CBSE کے موقف میں نرمی: زبان کی نئی پالیسی کے نفاذ کے دوران لاکھوں طلباء کے لیے عارضی ریلیف
والدین کے بڑھتے ہوئے احتجاج کو ٹھنڈا کرنے کے لیے CBSE نے اپنے قدم پیچھے ہٹاتے ہوئے لاکھوں طلباء کو بڑی رعایت دے دی ہے، جو بھارت میں زبانوں کے نظام میں تبدیلی کے باعث پریشان تھے۔
This brief combines verified reporting from Indian news sources with an analytical framing that characterizes the CBSE's policy shift as a strategic retreat following public pressure.

"اگرچہ CBSE کا مقصد طلباء کو مختلف 'بھارتیہ بھاشا' (مقامی بھارتی زبانوں) میں مہارت دلوانا ہے، لیکن ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بھی پرعزم ہیں کہ سیکھنے اور آگے بڑھنے کا عمل متوازن رہے۔"
تفصیلی جائزہ
CBSE کا یہ فیصلہ دراصل پالیسی میں ایک ایسی تبدیلی ہے جس کا مقصد 'بھارتیہ بھاشا' کے حکم نامے اور سیکنڈری تعلیم کے عملی تقاضوں کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنا ہے۔ تیسری زبان کے امتحان کو سکول کی سطح پر منتقل کر کے بورڈ نے طلباء کو ریگولیٹری تبدیلیوں کے منفی اثرات سے بچا لیا ہے۔ یہ قدم تعلیمی فلسفے سے زیادہ NEP 2020 کے قواعد کے خلاف والدین کے احتجاج کو دبانے کی ایک سیاسی کوشش لگتی ہے۔
جہاں 'The Hindu' اس نرمی میں مرکزی وزیر Dharmendra Pradhan کے کردار کو اجاگر کر رہا ہے، وہیں 'NDTV' اسے 'صرف ایک بار کی عارضی رعایت' قرار دے رہا ہے۔ یہاں خطرات بہت زیادہ ہیں: حکومت بھارتی اشرافیہ کا رخ یورپی زبانوں سے ہٹا کر مقامی زبانوں کی طرف موڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم، درجنوں علاقائی زبانوں کے لیے وقت پر معیاری تعلیمی مواد فراہم کرنا ابھی بھی ایک بڑا چیلنج ہے جو 2026-27 کے مکمل نفاذ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
'تھری لینگویج فارمولا' پہلی بار 1968 میں پیش کیا گیا تھا اور پھر 1986 کی نیشنل پالیسی آن ایجوکیشن میں اس پر زور دیا گیا، جس کا اصل مقصد شمالی اور جنوبی بھارت کے درمیان لسانی فرق کو ختم کرنا تھا۔ دہائیوں تک اس کا نفاذ غیر مستقل رہا، کیونکہ بہت سے نجی سکولوں نے عالمی ضروریات کے پیشِ نظر انگریزی اور غیر ملکی زبانوں جیسے فرانسیسی یا جرمن کو ترجیح دی، جس سے مقامی زبانیں پسِ پشت چلی گئیں۔
National Education Policy (NEP) 2020 نے بھارتی نصاب کو نوآبادیاتی اثرات سے پاک کرنے اور قومی ورثے کو فروغ دینے کے لیے اس فارمولے کو دوبارہ زندہ کیا ہے۔ موجودہ تناؤ اس طویل مدتی ثقافتی مقصد اور بورڈ امتحانات کے سخت مقابلے میں طلباء پر پڑنے والے تعلیمی بوجھ کے درمیان ٹکراؤ کا نتیجہ ہے۔ یہ حالیہ نرمی بھارتی بیوروکریسی کے سخت مزاج کے برعکس لچک کی ایک نادر مثال ہے۔
عوامی ردعمل
عوامی جذبات میں محتاط اطمینان کے ساتھ ساتھ کچھ بے چینی بھی پائی جاتی ہے۔ اگرچہ والدین اور سکول انتظامیہ نے نصاب میں اچانک تبدیلی کے پیشِ نظر اس ریلیف کو خوش آئند قرار دیا ہے، لیکن تیسری زبان کے طویل مدتی بوجھ کے حوالے سے اب بھی خدشات موجود ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کا مقامی زبانوں کے لیے اصرار اپنی جگہ درست ہے، لیکن اس کا ابتدائی طریقہ کار اناڑی پن پر مبنی تھا جس کی وجہ سے تعلیمی بحران سے بچنے کے لیے یہ مداخلت ضروری ہو گئی۔
اہم حقائق
- •نویں جماعت کے طلباء جو 2027-28 میں بورڈ امتحانات دیں گے، انہیں تیسری زبان کے بیرونی امتحان سے چھوٹ دے دی گئی ہے، اب اس کا جائزہ سکول کی سطح پر ہی لیا جائے گا۔
- •National Education Policy (NEP) 2020 کے تحت تین زبانیں سیکھنے کی شرط، جس میں دو مقامی بھارتی زبانیں شامل ہیں، 2026-27 کے تعلیمی سیشن سے نویں جماعت کے نئے بیچ پر لاگو ہوگی۔
- •ساتویں اور آٹھویں جماعت کے وہ طلباء جنہوں نے پہلے دو غیر ملکی زبانیں لی تھیں، انہیں وہ جاری رکھنے کی اجازت ہے لیکن اب نصاب میں ایک 'بھارتیہ بھاشا' (بھارتی زبان) شامل کرنا لازمی ہوگا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔