
تھراپسٹ کا مشورہ ”گھر چھوڑ دو“
مغرب میں رہنے والے اردو بولنے والے پیشہ ور افراد کے لیے مغربی طرزِ تھراپی کے روایتی مشورے اکثر زخموں پر نمک چھڑکتے ہیں، مگر ماہرینِ نفسیات کی ایک نئی تحریک خاموشی سے اس رجحان کو بدل رہی ہے۔
اس نے گاڑی میں یہ بات کئی بار دہرائی تھی۔ وہ بتانا چاہتی تھی کہ اسے اپنے ہی فلیٹ میں گھٹن محسوس ہوتی تھی، کہ ہر صبح چھ بج کر چالیس منٹ پر اس کی والدہ کے بلڈ پریشر کی رپورٹ اسے واٹس ایپ پر سمن کی طرح آ پہنچتی تھی، اور لاہور میں بیٹھا اس کا بھائی صرف اسی وقت کال کرتا تھا جب پیسے بھیجنے میں دیر ہو جاتی تھی۔ مسی ساگا کے ایک روشن کلینک میں، جہاں خوشبو رچی ہوئی تھی، سیشن کے چالیس منٹ گزرنے پر تھراپسٹ ذرا آگے جھکی اور وہ بات کہی جو اس نے اسی رات ہنستے روتے اپنی کزن کو بتائی تھی۔ ”کیا آپ نے گھر سے الگ ہونے کا سوچا ہے؟ آپ کو انکار کرنے کا پورا حق ہے۔“ اس نے ہاں میں سر ہلایا، فیس ادا کی اور پھر کبھی واپس نہیں گئی۔
عام طور پر کہانی اسی موڑ پر ختم ہو جاتی ہے، حالانکہ اسے یہیں سے شروع ہونا چاہیے۔ اس مسئلے کو اکثر اس دقیانوسی سوچ کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے کہ جنوبی ایشیائی لوگ تھراپی پر یقین نہیں رکھتے، انہیں اس سے شرم آتی ہے، اور شاید آگاہی مہمات اور اس پیشے میں مزید دیسی چہروں کی شمولیت سے یہ فاصلہ کم ہو جائے گا۔ اس میں کچھ سچائی ضرور ہے۔ لیکن اس دوری کی وجہ صرف یہ نہیں کہ لوگ مدد لینے سے کتراتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ جب وہ مدد لینے جاتے ہیں تو انہیں محسوس ہوتا ہے کہ تھراپی ان سے ان کی زندگی کے سب سے اہم حصے کو کاٹ پھینکنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ پھر وہ درست طور پر یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ یہ علاج بیماری سے بھی بدتر ہے۔
اعداد و شمار دیکھیں تو لگتا ہے کہ پوری کمیونٹی نے تھراپی کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ اپریل 2026 میں ”کونسلنگ ڈائریکٹری“ کی جانب سے پیش کیے گئے این ایچ ایس ڈیجیٹل کے اعداد و شمار کے مطابق، برطانیہ میں ذہنی مسائل سے دوچار جنوبی ایشیائی بالغ افراد میں سے صرف 6 اعشاریہ 6 فیصد بات چیت پر مبنی تھراپی کا رخ کرتے ہیں، جبکہ سفید فام برطانوی افراد میں یہ شرح 10 اعشاریہ 9 فیصد ہے۔ ایسا نہیں کہ ان لوگوں کو مدد کی ضرورت نہیں۔ پی ایم سی اور این آئی ایچ کے لٹریچر اور 2026 کے جائزوں کے مطابق، برطانیہ میں درمیانی عمر کے پاکستانی مردوں میں ڈپریشن اور بے چینی کی شرح سفید فام آبادی کے مقابلے میں 2 اعشاریہ 38 گنا زیادہ ہے، جبکہ معمر پاکستانی خواتین میں یہ شرح 3 اعشاریہ 15 گنا زیادہ ہے۔ معاشی حیثیت کو ملحوظ رکھا جائے تب بھی یہ فرق برقرار رہتا ہے۔ یعنی جن لوگوں کو تھراپی کے کمرے میں سب سے زیادہ ہونا چاہیے، وہی وہاں سب سے کم نظر آتے ہیں۔
”باؤنڈریز“ کے مشورے کا بیٹیوں پر اثر
آج کل پاپ سائیکالوجی اس معاملے میں بڑی واضح اور دوٹوک ہے۔ اس کے نزدیک ضرورت سے زیادہ مداخلت کرنے والے والدین نقصان دہ ہیں۔ احساسِ جرم دلانا دراصل جذباتی بلیک میلنگ ہے۔ محبت کو قرض نہیں سمجھنا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹس کی بھرمار ہے جو پردیس میں بسنے والے بچوں کو مشورہ دیتی ہیں کہ وہ اس ماں سے رابطہ کم کر دیں جو تئیس برس کی عمر میں محض ایک سوٹ کیس لے کر ایک اجنبی کے ساتھ سمندر پار آئی تھی۔ اگر یہ باتیں واقعی کسی ظالم اور زیادتی کرنے والے گھرانے پر لاگو ہوں تو زندگیاں بچا سکتی ہیں۔ لیکن جب یہی اصول ایک عام پاکستانی خاندان پر تھوپے جائیں، جس کا واحد جرم ایک دوسرے سے جڑے رہنا ہے، جیسے وہ خالہ جو آپ کے وزن پر تبصرہ کرتی ہیں، وہ باپ جو آپ کے کیریئر کو ایک غلطی سمجھتا ہے، یا یہ توقع کہ بڑے بیٹے کی تنخواہ پر پورے گھر کا حق ہے، تو یہ ایسا ہے جیسے معمولی موچ کے علاج کے لیے پاؤں کاٹ دینے کا مشورہ دیا جائے۔
ایشین امریکن سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن میں جنوبی ایشیائی امریکیوں کے شعبے کی سربراہ ڈاکٹر روزلین دھالیوال نے جولائی 2024 میں ”مینٹل ہیلتھ امریکہ“ کی ایک پوسٹ میں اس مسئلے کو بڑی سادگی سے بیان کیا۔ ان کے مطابق علاج کا مغربی طریقہ اکثر اس بات پر زور دیتا ہے کہ کلائنٹ اپنے ذاتی مسائل خود سمجھے اور حل کرے، مگر یہ ان ثقافتی عوامل کو نظر انداز کر دیتا ہے جو ان مسائل کی اصل جڑ ہوتے ہیں۔ ”سیلف کیئر“ کی جو صورت وہ بیان کرتی ہیں، وہ ان روایتی تھراپسٹس کو بے چین کر سکتی ہے جو فرد کی آزادی ہی کو پختگی کی علامت سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق جنوبی ایشیائی شخص کی سیلف کیئر میں اس کا پورا خاندان اور کمیونٹی شامل ہو سکتے ہیں۔ وہ اپنے خاندان سے کٹ کر نہیں بلکہ اس سے جڑ کر اپنا خیال رکھ سکتا ہے۔
ذرا سوچیے کہ جب یہ مغربی طریقے الٹے پڑتے ہیں تو کیا ہوتا ہے۔ ایک کلائنٹ اپنے بوڑھے والدین کی کفالت کی بے چینی لے کر تھراپی میں آتی ہے۔ وہاں اسے ایسے کام کرنے کو کہا جاتا ہے جنہیں وہ اپنے فرض کی خلاف ورزی کیے بغیر پورا نہیں کر سکتی۔ وہ یہ کام نہیں کر پاتی۔ اب اسے بے چینی بھی ہے اور علاج میں ناکام رہنے کی شرمندگی بھی، جس نے اس کی بے چینی دور کرنی تھی۔ سب سے بڑھ کر اسے شک ہونے لگتا ہے کہ والدین سے اس کی محبت شاید کوئی نفسیاتی بیماری ہے۔ تھراپسٹ نے اس کے اکیلے پن کا علاج تو کیا کرنا تھا، الٹا اسے اور بڑھا دیا۔
مؤثر تھراپی کے لیے ضروری ہے کہ بین الاقوامی طبی معیارات کو پاکستانی خاندانی، ثقافتی اور مذہبی حقائق کی گہری سمجھ کے ساتھ ملایا جائے۔عطیہ الطاف، انٹیگریٹو سائیکو تھراپسٹ، ہیلنگ ود عطیہ
ڈاکٹر فاروق نعیم نے روایتی تھراپی کی خامیاں گنوانے کے بجائے برسوں کی محنت سے اس کا متبادل تیار کیا ہے۔ ان کا ثقافتی طور پر ڈھالا گیا سی بی ٹی ماڈل ایک بنیادی طبی مشاہدے پر قائم ہے۔ اس میں ان کا 2024 کا تحقیقی مقالہ اور کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کے لیے 2026 میں پیش کیا جانے والا رائز ماڈل شامل ہیں۔ جنوبی ایشیائی کلائنٹس عموماً روایتی سی بی ٹی درمیان ہی میں چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ ماڈل مذہب اور خاندانی رشتوں کو غیر اہم باتیں سمجھ کر نظر انداز کر دیتا ہے۔ ان کا نیا ماڈل ایسے خاندانی نظام کی حمایت کرتا ہے جس میں باہمی رشتوں کو مرکزی اہمیت حاصل ہو اور جو جنوبی ایشیائی کمیونٹی کو قابلِ قبول ہو۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ خاندانی نظام کو کلائنٹ کی خوشی کی راہ میں رکاوٹ سمجھنے کے بجائے اس کی زندگی کا ایک اہم اور مثبت حصہ مانا جائے۔ یہ کوئی رعایت نہیں بلکہ کلائنٹس کو تھراپی سے وابستہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی کلائنٹ تھراپی مکمل ہی نہ کرے تو علاج کا فائدہ صفر ہے۔
پیٹ کا درد اور اگلی پروموشن
مغربی کلینکس میں جنوبی ایشیائی مریضوں کے ذہنی مسائل اکثر دو شکلوں میں سامنے آتے ہیں۔ ایک شکل جسمانی بیماریوں کی ہے۔ چونکہ ہمارے ہاں ڈپریشن کا نام لینا مغربی چونچلا، ”صبر“ کی کمی یا خاندان کی بدنامی سمجھا جاتا ہے، اس لیے یہ گھٹن پیٹ کی خرابی، سینے کی جکڑن، جسم کے درد اور ایسی تھکاوٹ کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے جو آئرن کی گولی سے دور نہیں ہوتی۔ جنرل پریکٹیشنر بلڈ ٹیسٹ کرواتا ہے۔ گیسٹرو اینٹرولوجسٹ اینڈوسکوپی تجویز کر دیتا ہے۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ ساس کے ساتھ تعلقات کیسے ہیں۔ پاکستان اور برطانیہ میں کام کرنے والی عطیہ الطاف اس رویے کی نشاندہی کرتی ہیں جو مریض کو اسی چکر میں الجھائے رکھتا ہے۔ جب معاشرہ آپ کو بار بار یہ باور کرائے کہ دوسرے لوگ آپ سے بھی بدتر حالات میں ہیں تو آپ کو اپنے ڈپریشن پر بھی احساسِ جرم ہونے لگتا ہے۔
دوسری شکل ایک شاندار سی وی کی ہے۔ ایک رجسٹرار، ایک سافٹ ویئر انجینئر یا ایکویٹی اینالسٹ بظاہر نہایت کامیاب نظر آتے ہیں، مگر اندر سے بالکل کھوکھلے ہو چکے ہوتے ہیں، کیونکہ ان کے خاندانی نظام میں یہ کامیابی انعام نہیں بلکہ محض ایک بنیادی ضرورت تھی۔ نیویارک، نیو جرسی اور میساچوسٹس میں کام کرنے والی تھراپسٹ پریرنا مینن نے جنوری 2026 میں ”ایکچوئلائز بینگ“ کے لیے ایک مضمون میں درست نشاندہی کی تھی کہ جنوبی ایشیائی کلائنٹس کسی خاص طریقۂ علاج کی تلاش میں نہیں ہوتے۔ وہ ایسے شخص کو ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں جو خاندانی ذمہ داریوں کے جذباتی بوجھ اور ہر چیز سنبھالے رکھنے کے خاموش دباؤ کو سمجھ سکے۔ ان کی فہرست دراصل تشخیص کا ایک عمدہ نمونہ ہے۔ اس کے مطابق کلائنٹ کو بار بار یہ وضاحت نہیں کرنی چاہیے کہ حدیں مقرر کرنے پر احساسِ جرم کیوں ہوتا ہے اور بڑی سے بڑی کامیابی بھی کبھی کافی کیوں نہیں لگتی۔
ان دونوں شکلوں کے پیچھے چھپا تناؤ اب باقاعدہ تحقیق کا موضوع بن چکا ہے۔ منیش پانڈیا کی 19 جون 2026 کی رپورٹ میں امریکہ میں مقیم جنوبی ایشیائی افراد پر ہونے والی ایک تحقیق کے حوالے سے بتایا گیا کہ دو نسلوں کے درمیان کشمکش اس کمیونٹی کے ذہنی اور جسمانی مسائل کا سب سے بڑا سبب بن کر ابھری ہے، جو نسلی امتیاز اور مالی پریشانی سے بھی آگے ہے۔ اس کی قیمت کوئی فرضی نہیں۔ ”دی ایشین امریکن فاؤنڈیشن“ کی 2024 کی یوتھ اسٹڈی میں سی ڈی سی کے اعداد و شمار سے یہ انکشاف ہوا کہ 2018 سے 2022 کے درمیان 15 سے 24 سال کے ایشین امریکنز میں موت کی سب سے بڑی وجہ خودکشی تھی۔ جس نسل کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ اس کا کلچر نقصان دہ ہے، درحقیقت اسی نسل میں موت کی سب سے بڑی وجہ خودکشی ہے۔
ذہنی صحت کے ماڈل مقامی حقائق کو مدنظر رکھ کر بنائے جانے چاہئیں، نہ کہ انہیں محض مغرب سے درآمد کر لیا جائے۔ڈاکٹر عائشہ میاں، سائیکاٹرسٹ اور سی ای او، سائنَیپس پاکستان نیورو سائنس انسٹی ٹیوٹ
وہ حدود جن پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا
یہاں آ کر بحث ذرا پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ اوپر بیان کی گئی تمام باتوں کو کوئی بھی ایسا خاندان لفظ بہ لفظ اپنے حق میں استعمال کر سکتا ہے جو کچھ چھپانے کی کوشش کر رہا ہو۔ ”ڈاکٹر صاحب، ہمارا خاندانی نظام آپس میں جڑا ہوا ہے، اس بچی پر مغربی خیالات کا اثر ہو گیا ہے۔“ ثقافتی ہم آہنگی پر مبنی تھراپی پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ اس سے ان خاندانوں کو بہانہ مل جاتا ہے جنہیں حقیقت میں روکے جانے کی سخت ضرورت ہے۔ ان گھروں میں زبردستی کی شادیاں ہوتی ہیں، بینک اکاؤنٹس پر کنٹرول رکھا جاتا ہے، کسی نوجوان کی جنسی شناخت اس کی جان کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، یا بہو کے جسم پر موجود زخموں کو معمولی گھریلو معاملہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ ثقافت کے احترام کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اگر کوئی عورت کسی قید خانے سے نکلنا چاہتی ہے تو آپ پہرے دار بن کر دروازے پر کھڑے ہو جائیں۔
یہ اعتراض بالکل بجا ہے اور سمجھدار ماہرینِ نفسیات اسے تھراپی کی ایک لازمی شرط کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ثقافتی ہم آہنگی پر مبنی تھراپی اور ثقافت کے آگے جھک جانے کے درمیان فرق کی ایک واضح لکیر ہے۔ وہ لکیر کلائنٹ کا تحفظ اور اس صورتِ حال سے نکلنے کا اس کا حق ہے۔ ان دونوں پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں ہو سکتا۔ جو علاج ان اصولوں میں نرمی لائے، وہ تھراپی کہلانے کے قابل ہی نہیں۔ مگر اس بنیادی شرط کے علاوہ باقی ہر چیز پر بات ہو سکتی ہے، اور یہی دراصل اس نئے ماڈل کی کامیابی ہے۔ انفرادیت اور الگ ہو جانا جذباتی پختگی کی لازمی منزل نہیں بلکہ مغربی کلچر میں دوسروں کے بیچ اپنی ذات کو بچانے کا ایک مخصوص طریقہ ہیں۔ ڈاکٹر فاروق نعیم کا متبادل سی بی ٹی ماڈل حدوں کو ختم نہیں کرتا بلکہ انہیں ایسے نظام کے طور پر پیش کرتا ہے جس میں لچک اور بات چیت کی گنجائش ہو۔ جیسے میں پیسے تو بھیجوں گا، لیکن ہر خاندانی تقریب میں شرکت نہیں کروں گا، یا میں گھر میں تو رہوں گی، لیکن آپ دروازہ کھٹکھٹائے بغیر میرے کمرے میں نہیں آئیں گے۔ مغربی طریقۂ علاج سیدھی دوٹوک شرط رکھتا ہے، جبکہ مقامی طریقہ کار بات چیت شروع کرتا ہے۔ یہی باہمی بات چیت ان رشتوں کو ٹوٹنے سے بچا لیتی ہے جنہیں آپ بہتر بنانا چاہتے ہیں۔
اسی لیے اب اس شعبے کی توجہ مغربی ممالک میں موجود تارکینِ وطن کے کلینکس سے ہٹ رہی ہے۔ جولائی 2026 میں بچوں اور نوجوانوں کی نفسیات کے عالمی ادارے آئی اے سی اے پی اے پی کی پہلی پاکستانی صدر منتخب ہونے والی ڈاکٹر عائشہ میاں نے، ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق، درست طور پر دلیل دی کہ پاکستان کی تقریباً 60 فیصد آبادی 25 سال سے کم عمر ہے۔ ملک اب بوسٹن اور کیمبرج میں بننے والے ماڈلز کے پاکستان پہنچنے اور پھر مقامی طور پر قابلِ قبول بننے کا انتظار نہیں کر سکتا۔ تحقیق اور ماڈل وہیں تیار ہونے چاہئیں جہاں مریض موجود ہیں۔ اگر یہ کوشش کامیاب ہو گئی تو صورتِ حال بالکل الٹ جائے گی۔ پھر کراچی ٹورنٹو سے ماڈل درآمد نہیں کرے گا بلکہ ٹورنٹو کا بوجھ تلے دبا سرکاری نظام کراچی سے ایسے ماڈل منگوائے گا جن میں خاندان کو ساتھ لے کر چلنے کی گنجائش ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹورنٹو کے مضافاتی علاقے سکاربرو میں رہنے والے کسی صومالی، یوکرینی یا فلپائنی خاندان کا مسئلہ بھی صرف مغربی انفرادیت سے حل نہیں ہو سکتا۔
مسی ساگا کے اس کلینک سے نکلنے والی خاتون کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں تھی کہ اسے انکار کرنے کا پورا حق ہے۔ یہ بات وہ انیس برس کی عمر سے جانتی تھی۔ اسے کسی ایسے شخص کی ضرورت تھی جو اس کے ساتھ بیٹھ کر یہ طے کرنے میں مدد کرتا کہ وہ انکار کی کس صورت کا بوجھ برداشت کر سکتی ہے۔ ایک ایسا انکار جو اسے اپنی ماں کے گھر میں تو رکھے مگر ان کے فیصلوں سے دور کر دے، جو پیسے بھیجنے کا سلسلہ تو جاری رکھے مگر صبح چھ بج کر چالیس منٹ پر واٹس ایپ پر آنے والے سمن کا خاتمہ کر دے۔ ایسی بات چیت میں تھراپی کی کسی مشق سے زیادہ وقت لگتا ہے اور اسے کسی خوب صورت تصویری خاکے میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن یہی وہ واحد راستہ تھا جس سے وہ اپنی نیند اور اپنے خاندان، دونوں کو بچا سکتی تھی۔ وہ کلینک واپس نہیں گئی کیونکہ کسی نے اسے یہ راستہ پیش ہی نہیں کیا۔