آزاد جموں و کشمیر حکومت کا سکیورٹی فورسز پر حملے کے بعد 'آئرن ہینڈ' کریک ڈاؤن کا آغاز
آزاد جموں و کشمیر میں ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا جا رہا ہے، جہاں کالعدم JAAC کے خونریز حملے کے بعد حکومت نے مذاکرات کے بجائے فوجی آپریشن کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔
This report primarily reflects the perspective of the AJK government and Pakistani security officials, utilizing state-provided details of the clash and official terminology to characterize the banned JAAC.

"ریاست کسی بھی دھمکی یا بلیک میلنگ کو قبول نہیں کرے گی، اور تمام بلیک میلرز کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔"
تفصیلی جائزہ
راولاکوٹ میں کشیدگی اندرونی سکیورٹی کی خرابی کو ظاہر کرتی ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ JAAC ایک عوامی احتجاجی تحریک سے عسکریت پسند گروپ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ Rangers کی تعیناتی اس بات کا اعتراف ہے کہ مقامی پولیس اب اس گروپ کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی نہیں ہے جو مبینہ طور پر خودکار ہتھیار اور دھماکہ خیز مواد استعمال کر رہا ہے۔ حکومت کا موقف معاشی شکایات کے بجائے اب JAAC کو خطے کی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دینے کی طرف منتقل ہو گیا ہے۔
تشدد کی شروعات کے حوالے سے متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ سرکاری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ JAAC نے اندھا دھند فائرنگ کی اور ریاست کو پھنسانے کے لیے دھماکہ خیز مواد کا استعمال کیا، جبکہ کالعدم گروپ کا موقف ہے کہ یہ ریاستی جبر کا ردعمل ہے۔ حکومت کی جانب سے مذاکرات سے انکار اور 'آئرن ہینڈ' کی وارننگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مکمل کریک ڈاؤن کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے، جس سے سیاحت کے شعبے کو مزید اربوں کا نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
پس منظر اور تاریخ
حالیہ بحران معاشی مسائل اور انتخابی تنازعات کا نتیجہ ہے۔ JAAC نے بجلی کی قیمتوں اور گندم کی سبسڈی کے خلاف احتجاج سے شہرت حاصل کی، جو بعد میں ایک بڑی سیاسی تحریک بن گئی۔ اصل موڑ اس وقت آیا جب آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مخصوص 12 نشستیں ختم کرنے کی تجویز دی گئی، جس کی JAAC نے حمایت کی لیکن روایتی سیاستدانوں نے مخالفت کی۔
گزشتہ ایک سال کے دوران ہڑتالوں اور ناکہ بندیوں نے مقامی معیشت کو مفلوج کر دیا ہے۔ جون 2026 میں JAAC پر پابندی کا مقصد تنظیم کی قیادت کو ختم کرنا تھا، لیکن راولاکوٹ میں حالیہ تشدد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس پابندی نے تنظیم کو خفیہ مسلح مزاحمت کی طرف دھکیل دیا ہے، جو اس سرحدی خطے میں عدم استحکام کی پرانی یاد تازہ کرتا ہے۔
عوامی ردعمل
سرکاری حلقوں کا لہجہ انتہائی سخت ہے جہاں JAAC کو 'بلیک میلرز' اور 'امن کے دشمن' کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ معاشی مفادات اور سیاحت کے تحفظ کے لیے ریاست کی رٹ بحال کرنا اولین ترجیح بن چکا ہے۔ اگرچہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ عوام کی اکثریت نے گروپ سے لاتعلقی اختیار کر لی ہے، لیکن بڑے پیمانے پر سکیورٹی آپریشن کی ضرورت ظاہر کرتی ہے کہ ریاست اس گروپ کی جانب سے تخریبی کارروائیوں کے حوالے سے گہری تشویش میں مبتلا ہے۔
اہم حقائق
- •راولاکوٹ کے مٹیال مائرہ بس ٹرمینل پر JAAC ارکان کے ساتھ مسلح تصادم کے دوران Rangers کا ایک اہلکار ہلاک اور دوسرا زخمی ہو گیا۔
- •آزاد جموں و کشمیر حکومت نے 5 جون 2026 کو اینٹی ٹیررازم ایکٹ کے تحت Jammu and Kashmir Awami Action Committee (JAAC) کو باقاعدہ طور پر کالعدم قرار دے دیا۔
- •AJK کے ہوم سیکرٹری Chaudhry Guftar Hussain نے تصدیق کی ہے کہ کالعدم گروپ کی جانب سے بند کیے گئے داخلی اور خارجی راستوں کو کھولنے کے لیے پورے خطے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔