AJK: سیکیورٹی خدشات اور فوجی نگرانی کے درمیان انتخابات مراحل میں کروانے کا فیصلہ
سیاسی عدم استحکام اور عوامی احتجاج کے باعث آزاد جموں و کشمیر میں انتخابات کو مختلف مراحل میں تقسیم کر دیا گیا ہے، جہاں پاک فوج کی نگرانی میں ووٹنگ کا عمل مکمل کیا جائے گا تاکہ صورتحال قابو میں رہے۔
The reporting relies on official schedules from the AJK Election Commission and corroborated reports of civil unrest from major Pakistani outlets. It highlights the state's decision to utilize military supervision as a response to regional volatility and the strategic boycott by the PTI.

"نئے شیڈول کے مطابق، میرپور ڈویژن میں پولنگ 27 جولائی کو ہوگی، جبکہ مظفرآباد ڈویژن اور 12 مہاجر حلقوں میں 2 اگست کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ پونچھ ڈویژن میں انتخابات 10 اگست کو ہوں گے۔"
تفصیلی جائزہ
ایک ہی دن پولنگ کے بجائے تین مراحل کا فیصلہ شدید سیکیورٹی بحران کی نشاندہی کرتا ہے، خصوصاً پونچھ ڈویژن میں جہاں Joint Awami Action Committee (JAAC) اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان حالیہ جھڑپوں میں کئی اموات ہوئیں۔ ووٹنگ کو پھیلانے کا مقصد سیکیورٹی وسائل کو ایک جگہ جمع کرنا ہے، لیکن یہ تبدیلی ریاستی کنٹرول کی کمزوری کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ فوج کی بطور نگران تعیناتی سول انتظامیہ پر عدم اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
سیاسی منظر نامہ PTI کے بائیکاٹ سے مزید پیچیدہ ہو گیا ہے، جس سے پیدا ہونے والے خلا کو PPP-JUI-F اتحاد اور PML-N پُر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ Tribune کے مطابق سرکاری ملازمین کی ایڈوانس پولنگ میں 80 فیصد ٹرن آؤٹ رہا، لیکن Geo TV کے مطابق PTI کا بائیکاٹ مقامی احتجاجی گروہوں کے ساتھ کھڑے ہونے کی حکمت عملی ہے۔ اس سے یہ خطرہ پیدا ہوتا ہے کہ نئی اسمبلی کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔
پس منظر اور تاریخ
آزاد جموں و کشمیر کا اپنا پارلیمانی نظام ہے، لیکن تاریخی طور پر یہ علاقہ پاکستان کی وفاقی حکومت کے زیر اثر رہا ہے۔ عام طور پر اسلام آباد میں جو پارٹی برسرِاقتدار ہوتی ہے، وہی مظفرآباد میں بھی اکثریت حاصل کرتی ہے، جس سے 'مینیجڈ' جمہوریت اور وفاقی مداخلت کے الزامات جنم لیتے ہیں۔
موجودہ بے چینی کی جڑیں Joint Awami Action Committee (JAAC) کے بجلی کی قیمتوں اور گندم کی سبسڈی پر مہینوں سے جاری احتجاج میں ہیں، جو سال کے آغاز میں پرتشدد رخ اختیار کر گئے تھے۔ اس صورتحال نے آزاد کشمیر کی سیاست کا رخ بدل دیا ہے، جس کی وجہ سے الیکشن کمیشن کو پہلی بار غیر معمولی حفاظتی اقدامات کرنے پڑ رہے ہیں۔
عوامی ردعمل
ماحول کافی کشیدہ ہے اور ادارے انتہائی احتیاط برت رہے ہیں۔ اگرچہ الیکشن حکام ٹرن آؤٹ کے حوالے سے پُرامید ہیں، لیکن راولاکوٹ کے واقعات اور PTI کے بائیکاٹ کی وجہ سے ایک خوف کی لہر موجود ہے۔ ریاست کی خوش امیدی اور مقامی ایکٹیوسٹ گروپس کے باغیانہ رویے کے درمیان ایک واضح فرق نظر آ رہا ہے۔
اہم حقائق
- •آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات تین مراحل میں ہوں گے: 27 جولائی (میرپور)، 2 اگست (مظفرآباد اور مہاجرین کی نشستیں)، اور 10 اگست (پونچھ)۔
- •Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے، جبکہ 22 دیگر جماعتیں بشمول PPP-JUI-F اتحاد اور PML-N، 45 نشستوں پر انتخاب لڑ رہی ہیں۔
- •تقریباً 3.8 ملین رجسٹرڈ ووٹرز کے لیے 6,983 پولنگ اسٹیشنز پر انتخابی عمل کی نگرانی کے لیے مسلح افواج کو تعینات کیا جائے گا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔