ح
واپس خبروں پر جائیں
LIVE
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
World13 ستمبر، 20263 منٹ2 ذرائع متفق

برکس (BRICS) اجلاس: بھارت کا کشمیر حملے کی مذمت پر سفارتی کامیابی کا دعویٰ

پاکستانیوں کے لیے اہم بات یہ ہے کہ چین نے اس بیان پر دستخط کیے ہیں جسے بھارت اپنی جیت قرار دے رہا ہے۔

بہترین سفارت کاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے، بھارت نے برکس (BRICS) کے مشترکہ اعلامیے میں 2025 کے کشمیر حملے کی واضح مذمت شامل کروا لی ہے، جو کہ عالمی سطح پر ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

AI Editor's Analysis
AnalyticalDisputed claimsState-aligned

This brief reflects a geopolitical dispute where both Indian and Pakistani state-aligned perspectives interpret the same diplomatic text as a victory or a compromise. The analysis captures the tension between India's security narrative and the specific limitations of the joint BRICS declaration.

برکس (BRICS) اجلاس: بھارت کا کشمیر حملے کی مذمت پر سفارتی کامیابی کا دعویٰ
"ہم 22 اپریل 2025 کو جموں و کشمیر میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں 26 ہلاکتیں اور متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔"
New Delhi Declaration (BRICS Joint Statement) (The final joint communiqué signed by leaders of Brazil, Russia, India, China, South Africa, Iran, Egypt, UAE, Indonesia, and Ethiopia.)

تفصیلی جائزہ

بھارتی تجزیہ کار پہلگام حملے کے ذکر کو ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں کیونکہ پاکستان کے قریبی دوست ملک چین نے بھی اس پر دستخط کیے ہیں۔ جہاں بھارتی میڈیا اسے سفارتی فتح کہہ رہا ہے، وہیں کامران یوسف جیسے پاکستانی صحافیوں کا ماننا ہے کہ یہ فتح کھوکھلی ہے کیونکہ متن میں دہشت گردی کو کسی خاص قومیت سے نہ جوڑنے کی بات کی گئی ہے اور پاکستان کا نام نہیں لیا گیا۔

یہ اجلاس برکس پلس (BRICS+) کے اندر طاقت کے توازن کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ بھارت کی جانب سے روسی صدر Putin اور ایرانی صدر Pezeshkian کی میزبانی اور ساتھ ہی مغرب سے تعلقات برقرار رکھنا یہ دکھاتا ہے کہ وہ ترقی پذیر دنیا اور مغرب کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

پس منظر اور تاریخ

برکس (BRICS) کی بنیاد 2006 میں برازیل، روس، بھارت اور چین نے رکھی تھی تاکہ آئی ایم ایف (IMF) اور ورلڈ بینک (World Bank) جیسے مغربی اداروں کے غلبے کو چیلنج کیا جا سکے۔ اب اس میں ایران اور یو اے ای (UAE) جیسے ممالک بھی شامل ہو چکے ہیں۔

اعلامیے میں پہلگام واقعے کی شمولیت مئی 2025 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والی مختصر فوجی کشیدگی کے بعد ہوئی ہے۔ اس مذمت کے ذریعے بھارت اس بلاک میں اپنے موقف کو مضبوط کرنا چاہتا ہے جس میں پاکستان کا اہم ترین سٹریٹجک پارٹنر چین بھی شامل ہے۔

عوامی ردعمل

اس معاملے پر ردعمل قومی بنیادوں پر تقسیم ہے۔ بھارتی حلقے اسے اپنی سیکیورٹی بیانیے کی توثیق قرار دے رہے ہیں، جبکہ پاکستانی مبصرین اسے ایک روایتی سفارتی سمجھوتہ قرار دے رہے ہیں جس میں کسی ملک پر براہِ راست الزام لگانے سے گریز کیا گیا ہے۔

اہم حقائق

  • نئی دہلی میں ہونے والے 18ویں برکس (BRICS) سربراہی اجلاس میں 45 صفحات پر مشتمل 'نیو دہلی ڈیکلریشن' جاری کیا گیا جس پر چین اور ایران سمیت تمام رکن ممالک نے دستخط کیے۔
  • اعلامیے میں واضح طور پر بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں 22 اپریل 2025 کو ہونے والے حملے کا ذکر کیا گیا ہے جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
  • دستاویز میں 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر اسرائیل فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل اور غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

📍 مقامات

© OpenStreetMap
📍 New Delhi📍 Pahalgam📍 Islamabad

ذرائع

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

BRICS Members Condemn Kashmir Attack as India Claims Major Diplomatic Victory - Haroof News | حروف