گلگت بلتستان کے انتخابی معرکے میں بلاول بھٹو نے پانی کے تحفظ کو ہتھیار بنا لیا
گلگت بلتستان میں انتخابات کی آمد کے ساتھ ہی بلاول بھٹو زرداری نے ایک رکے ہوئے انفراسٹرکچر منصوبے کو قومی دفاع کا مورچہ بنا دیا ہے، اور بھارت کی آبی پالیسیوں کو 'ہائیڈرو ٹیررازم' (آبی دہشت گردی) قرار دیا ہے۔
The report highlights a regional political rally where the term 'hydro-terrorism' is used by a candidate to mobilize voters; this is a state-centric narrative and the underlying claims regarding treaty violations remain unverified by international third-party observers.

"بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت پانی کو دہشت گردی کے آلے کے طور پر استعمال کر رہی تھی۔"
تفصیلی جائزہ
بلاول کا یہ بیانیہ دوہرا مقصد رکھتا ہے: یہ اسلام آباد کی اتحادی حکومت پر اہم انفراسٹرکچر مکمل کرنے کے لیے دباؤ ڈالتا ہے اور ساتھ ہی پی پی پی کو پاکستان کی آبی خود مختاری کے واحد محافظ کے طور پر پیش کرتا ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم کو براہ راست قومی بقا سے جوڑ کر اور بھارتی اقدامات کو 'ہائیڈرو ٹیرر' کہہ کر، وہ ایک صوبائی انتخاب کو ایک بڑے جیو پولیٹیکل تنازع میں بدل رہے ہیں۔ اس حکمت عملی کا مقصد گلگت بلتستان میں قوم پرست ووٹ حاصل کرنا ہے، جس میں پی پی پی کو بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنے والی واحد جماعت کے طور پر دکھایا گیا ہے۔
پی پی پی اور ن لیگ (PML-N) کے درمیان تناؤ بلاول کے 'شہباز اسپیڈ' کے مطالبے میں واضح نظر آتا ہے، جو موجودہ وفاقی تاخیر پر ایک باریک تنقید ہے۔ جہاں ایک طرف بھارت مخالف بیانیے اور معاشی فوائد پر زور دیا جا رہا ہے، وہیں اس کے پیچھے ایک انتخابی چال بھی چھپی ہے تاکہ پی پی پی کو وفاقی انتظامیہ کی ناکامیوں سے دور رکھا جا سکے۔ 18ویں ترمیم اور علاقائی خود مختاری کی حمایت کر کے، بلاول ایسا مینڈیٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں جو وفاقی حکومت کو ان کی جماعت کے علاقائی ایجنڈے کو ترجیح دینے پر مجبور کر دے۔
پس منظر اور تاریخ
دیامر بھاشا ڈیم کئی دہائیوں سے پاکستان کی توانائی اور پانی کی پالیسی کا مرکز رہا ہے، جسے بجلی کی دائمی قلت اور آبپاشی کی ضروریات کے حل کے طور پر دیکھا گیا۔ تاہم، اس منصوبے کو مسلسل رکاوٹوں کا سامنا رہا ہے، بشمول ورلڈ بینک (World Bank) اور ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) جیسے بین الاقوامی اداروں سے فنڈنگ میں مشکلات، کیونکہ یہ متنازعہ علاقے گلگت بلتستان میں واقع ہے جس پر بھارت اپنا دعویٰ کرتا ہے۔ اس صورتحال نے پاکستان کو گھریلو فنڈز اور متبادل بین الاقوامی شراکت داریوں، خاص طور پر چین پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
پانی کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے تعلقات 1960 کے سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کے تحت چلتے ہیں، جو طویل مدتی تعاون کی ایک نایاب مثال ہے جو کئی جنگوں کے باوجود قائم رہا۔ تاہم، حالیہ برسوں میں اس معاہدے پر غیر معمولی دباؤ آیا ہے۔ پاکستان نے مسلسل بھارت پر چناب اور جہلم دریاؤں پر ڈیموں کے ذریعے پانی کے بہاؤ میں ہیرا پھیری کا الزام لگایا ہے، جس کے نتیجے میں سیاسی رہنماؤں نے قدرتی وسائل کے اس مبینہ غلط استعمال کو 'ہائیڈرو ٹیررازم' قرار دینا شروع کر دیا ہے۔
عوامی ردعمل
خطے میں عوامی جذبات وفاقی وعدوں کے حوالے سے دیرینہ شکوک و شبہات اور فوری توقعات کا مجموعہ ہیں۔ بلاول کا بیانیہ پانی کے تحفظ اور علاقائی خود مختاری کے بارے میں پائی جانے والی گہری تشویش کا فائدہ اٹھاتا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ یہ ایک سوچا سمجھا سیاسی جوا ہے، جس میں قوم پرستی کے جذبے کو مقامی گورننس کے مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ بڑے منصوبے کی فراہمی کی ذمہ داری وفاقی انتظامیہ پر ڈال دی گئی ہے۔
اہم حقائق
- •پی پی پی (PPP) چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے 7 جون کو ہونے والے علاقائی انتخابات سے قبل 3 جون 2026 کو گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کیا۔
- •دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کی تخمینہ لاگت 15 ارب ڈالر ہے، جس کی مجوزہ صلاحیت 4,500 میگاواٹ اور 12 لاکھ ایکڑ اراضی سیراب کرنے کی طاقت ہے۔
- •پی پی پی چیئرمین نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ڈیم کی تکمیل میں تیزی لانے کا مطالبہ کیا اور اس منصوبے کو سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کی مبینہ بھارتی خلاف ورزیوں کے خلاف ایک اہم قومی ضرورت قرار دیا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔