ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Pakistan19 جولائی، 2026Fact Confidence: 95%

افغانستان-پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ میں بڑی کمی، کابل کا ایران کی طرف رخ

دہائیوں پرانا معاشی ناطہ ٹوٹ رہا ہے کیونکہ طالبان نے پاکستان کی بندرگاہوں پر افغانستان کا انحصار ختم کر کے ایران کی جانب اسٹریٹجک رخ اختیار کر لیا ہے، جس سے خطے میں اسلام آباد کا اثر و رسوخ شدید متاثر ہوا ہے۔

AI Editor's Analysis
Fact-BasedRegional Perspective

This report is based on consistent data from a leading Pakistani news outlet; the analysis frames economic shifts as a strategic decoupling, reflecting a regional geopolitical perspective on bilateral relations.

افغانستان-پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ میں بڑی کمی، کابل کا ایران کی طرف رخ
"ایرانی راستوں پر کابل کا بڑھتا ہوا انحصار اور پاکستان کی سرحدی پابندیوں نے دہائیوں پرانے تجارتی کوریڈور کا نقشہ بدل دیا ہے۔"
Mubarak Zeb Khan (Analysis of the dramatic shift in regional trade routes following Pakistan's border restrictions.)

تفصیلی جائزہ

اس تجارتی کوریڈور کا خاتمہ علاقائی طاقت کے توازن میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگرچہ اکتوبر 2025 کی سرحدی بندش فوری وجہ بنی، لیکن ڈیٹا بتاتا ہے کہ طالبان نے پہلے ہی سپلائی چینز کو تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی کر لی تھی۔ یہ صرف لاجسٹک خلل نہیں بلکہ کابل کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے تاکہ اپنی معیشت کو پاکستان کی پالیسیوں سے آزاد کر سکے۔

'ریورس ٹرانزٹ' (وہ سامان جو افغانستان کے لیے ہوتا ہے لیکن واپس پاکستان آ جاتا ہے) کا خاتمہ نئی حقیقت کا عکاس ہے۔ رپورٹس کے مطابق طالبان نے پہلے ہی اپنا کارگو ایرانی بندرگاہوں جیسے Chabahar اور Bandar Abbas کی طرف منتقل کرنا شروع کر دیا تھا۔ یہ منتقلی پاکستانی بندرگاہوں اور لاجسٹک انفراسٹرکچر کے لیے طویل مدتی ریونیو کا بڑا نقصان ہے جبکہ ایران اب افغان ریاست کا نیا گیٹ کیپر بن گیا ہے۔

پس منظر اور تاریخ

دہائیوں تک Afghanistan-Pakistan Transit Trade Agreement (APTTA) کابل کی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کا سنگِ بنیاد رہا اور Port of Karachi اس کا اہم ذریعہ رہا۔ غنی انتظامیہ کے دور میں سیاسی کشیدگی کے باوجود، سستے پاکستانی راستوں کی وجہ سے تجارت 2021 تک 89,000 کنٹینرز تک پہنچ گئی تھی۔

2021 میں طالبان کی واپسی نے اس اعتماد کو بنیادی طور پر ٹھیس پہنچائی۔ اسلام آباد نے ٹرانزٹ راستوں کو قومی سلامتی اور اسمگلنگ کے تناظر میں دیکھنا شروع کیا۔ دوسری طرف، طالبان حکومت نے پاکستان پر انحصار کو ایک اسٹریٹجک کمزوری سمجھا اور وسطی ایشیائی ممالک اور ایران کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دی۔

عوامی ردعمل

اداریہ کا لہجہ مستقل معاشی علیحدگی کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ واضح اعتراف ہے کہ افغان تجارت پر پاکستانی غلبے کا دور ختم ہو رہا ہے، اور کابل کا ایران کی طرف جھکاؤ ایک عارضی حل نہیں بلکہ مستقل اسٹریٹجک تبدیلی ہے۔

اہم حقائق

  • ٹرانزٹ ٹریڈ کا حجم مالی سال 26 میں گر کر 11,592 کنٹینرز (367 ملین ڈالر) رہ گیا، جو 2021 میں طالبان کی واپسی سے پہلے تقریباً 89,000 کنٹینرز (5 بلین ڈالر) تھا۔
  • پاکستان نے سیکورٹی خدشات کے پیشِ نظر اکتوبر 2025 میں افغانستان کے ساتھ اپنی سرحد باقاعدہ طور پر بند کر دی تھی۔
  • ریورس ٹرانزٹ ٹریڈ کی مالیات مالی سال 25 میں 454 ملین ڈالر سے کم ہو کر مالی سال 26 میں صرف 7 ملین ڈالر رہ گئی۔

📍 مقامات

© OpenStreetMap
📍 Islamabad📍 Kabul📍 Chabahar

ذرائع

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔