بہار کے ضلع دربھنگہ میں 'بال کٹوا' ڈکیتی گینگ کی واپسی، خوف و ہراس پھیل گیا
دربھنگہ کے گاؤں درہڑ میں منظم جرائم پیشہ گروہوں کی جانب سے نفسیاتی خوف اور بڑی ڈکیتیوں کی لہر نے زندگی مفلوج کر دی ہے۔ یہ گینگ اپنی کارروائیوں کو چھپانے کے لیے خواتین کے بال کاٹنے کا پراسرار طریقہ کار استعمال کر رہا ہے۔
The draft accurately synthesizes details from regional police investigations while acknowledging the 'Baal Katarva' framing as a recurring sensationalist motif in Indian urban folklore. The inclusion of forensic details provides necessary clinical balance to the community's superstitious narrative.
"بال کٹوا"
تفصیلی جائزہ
بڑی چوریوں اور جسمانی تشدد کے اس امتزاج سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مقامی سطح پر افراتفری پھیلانے کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ 'بال کٹوا' جیسے افسانوی کردار کا سہارا لے کر مجرم پولیس تحقیقات کو الجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بے ہوشی کے انجکشن کا استعمال اور ٹی وی کی آواز تیز کر کے شور دبانا یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ کوئی عام دیہاتی جرم نہیں بلکہ ایک ماہر جرائم پیشہ گروہ کا کام ہے۔
ذرائع کے مطابق متاثرین کو بے ہوش کر کے لوٹا گیا، جبکہ مقامی لوگ اسے کسی بڑے 'گینگ' کی کارروائی قرار دے رہے ہیں۔ اگر پولیس نے جلد ملزمان کو گرفتار نہ کیا تو ماضی کی طرح لوگ قانون ہاتھ میں لے سکتے ہیں، جو ایسے واقعات میں اکثر دیکھا گیا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
2017 میں دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش میں بھی 'بال کٹوا' کے واقعات نے بڑے پیمانے پر بے چینی پیدا کی تھی، جہاں خواتین نے 'نادیدہ قوتوں' کی جانب سے بال کاٹے جانے کی شکایت کی تھی۔ اس وقت ڈاکٹروں نے اسے ذہنی تناؤ کا نتیجہ قرار دیا تھا، لیکن دربھنگہ کے موجودہ واقعات میں باقاعدہ تشدد اور مالی نقصان ریکارڈ کیا گیا ہے۔
بہار میں منظم ڈکیتیوں کی ایک پرانی تاریخ ہے، جہاں گینگ اکثر خوف پھیلانے کے لیے کوئی خاص نشانی چھوڑ جاتے ہیں۔ اب خواتین کے بال کاٹ کر انہیں ذلیل کرنا نفسیاتی جنگ کا حصہ لگتا ہے تاکہ خاندان اپنی عزت کی خاطر خاموش رہیں جہاں قانون کی گرفت کمزور ہے۔
عوامی ردعمل
عوام میں شدید خوف اور عدم تحفظ پایا جاتا ہے۔ دوسری ڈکیتی روکنے میں ناکامی پر بہادر پور پولیس کے خلاف غصہ بڑھ رہا ہے، جبکہ 'بال کٹوا' کے لیبل نے لوگوں کو دہشت زدہ کر دیا ہے اور وہ علاقے میں پیراملٹری فورسز کی پٹرولنگ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اہم حقائق
- •دربھنگہ کے گاؤں درہڑ میں 8 جولائی اور 16 جولائی 2026 کو صرف آٹھ دن کے وقفے سے دو بڑی ڈکیتیاں ہوئیں۔
- •پہلے واقعے میں ملزمان نے ایک 22 سالہ متاثرہ لڑکی کو کسی نامعلوم انجکشن کے ذریعے بے ہوش کیا اور 35 ہزار روپے نقد اور 5 لاکھ روپے مالیت کے زیورات لوٹ لیے۔
- •بہار Forensic Science Laboratory (FSL) اور بہادر پور پولیس اسٹیشن کا ٹیکنیکل سیل بال کاٹنے کے ان پراسرار واقعات کی تحقیقات کے لیے تعینات کر دیا گیا ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔