹیک، ای کامرس، اور لاجسٹکس میں ایسے اختراع کار پیدا کیے ہیں جو لاکھوں پاکستانیوں کے لیے حقیقی دنیا کے مسائل حل کر رہے ہیں۔
یہ پیشرفت معمولی نہیں ہے۔ جیسا کہ 'میکرو پاکستانی' نیوز لیٹر کے مصنف عمار خان اعداد و شمار کے ساتھ مستقل طور پر واضح کرتے ہیں، موبائل بینکنگ کے ذریعے مالیاتی شمولیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہ ڈیجیٹل تبدیلی لاکھوں لوگوں کو رسمی معیشت میں لا رہی ہے، کارکردگی پیدا کر رہی ہے، اور ترقی کی نئی راہیں کھول رہی ہے۔ یہ لچک کی کہانی ہے، ایک نوجوان، ٹیکنالوجی سے واقف آبادی کی جو اکثر حکومتی پالیسی کے باوجود، نہ کہ اس کی وجہ سے، ایک نئی معیشت کی بنیاد رکھ رہی ہے۔ یہ پوشیدہ طاقت ہے۔
مزید برآں، پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج—اس کی نوجوانوں کی بڑی آبادی—اس کا سب سے بڑا ممکنہ اثاثہ بھی ہے۔ اگرچہ ریاست مناسب تعلیم اور روزگار فراہم کرنے میں جدوجہد کر رہی ہے، یہ نسل اپنا راستہ خود تلاش کر رہی ہے۔ پاکستان اب دنیا کی سب سے بڑی فری لانس مارکیٹوں میں سے ایک ہے۔ یہ اس کے لوگوں کی خالص کاروباری روح کا ثبوت ہے۔ چیلنج، یقیناً، اس صلاحیت کو بڑھانا ہے، انفرادی فری لانسرز سے عالمی معیار کی کمپنیاں بنانے کی طرف بڑھنا ہے، اور اس کے لیے ایک مستحکم معاشی ماحول اور ہوشیار حکومتی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو اس ٹیلنٹ کو پروان چڑھائیں، نہ کہ اس میں رکاوٹ ڈالیں۔
تو، یہ ہمیں میڈیا لٹریسی یا میڈیا فہمی کی طرف لاتا ہے۔ ہمیں پاکستان کی معیشت کے بارے میں خبروں کو کیسے سمجھنا چاہیے؟ سب سے پہلے، ہمیں گردشی بحران اور ڈھانچہ جاتی بحران کے درمیان فرق کرنا سیکھنا چاہیے۔ اگلا آئی ایم ایف قرض حاصل کرنا ایک گردشی واقعہ ہے؛ یہ فوری نقد بہاؤ کے مسئلے کو حل کرتا ہے۔ ٹیکس کی بنیاد میں اصلاحات، خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری، اور اشرافیہ کے استحقاق کو ختم کرنا ڈھانچہ جاتی حل ہیں۔ نیوز سائیکل پہلے والے پر جنونی طور پر توجہ مرکوز کرتا ہے، لیکن ہماری توجہ دوسرے پر ہونی چاہیے۔
اہم سوال جو ہمیں پوچھنا چاہیے وہ یہ نہیں ہے کہ 'کیا پاکستان کو قرض ملے گا؟' کیونکہ، جغرافیائی سیاسی طور پر، اسے اکثر ناکام ہونے کے لیے بہت بڑا سمجھا جاتا ہے، اور امکان ہے کہ قرض مل جائے گا۔ اصل سوال، جس کا جواب ہمیں پالیسی سازوں اور تجزیہ کاروں سے مانگنا چاہیے، وہ یہ ہے کہ 'یہ قرض اس بار ملک کو کونسی بنیادی اصلاحات کرنے پر مجبور کرے گا؟' کیا وہ آخر کار ٹیکس نیٹ کو رئیل اسٹیٹ ٹائیکونز اور بڑے ریٹیلرز کو شامل کرنے کے لیے بڑھا رہے ہیں؟ کیا وہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کر رہے ہیں جو سرکلر ڈیٹ کی صورت میں اربوں کا خون بہاتا ہے؟ کیا سرپرستی کی سیاست سے آگے بڑھنے کے لیے کوئی حقیقی سیاسی اتفاق رائے موجود ہے؟
آخر میں، پاکستان کی معیشت کی کہانی آنے والی تباہی کی کوئی سادہ داستان نہیں ہے۔ یہ ایک گہری پیچیدہ داستان ہے ایک ایسی قوم کی جو ایک ٹوٹے ہوئے، اشرافیہ کے زیر انتظام نوآبادیاتی معاشی ماڈل اور ایک نوجوان اور متحرک آبادی کی جاندار، نچلی سطح کی توانائی کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔ آگے کا راستہ خطرات سے بھرا ہے، اور مطلوبہ اصلاحات سیاسی طور پر دھماکہ خیز ہوں گی۔ لیکن تبدیلی کا امکان، جو اس کے ڈیجیٹل اختراع کاروں اور اس کے ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ سے چلتا ہے، اتنا ہی حقیقی ہے۔ پاکستان کے لیے، اور ہمارے لیے بطور مبصرین، چیلنج یہ ہے کہ فوری آگ کے دھوئیں سے پرے دیکھیں اور گھر کی بنیادوں کی تعمیر نو پر توجہ مرکوز کریں۔