پوشیدہ دورانیہ: نئی تحقیق میں خواتین پر ADHD کے ماہانہ اثرات کا جائزہ لیا گیا
Layla اور Héloïse جیسی خواتین کے لیے، فون کے الارمز اور ادویات کی بنیاد پر بنی روزمرہ زندگی کی ترتیب ہر ماہ اس وقت بکھر جاتی ہے جب ہارمونز کے اتار چڑھاؤ ان کی ADHD (توجہ کی کمی اور ہائپر ایکٹیویٹی) کی علامات کو بے قابو کر دیتے ہیں۔
This brief is based on reporting from the BBC, which utilizes verified NHS data and academic research. The coverage frames clinical findings through personal narratives to highlight ongoing challenges in women's health and systemic healthcare infrastructure.

"یہ بالکل ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آپ کی بیساکھی یا سہارا دینے والی کوئی چیز اچانک ٹوٹ گئی ہو۔"
تفصیلی جائزہ
یہ تحقیق اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ اعصابی مسائل (neurodivergence) اور خواتین کی جسمانی ساخت کے اس پہلو پر توجہ دیتی ہے جسے طویل عرصے سے نظر انداز کیا گیا تھا۔ دہائیوں تک ADHD پر تحقیق صرف لڑکوں تک محدود رہی، جس کی وجہ سے خواتین کی تشخیص میں ایک بڑا فرق پیدا ہوا۔ ان خواتین کے تجربات کی تصدیق کر کے جو ماہواری کے دوران اپنی ادویات کو بے اثر پاتی ہیں، یہ مطالعہ طریقہ علاج میں انقلاب لا سکتا ہے، جس میں ایک مقررہ خوراک کے بجائے حیاتیاتی حقیقت کے مطابق لچکدار طریقہ اپنایا جائے گا۔
BBC کی رپورٹ شعور میں اضافے اور طبی نظام کی ناکامی کے درمیان ایک سنگین صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے۔ جہاں سوشل میڈیا نے خواتین کو مدد حاصل کرنے کی ہمت دی ہے، وہیں NHS کے کچھ علاقوں میں ویٹنگ لسٹیں بند کر دی گئی ہیں کیونکہ وہ اس مطالبے کو پورا کرنے سے قاصر ہیں۔ اگرچہ حکومت نسخوں میں 23 فیصد اضافے کا ذکر کرتی ہے، لیکن ایک علیحدہ ٹاسک فورس کی رپورٹ بتاتی ہے کہ ADHD کی تشخیص اور علاج اب بھی ضرورت سے بہت کم ہے، جو موجودہ طبی نظام کی ناکامی کا ثبوت ہے۔
پس منظر اور تاریخ
تاریخی طور پر ADHD کو مردوں کے نقطہ نظر سے دیکھا گیا، جس میں زیادہ تر ہائپر ایکٹیویٹی (hyperactivity) جیسی بیرونی علامات پر توجہ دی گئی جو عموماً لڑکوں میں پائی جاتی ہیں۔ اس کی وجہ سے خواتین کی نسلوں کو غلطی سے ڈپریشن یا بے چینی کا مریض سمجھا گیا، جبکہ ان کی ذہنی تنظیم اور جذبات کے اتار چڑھاؤ کی اصل جدوجہد کو پہچانا ہی نہیں گیا۔ یہ 20ویں صدی کے آخر اور 21ویں صدی کے شروع کی بات ہے جب طبی ماہرین نے خواتین میں ADHD کی مختلف علامات کو تسلیم کرنا شروع کیا۔
ایسٹروجن (estrogen) اور ڈوپامائن (dopamine) کے درمیان تعلق نیوروبائیولوجی میں ایک نیا میدان ہے۔ ماہواری کے مخصوص مرحلے پر جب ایسٹروجن کی سطح گرتی ہے، تو ڈوپامائن بھی کم ہو سکتا ہے، جس سے ADHD کی عام ادویات بے اثر ہو جاتی ہیں۔ نفسیاتی تحقیق میں خواتین کی ہارمونل صحت کو اس طرح نظر انداز کرنے کی وجہ سے ڈیٹا کا ایک بڑا خلا پیدا ہوا ہے جسے اب موجودہ تعلیمی مطالعات کے ذریعے پر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
عوامی ردعمل
عوامی اور ادارتی ردعمل میں تسکین اور نظامی مایوسی کا ایک ملا جلا رجحان پایا جاتا ہے۔ خواتین میں اس بات کا اطمینان ہے کہ ان کی ماہانہ جدوجہد کو آخر کار سائنسی طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے، لیکن اس پر صحت کے اس نظام کے خلاف غصہ غالب ہے جو 'آخری حد' پر پہنچ چکا ہے۔ یہ کہانی اس کمیونٹی کی عکاسی کرتی ہے جو اب اپنی حیاتیات کے ساتھ بدلنے والی بیماری کے لیے 'سب کے لیے ایک جیسے' طبی حل قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔
اہم حقائق
- •لندن کے King's College اور Queen Mary University 50 خواتین پر مشتمل اپنی نوعیت کی پہلی ایسی تحقیق کر رہے ہیں جس میں ماہواری اور ADHD کی علامات کے درمیان تعلق کا سراغ لگایا جائے گا۔
- •دسمبر 2023 کے NHS ڈیٹا کے مطابق، United Kingdom میں ADHD کے محرکات اور ادویات کے نسخوں میں سالانہ 23 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔
- •اندازے کے مطابق UK میں تقریباً 25 لاکھ افراد ADHD کا شکار ہیں، جبکہ لاکھوں لوگ اس وقت NHS سے باقاعدہ تشخیص کے منتظر ہیں۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔