کینیڈا نے ورک پرمٹ کی تجدید کے لیے انتظار کے وقت میں کمی کر دی، غیر ملکی ورکرز کو بڑی راحت مل گئی
ہزاروں خاندانوں کے لیے جن کا ویزا ختم ہونے والا تھا اور وہ شدید بے چینی کا شکار تھے، ورک پرمٹ کے پراسیسنگ ٹائم میں ایک ماہ کی کمی کسی بڑی خوشخبری سے کم نہیں۔
The synthesis accurately reflects historical data from Canada's immigration department while utilizing an empathetic, human-centric tone to describe the impact of bureaucratic processing times on foreign workers.

تفصیلی جائزہ
186 دن تک انتظار کے وقت میں کمی کینیڈا کی معیشت میں اپنا حصہ ڈالنے والے غیر ملکیوں کے لیے ایک بہتری تو ہے، لیکن یہ ابھی کافی نہیں۔ تقریباً ایک ماہ کی کمی سے لگتا ہے کہ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ بیک لاگ ختم کر رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ورکرز کو اب بھی چھ ماہ سے زیادہ انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس تاخیر کی وجہ سے بہت سے لوگ 'Maintained Status' (مینٹینڈ اسٹیٹس) پر رہنے پر مجبور ہیں، جو ایک قانونی الجھن ہے اور اس کی وجہ سے ہیلتھ کیئر یا کرائے کے مکانات حاصل کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں کیونکہ لینڈ لارڈز اکثر ختم شدہ پرمٹس کی باریکیوں کو نہیں سمجھتے۔
اپریل 2026 میں سپورٹ لیٹرز کی مدت ایک سال تک بڑھانے کا فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت ان تاخیروں کی سنگینی کو تسلیم کرتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق 186 دن کا انتظار اس سال کا سب سے کم وقت ہے، لیکن یہ پھر بھی 120 دن کے ہدف سے بہت دور ہے۔ ایک عام ورکر کے لیے اس کا مطلب ہے کہ وہ مہینوں تک بیرونِ ملک سفر نہیں کر سکتا اور اسے مسلسل یہ ڈر رہتا ہے کہ ایک چھوٹی سی دفتری غلطی اس کے کینیڈا میں رہنے کے حق کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
پس منظر اور تاریخ
گزشتہ چند سالوں میں کینیڈا کے امیگریشن سسٹم کو درخواستوں کے غیر معمولی دباؤ کا سامنا رہا ہے، جس کی وجہ کورونا کے بعد لیبر کی بڑھتی ہوئی طلب اور بدلتی ہوئی پالیسیاں ہیں۔ IRCC کو ہمیشہ سے ہی امیگریشن کے اہداف اور پراسیسنگ کے نظام کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں مشکل پیش آئی ہے، جس کی وجہ سے 2022 اور 2023 میں بیک لاگ خطرناک حد تک بڑھ گیا تھا۔ ان تاخیروں کی وجہ سے محکمے کو بار بار اپنے 'سروس اسٹینڈرڈز' تبدیل کرنے پڑے، جنہیں اب درخواست گزار محض ایک ہدف ہی سمجھتے ہیں۔
'Maintained Status' کا تصور اس سسٹم میں ایک اہم سہارے کے طور پر ابھرا ہے، تاکہ انتظامی رکاوٹوں کی وجہ سے معیشت ضروری ورکرز سے محروم نہ ہو جائے۔ حال ہی میں پراسیسنگ کے ڈیٹا کو شفاف طریقے سے جاری کرنے کا فیصلہ کینیڈا کی حکومت کی اس کوشش کا حصہ ہے تاکہ ان لاکھوں عارضی رہائشیوں کی توقعات کو سنبھالا جا سکے جو اب ملک کی لیبر فورس کا ایک بڑا حصہ بن چکے ہیں۔
عوامی ردعمل
تارکین وطن کی کمیونٹی میں اس خبر پر ملے جلے جذبات پائے جاتے ہیں؛ تھوڑا سکون بھی ہے لیکن غصہ بھی برقرار ہے۔ اگرچہ انتظار کے وقت میں کمی ایک مثبت اشارہ ہے، لیکن عام تاثر یہی ہے کہ چھ ماہ کا انتظار ان لوگوں کے لیے اب بھی ایک بڑا بوجھ ہے جن کا روزگار ان دستاویزات پر منحصر ہے۔ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ جب تک IRCC مستقل طور پر اپنے چار ماہ کے سروس اسٹینڈرڈ کو پورا نہیں کرتی، یہ تبدیلیاں صرف ایک دیرینہ مسئلے کی شدت میں تھوڑی سی کمی ہی سمجھی جائیں گی۔
اہم حقائق
- •10 جون 2026 تک، کینیڈا میں ورک پرمٹ کی درخواستوں اور ان میں توسیع کا پراسیسنگ ٹائم کم ہو کر 186 دن رہ گیا ہے۔
- •6 مئی 2026 کو کینیڈا کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ وقت 212 دن تھا، جس میں اب واضح کمی آئی ہے۔
- •اس کمی کے باوجود، یہ وقت IRCC (Immigration, Refugees and Citizenship Canada) کے 120 دن کے آفیشل سروس اسٹینڈرڈ سے اب بھی کافی زیادہ ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔