بھارت کا تعلیمی بحران: سسٹم کی ناکامی پر CBSE کی اعلیٰ قیادت فارغ
بھارت کے اسکول امتحانی اتھارٹی کی اعلیٰ قیادت کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے کیونکہ حکومت ڈیجیٹل ایویلیوایشن سسٹم سے جڑے ایک بڑے اسکینڈل کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہے جس نے لاکھوں طلباء کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے۔
While the leadership transfers are corroborated across major outlets, the 'Disputed Claims' tag reflects the tension between the Board's narrative of external cyber-attacks and reported evidence of internal systemic data mismanagement.

""جن طلباء نے اپنی جوابی کاپیوں کی اسکین شدہ کاپیاں مانگیں، انہیں معلوم ہوا کہ اپ لوڈ کی گئی کاپیاں ان کی ہیں ہی نہیں۔""
تفصیلی جائزہ
یہ صرف ایک تکنیکی خرابی نہیں ہے بلکہ ایک اعلیٰ سطحی میرٹ سسٹم میں ادارہ جاتی اعتماد کا مکمل خاتمہ ہے۔ CBSE کے دو اعلیٰ ترین حکام کا تبادلہ ظاہر کرتا ہے کہ وزارت تعلیم OSM کے نفاذ کو ایک معمولی آپریشنل غلطی کے بجائے ایک تباہ کن پالیسی کی ناکامی کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ جہاں CBSE انتظامیہ پورٹل کی تباہی کا ذمہ دار 'سائبر حملوں' کو قرار دے رہی ہے، وہیں ناقدین اور والدین تھرڈ پارٹی کمپنیوں کی خدمات حاصل کرنے کے عمل میں گہری خرابی کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق بورڈ اس بحران کو اپنے انفراسٹرکچر پر بیرونی حملے کے طور پر پیش کر رہا ہے، جبکہ طلباء کے پاس موجود ثبوتوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ اندرونی نظامی نااہلی تھی جہاں بنیادی ڈیٹا کی حفاظت کو کبھی یقینی ہی نہیں بنایا گیا تھا۔
پس منظر اور تاریخ
CBSE طویل عرصے سے بھارت میں اسکول کی تعلیم کے لیے ایک اعلیٰ معیار رہا ہے، لیکن ڈیجیٹلائزیشن کی طرف اس کی حالیہ تبدیلی بھارتی سول سروس میں پرانے نظاموں کو جدید بنانے کے رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔ تاہم، بورڈ کو حالیہ برسوں میں اپنی ماڈریشن پالیسیوں اور گریڈز کی مصنوعی بڑھوتری پر بار بار تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یہ مخصوص بحران 2019 کے تلنگانہ انٹرمیڈیٹ نتائج کے تنازعہ کی یاد دلاتا ہے، جہاں ایک نجی فرم کی تکنیکی غلطیوں کو طلباء کے بڑے پیمانے پر نقصان کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ موجودہ صورتحال بورڈ کی تاریخ میں قیادت کی سب سے بڑی تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے۔
عوامی ردعمل
عوامی موڈ میں شدید خوف اور غصے کی لہر پائی جاتی ہے۔ والدین اور طلباء مکمل احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ان تبادلوں کو ایک ضروری مگر ناکافی قدم قرار دے رہے ہیں۔ پاس ہونے والے طلباء کی شرح میں 88.39% سے 85.29% تک کی کمی کو تعلیمی کارکردگی نہیں بلکہ ناقص ڈیجیٹل مارکنگ کا نتیجہ سمجھا جا رہا ہے۔
اہم حقائق
- •CBSE کے چیئرمین راہول سنگھ اور سیکرٹری ہمانشو گپتا کو ایویلیوایشن میں بے ضابطگیوں کی رپورٹس کے بعد ان کے عہدوں سے باضابطہ طور پر ٹرانسفر کر دیا گیا ہے۔
- •آن اسکرین مارکنگ (OSM) سسٹم کے حصول اور نفاذ کی تحقیقات کے لیے ایس رادھا چوہان کی سربراہی میں ایک رکنی انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔
- •CBSE نے اپنے ری ویریفیکیشن پورٹل پر بڑے پیمانے پر تکنیکی خرابیوں کی اطلاع دی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صرف دو منٹ کے اندر پورٹل پر تقریباً 1.5 ملین ہٹس آئے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔