آندھرا پردیش کا ایروسپیس سیکٹر میں بڑا قدم، راکٹ فیول پلانٹ کے لیے بڑے رقبے کی الاٹمنٹ
آندھرا پردیش تیزی سے خلائی میدان کی طرف پیش قدمی کر رہا ہے، جہاں 120 ایکڑ سے زائد اسٹریٹجک صنعتی زمین فراہم کر کے انڈیا کی ایروسپیس اور دفاعی سپلائی چین میں اپنا مقام مضبوط کیا جا رہا ہے۔
The report is based on corroborated government land allotment data and official statements, though it adopts the optimistic tone prevalent in regional economic development announcements.
"مینوفیکچرنگ کی اگلی نسل کو دفاع، خلا اور جدید انجینئرنگ میں کام کرنے والی ڈیپ ٹیک (deep-tech) کمپنیاں چلائیں گی۔ SpaceFields اس نئے انڈیا کی نمائندگی کرتی ہے۔"
تفصیلی جائزہ
یہ الاٹمنٹ آندھرا پردیش کی معاشی حکمت عملی میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے، جو روایتی مینوفیکچرنگ سے آگے بڑھ کر 'ڈیپ ٹیک' سیکٹر پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ Indian Institute of Science (IISc) سے وابستہ ایک اسٹارٹ اپ کو جگہ دے کر، یہ ریاست کرناٹک کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو رہی ہے۔
نجی شعبے کی سرمایہ کاری، جیسے Globaz Technologies اور Rainmatter (Zerodha کے Nithin Kamath کے تعاون سے)، دفاعی اور خلائی شعبوں میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ 'Atmanirbhar Bharat' پالیسی کا ایک اہم حصہ ہے جو سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان فاصلہ ختم کر رہا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
دہائیوں سے انڈیا کی ایروسپیس اور دفاعی مینوفیکچرنگ صرف سرکاری اداروں جیسے HAL اور Sriharikota کے گرد مرکوز تھی۔ 2020 میں خلائی شعبے کی لبرلائزیشن نے ایک تاریخی موڑ پیدا کیا، جس سے نجی اداروں کو آزادانہ طور پر ڈیزائن اور پروپلشن سسٹم بنانے کی اجازت ملی۔
عوامی ردعمل
صنعتی خوشحالی اور اسٹریٹجک اہمیت کا احساس پایا جاتا ہے، جہاں حکام اس سرمایہ کاری کو 'نیو انڈیا' کے لیے ایک سنگ میل قرار دے رہے ہیں۔
اہم حقائق
- •آندھرا پردیش حکومت نے ضلع اننت پور کے تھماسمودرم میں راکٹ ایندھن پراسیسنگ کی سہولت کے لیے SpaceFields Pvt. Ltd. کو 120.76 ایکڑ زمین الاٹ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
- •اس پروجیکٹ میں 46.84 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری شامل ہے اور اس سے علاقے میں تقریباً 300 اعلیٰ مہارت والی ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔
- •SpaceFields اس وقت وزارت دفاع کے iDEX پروگرام کے تحت چار منصوبوں پر کام کر رہی ہے، جس میں Indian Air Force، HAL اور Indian Navy کے ساتھ شراکت داری شامل ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔