ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Technology & Science17 جون، 2026Fact Confidence: 95%

The Trust Gap: امریکی اس AI کا استعمال کیوں کر رہے ہیں جس پر انہیں بھروسہ نہیں؟

جیسے جیسے ہم AI (مصنوعی ذہانت) کو اپنی روزمرہ کی زندگی کا حصہ بنا رہے ہیں، ایک گہرا ذہنی تضاد ابھر رہا ہے—ہم ایک ایسے مہمان کو اپنے گھروں میں مدعو کر رہے ہیں جس پر ہمیں اپنے مستقبل کے لیے ابھی تک بھروسہ نہیں ہے۔

AI Editor's Analysis
Fact-BasedAnalytical

This report is primarily based on empirical survey data from Pew Research; the tags reflect a reliance on quantitative polling while acknowledging the analytical framing of the public's skepticism toward AI infrastructure.

The Trust Gap: امریکی اس AI کا استعمال کیوں کر رہے ہیں جس پر انہیں بھروسہ نہیں؟
"صرف 16 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ اگلے 20 سالوں کے دوران معاشرے پر AI کے اثرات مثبت ہوں گے... جبکہ تقریباً 40 فیصد کا کہنا ہے کہ اس کے اثرات منفی ہوں گے۔"
Pew Research (via TechCrunch) (Reporting on a new Pew Research study regarding the long-term societal effects of artificial intelligence.)

تفصیلی جائزہ

ڈیٹا سے "utility-trust gap" یعنی استعمال اور اعتماد کے درمیان فرق کا پتہ چلتا ہے۔ جہاں امریکی تیزی سے اپنی پیداواری صلاحیت اور ریسرچ کے لیے AI ٹولز اپنا رہے ہیں—جس میں 60 فیصد اب AI کی تیار کردہ سمریز استعمال کرتے ہیں—وہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اسے لے کر پرامید بھی ہیں۔ ہم "forced adoption" کے ایک ایسے مرحلے سے گزر رہے ہیں جہاں یہ ٹیکنالوجی سماجی یا اخلاقی قبولیت سے پہلے ہی ایک ناگزیر ضرورت بنتی جا رہی ہے۔ 30 سال سے کم عمر نوجوانوں کا سب سے زیادہ شکوک و شبہات کا شکار ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نئی نسل ان سسٹمز کے روزگار اور سچائی کی نوعیت پر پڑنے والے اثرات سے پریشان ہے۔

شکوک و شبہات صرف الگورتھمز تک محدود نہیں ہیں بلکہ ان کے پیچھے موجود اداروں پر بھی ہیں۔ Pew Research بتاتا ہے کہ 59 فیصد امریکی کمپنیوں پر بھروسہ نہیں کرتے کہ وہ AI کو محفوظ طریقے سے تیار کریں گی، جبکہ ایک بڑی اکثریت کا خیال ہے کہ حکومتی مداخلت شاید ہی موثر ثابت ہو۔ یہ جوابدہی کا ایک خلا پیدا کرتا ہے۔ جبکہ OpenAI اور Google جیسی کمپنیاں مارکیٹ پر قبضے کی دوڑ میں لگی ہیں، عوام تبدیلی کی اس رفتار سے خوفزدہ ہیں، اور تقریباً دو تہائی لوگوں کا خیال ہے کہ یہ سب بہت تیزی سے ہو رہا ہے۔

پس منظر اور تاریخ

AI کے بارے میں عوامی رائے سائنس فکشن کی دلچسپی سے بدل کر بہت ہی کم وقت میں ایک حقیقت بن گئی ہے۔ 2022 کے آخر میں generative AI ماڈلز کی عوامی ریلیز کے بعد، یہ ٹیکنالوجی پچھلی دہائیوں کے انٹرنیٹ یا اسمارٹ فونز کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے لیبارٹریوں سے نکل کر عام صارفین تک پہنچ گئی۔ اس تیز رفتار انضمام نے اس "cooling-off" مدت کو پیچھے چھوڑ دیا ہے جو عام طور پر معاشرے کو کسی بڑی ٹیکنالوجی کے ساتھ ملتی ہے۔

تاریخی طور پر، صنعتی دور سے لے کر سوشل میڈیا کے آغاز تک، ٹیکنالوجی کے انقلابات میں پہلے ایک خوشگوار مرحلہ آتا ہے اور پھر اصلاح کا وقت۔ تاہم، AI اس معاملے میں منفرد ہے کہ اس کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس پر شکوک بھی بڑھ رہے ہیں۔ یہ بیسویں صدی کے آغاز میں آٹومیشن سے وابستہ بے چینی کی یاد دلاتا ہے، لیکن اس بار معاملہ "black box" نیورل نیٹ ورکس کی وجہ سے زیادہ سنگین ہے، جس کی مکمل وضاحت خود اسے بنانے والے بھی نہیں کر سکتے۔

عوامی ردعمل

غالب رجحان "cautious dependency" یعنی محتاط انحصار کا ہے۔ لوگوں کو AI سے ملنے والے عملی فوائد اور اس کے طویل مدتی سماجی نتائج کے گہرے خوف کے درمیان ایک واضح تناؤ موجود ہے۔ امریکی عوام خود کو ایک ایسی کارپوریٹ انقلاب کا خاموش تماشائی محسوس کرتے ہیں جہاں وہ بے بس ہیں اور انہیں کارپوریٹ اخلاقیات اور حکومتی نگرانی پر کوئی خاص بھروسہ نہیں ہے۔

اہم حقائق

  • Pew Research کی ایک رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ صرف 16 فیصد امریکیوں کا ماننا ہے کہ اگلے بیس سالوں میں معاشرے پر AI کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
  • امریکی بالغوں میں ChatGPT کا استعمال 2023 سے اب تک دو گنا سے بھی زیادہ ہو چکا ہے، جو اب آبادی کے 44 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
  • تقریباً 67 فیصد امریکیوں کو اس بات پر اعتماد نہیں ہے کہ US حکومت AI کے لیے کوئی موثر قوانین نافذ کرے گی۔

📍 مقامات

© OpenStreetMap
📍 United States

ذرائع

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔