کینیڈا کے امیگریشن ٹائم لائنز میں تبدیلی: کچھ کے لیے امید، دوسروں کے لیے لمبا انتظار
میل باکسز پر نظر رکھنے اور ڈیجیٹل پورٹلز کو بار بار چیک کرنے والے ہزاروں خاندانوں کے لیے Canada کی امیگریشن کی تازہ ترین اپڈیٹ ملی جلی خبر لے کر آئی ہے۔ جہاں نئے شہریوں کے لیے فاصلے سمٹ گئے ہیں، وہیں اپنے پیاروں کے منتظر افراد کے لیے وقت کا یہ اچانک اور طویل اضافہ کسی صدمے سے کم نہیں۔
This report is classified as Fact-Based as it relies on specific administrative data released by the IRCC; the Analytical tag reflects the synthesized focus on regional disparities and the systemic impact on specific applicant groups.

"پاکستان کے لیے سپر ویزا (Super Visa) پروسیسنگ ٹائم میں ایک ہی ہفتے کے دوران 77 دن کا بڑا اضافہ ہوا ہے، جو کہ تقریباً دیگر تمام ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔"
تفصیلی جائزہ
مستقل اور عارضی رہائش کے پروسیسنگ ٹائم میں یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ IRCC کی تزویراتی ترجیح ان لوگوں کے کیسز کلیئر کرنا ہے جو پہلے ہی ملکی معیشت میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ جہاں شہریت اور CEC کے انتظار میں کمی پرانے رہائشیوں کے لیے ایک موثر راستہ فراہم کرتی ہے، وہیں پاکستان سے سپر ویزا کے انتظار میں اچانک اضافہ اس سسٹم پر دباؤ کو ظاہر کرتا ہے جو خاندانوں کے ملاپ کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔
نائیجیریا اور پاکستان کے ورک پرمٹ کی پروسیسنگ میں ہونے والا بڑا اضافہ وسیع تر جیو پولیٹیکل یا انتظامی رکاوٹوں کی عکاسی کرتا ہے جو مختلف خطوں میں الگ الگ ہیں۔ انڈیا اور فلپائن کے مستحکم حالات کے برعکس، پاکستان کے لیے یہ بڑی چھلانگ ظاہر کرتی ہے کہ سروس کے معیارات ابھی تک بہت سے بین الاقوامی درخواست گزاروں کے لیے محض ایک خواب ہیں، جس کی وجہ سے ان کی زندگی غیر یقینی کا شکار ہے۔
پس منظر اور تاریخ
گزشتہ دہائی کے دوران، کینیڈا نے اپنی امیگریشن حکمت عملی کو 'ٹو سٹیپ' (two-step) مائیگریشن کی طرف موڑا ہے، جہاں طلباء اور ورکرز جیسے عارضی رہائشیوں کو مستقل حیثیت کے لیے واضح راستہ دیا جاتا ہے۔ COVID-19 کی عالمی وبا کے بعد اس میں تیزی آئی تاکہ ریکارڈ بیک لاگ کو ختم کیا جا سکے اور ڈیجیٹل سسٹم کو بہتر بنایا جا سکے۔
تاریخی طور پر سپر ویزا (Super Visa) کا آغاز والدین اور دادا دادی کو طویل مدت کے لیے قیام کی سہولت دینے کے لیے کیا گیا تھا، لیکن یہ پروگرام اکثر انتظامی صلاحیت جانچنے کا پیمانہ بن جاتا ہے۔ پاکستانیوں کے لیے حالیہ 77 دن کا اضافہ ماضی کے ان ادوار کی یاد دلاتا ہے جہاں مخصوص ویزا دفاتر عملے کی کمی یا اچانک دباؤ کا شکار ہو جاتے تھے۔
عوامی ردعمل
ان اپڈیٹس پر عوامی ردعمل شدید بے چینی اور فکرمندی پر مبنی ہے، کیونکہ تارکینِ وطن کو بدلتے ہوئے اعداد و شمار کے مطابق اپنی زندگی کے منصوبوں کو بار بار ترتیب دینا پڑ رہا ہے۔ جہاں ایکسپریس انٹری (Express Entry) کے امیدواروں میں محتاط امید پائی جاتی ہے، وہیں پاکستان اور نائیجیریا کے لیے ہونے والے بڑے اضافے نے جغرافیائی ناانصافی کے احساس کو جنم دیا ہے۔
اہم حقائق
- •IRCC کی جانب سے Canadian Experience Class (CEC) کے لیے پروسیسنگ ٹائم کم ہو کر چھ ماہ رہ گیا ہے، جو کہ ایجنسی کے سرکاری سروس اسٹینڈرڈ کے عین مطابق ہے۔
- •پاکستانی درخواست گزاروں کے لیے سپر ویزا کے پروسیسنگ ٹائم میں ایک ہی ہفتے میں 77 دن کا اضافہ ہوا، جس کے بعد اب یہ کل 179 دن تک پہنچ گیا ہے۔
- •شہریت (Citizenship) ملنے کا وقت چار ماہ کی کم ترین سطح پر آ گیا ہے، جبکہ صوبائی نامزدگی پروگرام (PNP) کے ذریعے مستقل رہائش کی ٹائم لائن بہتر ہو کر 12 ماہ ہو گئی ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔