ورلڈ کپ مہم کے دوران اشرف حاکمی پر ریپ کا مقدمہ چلے گا
انٹرنیشنل فٹ بال کے بڑے اسٹیج کی چمک دھمک اس وقت ماند پڑ گئی جب فرانس کی ایک عدالت نے مراکش کے کپتان اشرف حاکمی پر ریپ کے الزامات کے تحت مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا۔ یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وہ اپنی قوم کو کامیابی کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
This brief is tagged as 'Fact-Based' for its reliance on confirmed judicial proceedings in France, while the 'Disputed Claims' tag acknowledges the ongoing legal nature of the case and the explicit denials provided by the subject's defense.

"عدالتی نظام نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا، 'اگر تم مشہور نہ ہوتے تو یہ کیس کبھی بنتا ہی نہیں۔'"
تفصیلی جائزہ
یہ کیس عدالتی احتساب اور عالمی کھیلوں کے ستاروں کو حاصل سمجھے جانے والے تحفظ کے درمیان ایک بڑا ٹکراؤ ہے۔ اشرف حاکمی کی دفاعی حکمت عملی اس دعوے پر مبنی ہے کہ ان کی شہرت کی وجہ سے انہیں ایک ایسی کہانی کا نشانہ بنایا گیا جو ان کی نہیں ہے، جبکہ مدعی کی وکیل Rachel-Flore Pardo کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ اس 'انکار اور استثنیٰ کی دیوار' کو گرانے کے لیے ضروری ہے جو اکثر بڑے کھلاڑیوں کو جنسی تشدد کے الزامات سے بچاتی ہے۔
قانونی کارروائی کے علاوہ مراکش کی ٹیم کے لیے ورلڈ کپ 2026 کے دوران لاجسٹک مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق گروپ اسٹیج کے میچز تو امریکہ میں ہیں لیکن مجرمانہ الزامات کے باعث کینیڈا یا میکسیکو کی سخت سرحدی پالیسیوں کی وجہ سے حاکمی کو وہاں داخلے سے روکا جا سکتا ہے، جیسا کہ حال ہی میں گھانا کے Thomas Partey کے ساتھ ہوا۔ یہ مراکش کے لیے ایک بڑا نقصان ہو سکتا ہے کیونکہ کوچ Mohamed Ouahbi انہیں دنیا کا بہترین 'رائٹ بیک' قرار دیتے ہیں۔
پس منظر اور تاریخ
اشرف حاکمی پر یہ الزامات 2023 کے اوائل میں سامنے آئے، جو مراکش کی فٹ بال تاریخ کے کامیاب ترین دور (ورلڈ کپ 2022 کے سیمی فائنل تک رسائی) کے فوراً بعد کا وقت تھا۔ تین سال سے زائد عرصے تک یہ کیس ابتدائی تحقیقات کے مرحلے میں رہا، جو فرانسیسی عدالتی نظام کی پیچیدگیوں کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ ٹرائل پروفیشنل فٹ بالرز پر بڑھتی ہوئی سخت نظر کا حصہ ہے، جس پر ماضی میں میدان سے باہر کی بدسلوکی کو نظر انداز کرنے کا الزام لگتا رہا ہے۔ یہ کیس کھیل میں ہونے والی دیگر حالیہ قانونی لڑائیوں سے مماثلت رکھتا ہے، جہاں اب ٹیموں کو 'بے گناہی کے تصور' اور اخلاقی خطرات کے درمیان توازن رکھنا پڑ رہا ہے۔
عوامی ردعمل
اشرف حاکمی کے گرد ماحول کافی منقسم نظر آتا ہے؛ جہاں ان کے کوچ اور ساتھی کھلاڑی عوامی سطح پر ان کی حمایت کر رہے ہیں، وہی Gillette Stadium میں 64,000 کے مجمع نے ان کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ ماہرین کے مطابق ایک طرف مدعی کو انصاف ملنے کی امید ہے تو دوسری طرف حاکمی کا کیمپ اسے صرف ایک قانونی چال قرار دے رہا ہے۔
اہم حقائق
- •نینتیرے (Nanterre) میں فرانسیسی استغاثہ نے تصدیق کی ہے کہ Paris Saint-Germain کے 27 سالہ ڈیفنڈر اشرف حاکمی پر 2023 میں ان کے گھر پر ایک خاتون کے مبینہ ریپ کے الزام میں مقدمہ چلے گا۔
- •اشرف حاکمی حال ہی میں اس مقدمے کو خارج کرنے کے لیے دائر کی گئی اپیل ہار گئے تھے، یہ ابتدائی تحقیقات مارچ 2023 سے جاری تھیں۔
- •مراکشی کپتان نے 19 جون 2026 کو Scotland کے خلاف World Cup میچ میں پورے 90 منٹ کھیلے، ٹھیک اسی وقت جب مقدمے کی تصدیق کی خبر عام ہوئی۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔