پوشیدہ چکر: اکثر خواتین کو اپنے پیریڈز کے دوران ADHD کی دوا بے اثر کیوں محسوس ہوتی ہے؟
Layla کے لیے زندگی فون الارمز اور سخت روٹینز کا ایک نازک ڈھانچہ ہے، جو ہر ماہ اس وقت اچانک بکھر جاتا ہے جب اس کے ہارمونز اس کی دنیا کو کھوئی ہوئی توجہ کے دھندلکے میں بدل دیتے ہیں۔
This brief is categorized as 'Fact-Based' and 'Neutral' because it accurately synthesizes medical research and official NHS data from a reputable international broadcaster, focusing on clinical findings rather than speculative or ideologically driven narratives.

""یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے سہارے کے لیے استعمال ہونے والی لاٹھی کھو جائے، جو اچانک ٹوٹ گئی ہو۔""
تفصیلی جائزہ
یہ تحقیق نیورو ڈائیورسٹی (neurodiversity) کی تحقیق میں اس صنفی فرق کو دور کرنے کی کوشش ہے جسے طویل عرصے سے نظر انداز کیا گیا تھا، جہاں ماضی میں ADHD کو محض بچپن کی بیماری سمجھا جاتا تھا جو زیادہ تر لڑکوں کو متاثر کرتی ہے۔ خواتین میں 'ایسٹروجن' (estrogen) کی سطح میں تبدیلی براہ راست 'ڈوپامین' (dopamine) کے نظام پر اثر انداز ہوتی ہے، جس کی وجہ سے لوٹیل فیز (luteal phase) کے دوران معیاری علاج اکثر بے اثر ہو جاتا ہے۔ طب اور نفسیات کا یہ سنگم ظاہر کرتا ہے کہ ادویات کا روایتی طریقہ کار حیاتیاتی چکروں کو مدنظر رکھنے میں ناکام رہا ہے۔
جہاں ہیلتھ ایڈوکیٹس سوشل میڈیا کے باعث تشخیص کے لیے بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ کا ذکر کر رہے ہیں، وہیں BBC کے مطابق NHS کا نظام دباؤ کا شکار ہے اور کئی علاقوں میں ویٹنگ لسٹیں مکمل طور پر بند کی جا رہی ہیں۔ ایک طرف خواتین میں اس بیماری کی پہچان بڑھ رہی ہے، تو دوسری طرف سسٹم بروقت مدد فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ سرکاری رپورٹس کے مطابق بالغ خواتین میں اب بھی تشخیص کی شرح بہت کم ہے، جو ایک عجیب تضاد پیدا کر رہا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
تاریخی طور پر 20ویں صدی کے وسط میں ADHD کو 'بچپن کا ہائپر کائنیٹک ری ایکشن' قرار دیا گیا تھا، جس کی بنیاد نوجوان لڑکوں کے رویوں پر تھی۔ اس 'شرارتی لڑکے' کے سٹیریوٹائپ کی وجہ سے ان لڑکیوں کو دہائیوں تک نظر انداز کیا گیا جن میں توجہ کی کمی یا جذباتی مسائل جیسی اندرونی علامات پائی جاتی تھیں۔ اسی وجہ سے 21ویں صدی تک اس بات پر کوئی تحقیق نہیں ہوئی کہ خواتین کے ہارمونز دماغی نظام کے ساتھ کیسے میل کھاتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں بالغ خواتین میں تشخیص کی بڑھتی ہوئی تعداد اسی پرانے خلا اور ڈیجیٹل کمیونٹیز کا نتیجہ ہے جہاں خواتین اپنے تجربات شیئر کرتی ہیں۔ یہ تبدیلی طب کی دنیا میں 'جنڈر انفارمڈ کیئر' (gender-informed care) کی طرف ایک ارتقاء ہے، جو مردوں کو بنیاد بنا کر بنائے گئے طبی معیارات سے ہٹ کر ہے۔
عوامی ردعمل
عوام کے جذبات میں سکون اور مایوسی کا ایک پیچیدہ امتزاج پایا جاتا ہے؛ وہ خواتین جو خود کو 'ٹوٹا ہوا' محسوس کرتی تھیں انہیں اب اپنی حالت کی سمجھ آ رہی ہے، لیکن صحت کے نظام کی زبوں حالی نے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ اداریوں میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ ہارمونل تحقیق کی کمی طبی نظام کی ایک بڑی ناکامی ہے۔
اہم حقائق
- •Queen Mary University اور King's College London کی اپنی نوعیت کی پہلی تحقیق 50 خواتین کے ڈیٹا کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ پیریڈز کے چکر اور ADHD کی علامات کی شدت کے درمیان تعلق کو سمجھا جا سکے۔
- •NHS کے ڈیٹا کے مطابق گزشتہ ایک سال میں ADHD کے محرکات اور ادویات کے نسخوں میں 23 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
- •ایک اندازے کے مطابق United Kingdom میں تقریباً 25 لاکھ افراد ADHD کا شکار ہیں، جن میں لاکھوں لوگ تشخیص کے منتظر ہیں۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔