ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Immigration & Visa8 جولائی، 2026Fact Confidence: 95%

کینیڈا میں شہریت کی درخواستوں کا بیک لاگ 19 ماہ تک پہنچ گیا، ہزاروں افراد اپنے آبائی تعلق کی تلاش میں

تقریباً ایک لاکھ لوگوں کے لیے، اپنی کینیڈین شناخت کو باضابطہ طور پر حاصل کرنے کا خواب ایک ایسی دفتری پیچیدگی کا شکار ہو گیا ہے جو گزرتے وقت کے ساتھ مزید طویل ہوتا جا رہا ہے۔

AI Editor's Analysis
Fact-BasedAdvocacy-Leaning

This report accurately synthesizes data from an immigration-focused news source; the narrative framing emphasizes the applicant's perspective on bureaucratic delays and historical exclusion.

کینیڈا میں شہریت کی درخواستوں کا بیک لاگ 19 ماہ تک پہنچ گیا، ہزاروں افراد اپنے آبائی تعلق کی تلاش میں
"جو شخص ابھی درخواست دینے میں تاخیر کرے گا، اسے مستقبل میں مزید انتظار کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ IRCC کا تخمینہ اس بات پر ہوتا ہے کہ اس وقت ان کے پاس کتنی درخواستیں پہلے سے موجود ہیں۔"
Immigration Policy Report (An assessment of the risks associated with delaying an application amid a growing queue)

تفصیلی جائزہ

درخواستوں میں یہ اضافہ دراصل اپنی جڑوں سے جڑنے کی ایک انسانی کہانی ہے، جس کا آغاز دسمبر 2025 میں Bill C-3 کے تحت 'شہریت بذریعہ نسل' کی توسیع سے ہوا۔ اس قانونی تبدیلی نے ان لوگوں کے لیے دروازے کھول دیے جو پہلے کینیڈین قانونی شناخت سے محروم تھے، لیکن پیدا ہونے والے 'بیک لاگ' سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کا انتظامی ڈھانچہ اتنی بڑی تعداد میں درخواستوں کے لیے تیار نہیں تھا۔ اگرچہ اس توسیع کا مقصد شمولیت تھا، لیکن موجودہ 19 ماہ کا انتظار ان لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث بن رہا ہے جو پاسپورٹ کی بنیاد پر اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

سرٹیفکیٹس کی جانچ پڑتال کے لیے حالیہ وقفہ سکیورٹی اور کام کی رفتار کے درمیان توازن کی مشکل کو ظاہر کرتا ہے۔ IRCC کی رپورٹ کے مطابق صرف 1 فیصد سرٹیفکیٹس میں مسائل پائے گئے، جس کا مطلب ہے کہ زیادہ تر درخواست گزار سچے ہیں۔ تاہم، اس جانچ اور بڑھتے ہوئے کام کے بوجھ نے تاخیر کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اب 'اصل ذرائع' سے دستاویزات کی شرط نے درخواست گزاروں کی مشکل میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جس سے ان لوگوں کے لیے دشواری بڑھ گئی ہے جن کے پاس پرانے خاندانی دستاویزات مکمل نہیں ہیں۔

پس منظر اور تاریخ

موجودہ بحران 'گمشدہ کینیڈینز' (Lost Canadians) کی طویل تاریخ کا تازہ ترین باب ہے—وہ افراد جنہیں امتیازی یا پرانے قوانین کی وجہ سے شہریت سے محروم رکھا گیا تھا۔ دہائیوں تک 'دوسری نسل کے کٹ آف' جیسی قانونی رکاوٹوں نے بیرون ملک مقیم کینیڈین والدین کے بچوں کو اپنی شناخت کے دعوے سے روکے رکھا، جس سے ایسے خاندان پیدا ہوئے جو خود کو کینیڈین تو سمجھتے تھے لیکن ان کے پاس قانونی شناخت نہیں تھی۔

Bill C-3 کو ان تاریخی ناانصافیوں کے ازالے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، جو کینیڈین شناخت کی ایک وسیع تعریف پیش کرتا ہے۔ تاہم، جب بھی کینیڈا نے شہریت کے معیار کو وسعت دی، IRCC کو درخواستوں کے سیلاب کا سامنا کرنا پڑا جس نے ان کی صلاحیتوں کا امتحان لیا۔ موجودہ 19 ماہ کا انتظار ماضی کی انہی جدوجہد کی ایک جدید شکل ہے جہاں قانونی پیش رفت اکثر بیوروکریسی کی رفتار سے آگے نکل جاتی ہے۔

عوامی ردعمل

عام تاثر بڑھتی ہوئی مایوسی اور بے چینی کا ہے۔ بہت سے درخواست گزاروں کے لیے 'شہریت کا ثبوت' محض ایک کاغذ نہیں بلکہ خاندان کے ملاپ اور کیریئر کے استحکام کی چابی ہے۔ تجزیہ کار اسے 'وقت کے خلاف دوڑ' قرار دے رہے ہیں، کیونکہ بیک لاگ کم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے، جس کی وجہ سے ہزاروں افراد کی مستقبل کی منصوبہ بندی 2028 تک معطل ہو کر رہ گئی ہے۔

اہم حقائق

  • 7 جولائی 2026 تک، کینیڈین شہریت کے ثبوت کی درخواستوں کی قطار 99,500 تک پہنچ چکی ہے، جس میں ایک ماہ میں 17,500 کا اضافہ ہوا ہے۔
  • ان درخواستوں کی پروسیسنگ کا تخمینہ وقت بڑھ کر 19 ماہ ہو گیا ہے، جبکہ مئی میں یہ انتظار 12 ماہ تھا۔
  • Immigration, Refugees and Citizenship Canada (IRCC) نے حال ہی میں دستاویزات کی اصلیت کی تصدیق کے لیے نسلی بنیادوں پر جاری کردہ 6,500 سرٹیفکیٹس کی پروسیسنگ روک دی ہے۔

📍 مقامات

© OpenStreetMap
📍 Ottawa

ذرائع

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔