ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Education13 جولائی، 2026Fact Confidence: 85%

پابندی سے آگے: افغانستان کی یونیورسٹیوں کا خاموش زوال

جہاں دنیا کی نظریں لڑکیوں کے اسکولوں کے بند دروازوں پر جمی ہیں، وہیں افغانستان کے لیکچر ہالز میں ایک الگ طرح کی خاموشی چھا رہی ہے، جہاں تجسس کو فرمانبرداری سے بدلا جا رہا ہے اور درسی کتابوں کی جگہ نئے احکامات لے رہے ہیں۔

AI Editor's Analysis
Fact-BasedHuman Rights Focused

This brief is based on investigative reporting from The Guardian involving primary accounts from students in Afghanistan. It highlights the humanitarian and academic impact of current policies while acknowledging the regime's stated goal of religious alignment.

پابندی سے آگے: افغانستان کی یونیورسٹیوں کا خاموش زوال
"کابل کے سقوط کے بعد سے یونیورسٹی اپنا مقصد کھو چکی ہے۔ اب یہ ایک مدرسے کی طرح لگتی ہے—ایک ایسی جگہ جہاں سوال کرنا منع ہے اور خاموش رہنے کا حکم دیا جاتا ہے۔"
Qader* (A student describing the transformation of his university environment since the Taliban's return to power.)

تفصیلی جائزہ

افغان یونیورسٹیوں کا علمی مراکز سے نظریاتی اداروں میں تبدیل ہونا ریاست کی منظم 'مدرسہ سازی' (madrassification) کی عکاسی کرتا ہے۔ تجربہ کار اساتذہ کی جگہ کم کوالیفائیڈ مگر نظریاتی طور پر ہم آہنگ افراد کو لا کر طالبان جدید معیشت کے لیے ضروری فکری ڈھانچے کو تباہ کر رہے ہیں۔ یہ تبدیلی ظاہر کرتی ہے کہ حکومت تعلیم کو قومی ترقی کے بجائے سماجی کنٹرول اور مذہبی یکسانیت کے آلے کے طور پر دیکھتی ہے۔

اگرچہ عالمی سطح پر توجہ خواتین کی تعلیم پر پابندی پر ہے، لیکن رپورٹ بتاتی ہے کہ وہاں موجود لڑکوں میں بھی ایک بحران جنم لے رہا ہے۔ طلباء کے مطابق تنقیدی بحث کے خاتمے نے ان کی ڈگریوں کی اہمیت ختم کر دی ہے۔ دوسری طرف طالبان کا دعویٰ ہے کہ یہ تبدیلیاں تعلیمی ماحول کو پاک کرنے اور اسلامی اقدار کے مطابق ڈھالنے کے لیے ضروری ہیں، جس سے مقامی پالیسی اور عالمی تعلیمی معیار کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا ہو گئی ہے۔

پس منظر اور تاریخ

کئی دہائیوں سے افغانستان کا تعلیمی نظام ملک کی شناخت کے لیے ایک میدانِ جنگ رہا ہے۔ 1960 اور 70 کی دہائیوں میں کابل یونیورسٹی کو 'وسطی ایشیا کا سوربون' (Sorbonne) کہا جاتا تھا، جو لبرل سوچ اور علاقائی ترقی کا مرکز تھی۔ تاہم 1979 کے سوویت حملے اور خانہ جنگی نے اس نظام کو بکھیر دیا، جس سے دیہی علاقوں میں ان مدرسوں کو فروغ ملا جو 90 کی دہائی میں طالبان تحریک کی بنیاد بنے۔

2001 کے امریکی حملے کے بعد عالمی سطح پر ایک سیکولر اور مغربی طرز کا یونیورسٹی سسٹم بنانے کی کوشش کی گئی، جس میں طلباء کی تعداد میں اضافہ ہوا اور پہلی بار خواتین کو شامل کیا گیا۔ 2021 میں طالبان کی واپسی نے دوبارہ 90 کی دہائی کے ماڈل کی طرف واپسی کا اشارہ دیا، لیکن اس بار موجودہ تعلیمی ڈھانچے کو مذہبی اور سماجی کنٹرول کے لیے استعمال کرنے کا طریقہ کار زیادہ منظم ہے۔

عوامی ردعمل

بیانات سے شدید مایوسی اور دبے ہوئے ٹیلنٹ کا احساس ہوتا ہے۔ طلباء اس فکری آزادی کا ماتم کر رہے ہیں جس کی انہوں نے کبھی جھلک دیکھی تھی، اور ایک ایسے خوفناک ماحول کا ذکر کرتے ہیں جہاں تعلیمی قابلیت کے بجائے ظاہری شکل و صورت کو اہمیت دی جاتی ہے۔ نوجوانوں میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ تعلیم پانے والوں کی ڈگری بھی عالمی سطح پر بے کار ثابت ہو سکتی ہے، جس سے وہ فکری اور پیشہ ورانہ طور پر خود کو تنہا محسوس کر رہے ہیں۔

اہم حقائق

  • افغانستان میں لڑکوں کے لیے سخت ڈریس کوڈ لازمی قرار دے دیا گیا ہے، جس میں داڑھی رکھنا اور روایتی افغان لباس پہننا شامل ہے؛ خلاف ورزی پر جسمانی سزا کی رپورٹیں بھی سامنے آئی ہیں۔
  • اعلیٰ تعلیم کے نصاب کو تبدیل کر کے مذہبی لیکچرز اور نماز کے سیشنز کو لازمی بنا دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے بنیادی تعلیمی مضامین کے وقت میں کمی آئی ہے۔
  • 2019 اور 2023 کے درمیان افغان ہائر ایجوکیشن کا شعبہ بری طرح متاثر ہوا، جس کی وجہ تجربہ کار اساتذہ کی کمی اور نظریاتی تعلیم پر زور ہے۔

📍 مقامات

© OpenStreetMap
📍 Kabul📍 Kandahar

ذرائع

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔