خالی ہوتے ایوان: افغان اعلیٰ تعلیم کا خاموش زوال
جب بہت سے لوگوں کے لیے تعلیم کے دروازے بند ہو رہے ہوں، تو ہمیں سوچنا چاہیے: اس ذہن کا کیا ہوگا جب تجسس خود روشنی کے نام پر ایک قابلِ سزا جرم بن جائے؟
This brief reflects reporting that relies significantly on anonymous student testimonies and specific humanitarian perspectives regarding the Taliban's educational reforms. The tags acknowledge the focus on individual lived experiences and the inherent critical stance towards the current administration's religious mandates.

"ہر کوئی ان لڑکیوں کی بات کرتا ہے جن پر پابندی لگی، لیکن کوئی ان لڑکوں کی بات نہیں کرتا جنہیں وہاں رہنے کی اجازت تو ملی مگر ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔"
تفصیلی جائزہ
افغان یونیورسٹیوں کا نظریاتی تربیتی مراکز میں بدلنا اعلیٰ تعلیم کے مقصد میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں اب آزادانہ سوچ کے بجائے ریاست کی اطاعت سکھائی جا رہی ہے۔ پیشہ ورانہ مضامین کی جگہ 'اطاعت اور طرزِ عمل' کے لیکچرز شامل کرنے سے اگلی نسل اپنی مہارت کھو رہی ہے۔ یہ تبدیلی ملک کو ان ماہرین سے محروم کر سکتی ہے جو جدید معیشت کو سنبھال سکیں، جس سے ایک بڑا پیشہ ورانہ خلا پیدا ہوگا۔
The Guardian کی تحقیقات کے مطابق ایک بڑا 'برین ڈرین' (brain drain) ہوا ہے جہاں تجربہ کار پروفیسرز ملک چھوڑ گئے ہیں، اور ان کی جگہ ایسے اساتذہ آئے ہیں جن کے پاس Journalism یا Digital Technology جیسے جدید مضامین پڑھانے کی مہارت نہیں ہے۔ اگرچہ عالمی توجہ خواتین کی محرومی پر ہے، لیکن مرد طلباء کے لیے حقیقت یہ ہے کہ ان کا نصاب اب یونیورسٹی کے بجائے ایک مدرسے جیسا لگ رہا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ Taliban کی حکمتِ عملی صرف ایک صنف کو نکالنا نہیں بلکہ افغان سوچ کو ایک خاص نظریاتی سانچے میں ڈھالنا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
افغانستان کا تعلیمی نظام طویل عرصے سے جدیدیت اور قدامت پسند نظریات کے درمیان میدانِ جنگ رہا ہے۔ 1960 اور 70 کی دہائی میں کابل ایک علاقائی علمی مرکز تھا، لیکن 1979 میں سوویت یونین کے حملے کے بعد کئی دہائیوں کی جنگ نے اس ڈھانچے کو تباہ کر دیا۔ اس کے بعد پہلے Taliban دور (1996-2001) میں تعلیم صرف مذہبی تھی اور خواتین پر مکمل پابندی تھی۔
2001 کے بعد کے بیس سالوں میں اعلیٰ تعلیم میں بڑے پیمانے پر وسعت دیکھی گئی، جہاں یونیورسٹیوں میں داخلے بڑھے اور مرد و خواتین دونوں کے لیے نجی ادارے کھلے۔ 2021 میں Taliban کی واپسی نے نہ صرف ان کامیابیوں کو الٹ دیا ہے بلکہ اس عالمی معیار کے نصاب کی بنیادوں کو بھی ختم کر دیا ہے جو جڑ پکڑنا شروع ہوا تھا، اور ملک کو ایک بار پھر 90 کی دہائی کی تنہائی والی پالیسیوں پر لے گئے ہیں۔
عوامی ردعمل
طلباء کے درمیان مایوسی اور خاموش تڑپ کا احساس پایا جاتا ہے۔ یہ صرف کیریئر کا ہی نہیں بلکہ سوچنے اور سوال کرنے کی بنیادی آزادی کے چھن جانے کا بھی نقصان ہے۔ ادارتی انداز یہ بتاتا ہے کہ جہاں لڑکیوں کی حالت زار ایک بڑا المیہ ہے، وہیں مردوں کے علمی ماحول کا گھونٹا جانے والا دم بھی ایک خطرناک نظریاتی کنٹرول ہے جو ملک کے مستقبل کے لیے خطرہ ہے۔
اہم حقائق
- •افغان یونیورسٹیوں میں مرد طلباء کے لیے داڑھی بڑھانا اور روایتی لباس پہننا لازمی قرار دے دیا گیا ہے، اور حکم نہ ماننے پر جسمانی سزا دی جاتی ہے۔
- •اب تعلیمی شیڈول میں سے روزانہ دو گھنٹے بنیادی مضامین کے بجائے مذہبی لیکچرز اور لازمی باجماعت نمازوں کے لیے وقف کر دیے گئے ہیں۔
- •Taliban انتظامیہ نے 2022 کے آخر سے خواتین کی یونیورسٹی میں داخلے پر پابندی لگا رکھی ہے، جبکہ مردوں کے لیے موجودہ تعلیمی نظام کو بھی کوالیفائیڈ لیکچررز کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔