ڈان بوسکو یونیورسٹی نے جنسی ہراسانی کے خلاف احتجاج کے بعد شعبہ کے سربراہ کو فارغ کر دیا
آسام کی ڈان بوسکو یونیورسٹی میں ایک اعلیٰ عہدے دار کی فوری برطرفی نے بھارت کے نجی اعلیٰ تعلیمی شعبے میں طلبہ کے تحفظ اور ادارہ جاتی احتساب کی جاری جنگ میں ایک نیا موڑ پیدا کر دیا ہے۔
The report correctly distinguishes between the confirmed termination of the faculty member and the unverified claims by students regarding past institutional negligence. The reporting reflects the narrative provided by a mainstream news outlet while maintaining clinical distance from the protesters' assertions.
""چندرا کے خلاف یہ پہلی شکایت نہیں تھی۔ کچھ مظاہرین نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں بھی اسی طرح کے مسائل سامنے آئے تھے لیکن ان پر مناسب توجہ نہیں دی گئی تھی۔""
تفصیلی جائزہ
یونیورسٹی کی فوری کارروائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بڑھتے ہوئے احتجاج کو روکنے اور ساکھ کو بچانے کی ایک ہنگامی کوشش تھی۔ اگرچہ انتظامیہ ICC کے عمل کو قانونی شفافیت قرار دے رہی ہے، لیکن رات گئے ہونے والے مظاہروں سے ادارے پر عدم اعتماد کا اظہار ہوتا ہے۔ یہ صورتحال اس عمومی رجحان کی عکاسی کرتی ہے جہاں تعلیمی ادارے صرف عوامی مظاہروں کے دباؤ میں آکر ہی شفافیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
یونیورسٹی کے سرکاری بیان اور طلبہ کے بیانات میں واضح تضاد ہے؛ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے فوری کارروائی کی، جبکہ مظاہرین کا کہنا ہے کہ پہلے بھی انتباہ دیا گیا تھا جسے نظر انداز کیا گیا۔ یہ صورتحال تعلیمی اداروں میں طاقت کے غلط استعمال اور طالبات کے تحفظ پر ادارہ جاتی مفاد کو ترجیح دینے کے مسئلے کو اجاگر کرتی ہے۔ برطرفی سے فوری مسئلہ تو حل ہو سکتا ہے لیکن 'خاموشی کی ثقافت' کا خاتمہ اب بھی بڑا چیلنج ہے۔
پس منظر اور تاریخ
2013 میں کام کی جگہ پر خواتین کی جنسی ہراسانی کے خاتمے کے قانون (POSH Act) کے نفاذ کے بعد سے بھارتی تعلیمی اداروں کے لیے 'انٹرنل کمپلینٹس کمیٹیز' کا قیام قانونی طور پر لازمی ہے۔ تاہم، کارکنان اکثر ان کمیٹیوں کی آزادی پر سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا وہ سینئر فیکلٹی ممبران کا احتساب کرنے کی ہمت رکھتی ہیں۔
تاریخی طور پر بھارت میں کیمپس کی تحریکیں اب صرف سیاست تک محدود نہیں رہیں بلکہ سماجی انصاف اور تحفظ پر توجہ دے رہی ہیں۔ یہ واقعہ بھارتی تعلیمی اداروں میں 'Me Too' طرز کے انکشافات کا تسلسل ہے، جس نے یونیورسٹیوں کو ساکھ بچانے کے لیے سخت تادیبی اقدامات کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
عوامی ردعمل
اس صورتحال میں شدید غصہ اور طلبہ کی مزاحمت نمایاں ہے۔ طلبہ یونیورسٹی کی قیادت کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں، اور برطرفی کو انتظامیہ کا رضاکارانہ فیصلہ نہیں بلکہ عوامی احتجاج کے دباؤ کا نتیجہ سمجھا جا رہا ہے۔
اہم حقائق
- •آسام ڈان بوسکو یونیورسٹی نے 16 جون 2026 کو شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن کے سربراہ ڈاکٹر سوربھ چندرا کو ملازمت سے برطرف کر دیا۔
- •یہ برطرفی 14 جون کو دوسرے سمسٹر کی ایک طالبہ کی جانب سے جنسی ہراسانی کی باقاعدہ شکایت کے بعد عمل میں آئی۔
- •یونیورسٹی کی انٹرنل کمپلینٹس کمیٹی (ICC) نے برطرفی سے قبل حقائق جاننے کے لیے 15 جون کو ایک انکوائری میٹنگ کی۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔