ترکی میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی بڑی کامیابی، پدری نظام کے ہزاروں سال پرانے نظریات کو چیلنج کر دیا
ترکی کے قدیم شہر Çatalhöyük کے کھنڈرات سے 9,000 سال پرانے 'ماں کے راج' (matriarchal) کے ثبوت ملے ہیں، جس نے انسانی تہذیب کی بنیادوں سے متعلق مردوں کی حکمرانی کے تمام پرانے دعوؤں کو غلط ثابت کر دیا ہے۔
While the skeletal analysis itself is presented as a primary finding from a reputable source, the specific characterization of the society as 'matriarchal'—as opposed to egalitarian—is a significant anthropological claim that remains subject to debate in the broader archaeological community.

"تحقیق کاروں نے Catalhoyuk کے 9,000 سال پرانے شہر میں 300 ڈھانچوں کا مطالعہ کیا اور ایک ایسی تہذیب دریافت کی جہاں خاندانوں کی سربراہی خواتین اور لڑکیاں کرتی تھیں۔"
تفصیلی جائزہ
یہ دریافت انسانی ارتقاء کے علم (anthropology) کی بنیادوں پر اثر انداز ہوتی ہے، اور یہ بتاتی ہے کہ شہری زندگی کے آغاز کے لیے پدری نظام یا 'مردوں کی حکمرانی' ضروری نہیں تھی، جسے اکثر تہذیب کا 'فطری' حصہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ ایک ترقی یافتہ اور گنجان آباد شہر کا خواتین کی قیادت میں چلنا اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ تاریخ لکھے جانے سے پہلے کے دور میں طاقت کی تقسیم کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔
جہاں Al Jazeera ان نتائج کو خواتین کی حکمرانی والے معاشرے کے حتمی ثبوت کے طور پر پیش کر رہا ہے، وہیں ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی برادری میں اکثر 'مادری نظام' اور 'برابری کے نظام' کے درمیان فرق پر بحث رہتی ہے۔ 300 ڈھانچوں سے حاصل کردہ یہ مخصوص ڈیٹا خواتین کے پاس گھریلو اختیار کی نشاندہی کرتا ہے، جس سے اس بات پر نئی تحقیقات شروع ہو سکتی ہیں کہ آیا یہ اثر و رسوخ تجارت، دفاع اور مذہبی معاملات تک بھی پھیلا ہوا تھا۔
پس منظر اور تاریخ
پہلی بار 1958 میں کھدائی کے بعد سے، Çatalhöyük خانہ بدوش شکاریوں سے مستقل زرعی بستیوں کی طرف منتقلی کے مطالعے کا ایک اہم مرکز رہا ہے۔ اس کا منفرد طرزِ تعمیر—جس میں کچی اینٹوں کے مکانات اتنے قریب تھے کہ لوگ چھتوں کے ذریعے آتے جاتے تھے—ایک ایسے منظم سماجی نظام کی عکاسی کرتا ہے جو کانسی کے دور (Bronze Age) سے بھی ہزاروں سال پہلے کا ہے۔
یہ مقام 2012 سے UNESCO کے عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ ہے، اور یہاں سے ملنے والے 'مدر گاڈیس' کے مجسمے پہلے ہی اس کی روحانی زندگی میں خواتین کے مرکزی کردار کا اشارہ دے چکے تھے۔ ڈھانچوں کا یہ نیا تجزیہ اب وہ ٹھوس حیاتیاتی ثبوت فراہم کرتا ہے جو اس بحث کو محض علامتی مذہبی کرداروں سے نکال کر حقیقی سماجی اور سیاسی طاقت کی طرف لے جاتا ہے۔
عوامی ردعمل
سائنسی اور تاریخی حلقوں میں اس حوالے سے گہری دلچسپی اور تجسس پایا جاتا ہے، کیونکہ یہ دریافت روایتی سماجی نظریات کو چیلنج کرنے کے لیے ایک نایاب عملی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
اہم حقائق
- •ماہرین نے موجودہ ترکی میں واقع 9,000 سال پرانے نیولیتھک مقام Çatalhöyük سے ملنے والے 300 ڈھانچوں کے باقیات کا تجزیہ کیا۔
- •حیاتیاتی اور سیاق و سباق کے شواہد ایک ایسے سماجی ڈھانچے کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں خاندانوں اور گھریلو نظام کی باگ ڈور خواتین اور لڑکیوں کے ہاتھ میں تھی۔
- •Çatalhöyük کو دنیا کی قدیم ترین اور اہم ترین شہری بستیوں میں سے ایک مانا جاتا ہے، جس کی تاریخ تقریباً 7,100 قبل مسیح پرانی ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔