CBSE کا سیکیورٹی بریچ سے انکار، نمبروں کے تنازع پر طلبہ کو ہراساں کیے جانے کے واقعات میں اضافہ
انڈیا کے سب سے بڑے تعلیمی نظام کی ساکھ خطرے میں ہے کیونکہ Central Board of Secondary Education (CBSE) ایک طرف ہیکنگ کے سنگین دعووں اور دوسری طرف اپنے ہی طلبہ کو نشانہ بنانے والی انتہا پسند قوم پرستی کا سامنا کر رہا ہے۔
This report is tagged for Disputed Claims as it navigates a direct contradiction between the CBSE's official denial and a whistleblower's technical allegations. The Sensationalized tag reflects the aggressive nationalist rhetoric used in the social media discourse described by the sources.

"میں نے فروری میں CBSE کے OSM (On-Screen Marking Portal) کو ہیک کیا تھا اور ان کمزوریوں کی اطلاع CERT-In کو دی تھی، لیکن وہ ان میں سے زیادہ تر کو ٹھیک کرنے میں ناکام رہے۔"
تفصیلی جائزہ
یہ تنازع ادارے اور عوام کے درمیان بھروسے کے بڑے فقدان کو ظاہر کرتا ہے۔ CBSE ہیکنگ کے دعووں کو غیر متعلقہ قرار دے کر مسترد کر رہا ہے، جبکہ ریسرچر نِسرگا کا اصرار ہے کہ یہ خامیاں اتنی گہری تھیں کہ ان سے نمبروں میں براہ راست ہیر پھیر ممکن تھا۔ یہ صورتحال سائبر سیکیورٹی کے آزاد ماہرین اور سرکاری اداروں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو واضح کرتی ہے جو عموماً شفافیت کے بجائے دفاعی رویہ اختیار کرتے ہیں۔
مزید یہ کہ یہ معاملہ محض ایک تکنیکی تنازع سے بڑھ کر سماجی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ طالب علم ویدانت کی جانب سے انتظامی غلطی کی نشاندہی پر اسے آن لائن گروہوں کی جانب سے 'اینٹی نیشنل' قرار دینا ایک خطرناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جہاں قوم پرستی کے نام پر اداروں کا احتساب روکنے کی کوشش کی جاتی ہے اور جائز شکایات کو دبایا جاتا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
Central Board of Secondary Education (CBSE) انڈیا بھر میں لاکھوں طلبہ کے امتحانات کا انتظام سنبھالتا ہے، جو اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ کیریئر کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ گزشتہ دہائی میں بورڈ نے کارکردگی بہتر بنانے کے لیے کاغذ پر مارکنگ کے بجائے 'On-Screen Marking' (OSM) سسٹم اپنایا ہے، تاہم اس ڈیجیٹلائزیشن نے سیکیورٹی کے نئے خطرات پیدا کر دیے ہیں جنہیں تسلیم کرنے میں بورڈ تاریخی طور پر سست رہا ہے۔
اسی دوران، انڈیا کے ڈیجیٹل ماحول میں 'سائبر قوم پرستی' میں اضافہ ہوا ہے، جہاں سوشل میڈیا صارفین اکثر سرکاری اداروں پر تنقید کرنے والوں کو 'پاکستانی' یا 'اینٹی نیشنل' کہہ کر بدنام کرتے ہیں۔ اس رجحان نے انتظامی شکایات کو 'حب الوطنی' کا مسئلہ بنا دیا ہے، جس سے عام شہریوں کے لیے نظامی ناکامیوں پر آواز اٹھانا مشکل ہو گیا ہے۔
عوامی ردعمل
جذبات انتہائی منقسم اور دفاعی ہیں۔ CBSE نتائج پر عوامی اعتماد برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی خدشات کو یکسر مسترد کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف سوشل میڈیا پر ان طلبہ کے خلاف شدید نفرت پائی جاتی ہے جو سسٹم کی خامیاں سامنے لاتے ہیں۔
اہم حقائق
- •Central Board of Secondary Education (CBSE) نے باضابطہ طور پر اس بات کی تردید کی ہے کہ ان کا لائیو On-Screen Marking (OSM) سسٹم ہیک ہوا ہے، ان کا دعویٰ ہے کہ یہ مبینہ بریچ ایک انٹرنل ٹیسٹنگ سائٹ پر ہوا جس میں صرف نمونے کا ڈیٹا تھا۔
- •نِسرگا نامی ایک طالب علم اور سائبر سیکیورٹی ریسرچر نے 'انتہائی حساس کمزوریوں' کی نشاندہی کا دعویٰ کیا ہے جس کے ذریعے ایگزامینر اکاؤنٹس تک غیر قانونی رسائی اور طلبہ کے نمبر تبدیل کرنا ممکن تھا۔
- •ویدانت نامی ایک طالب علم نے بتایا کہ اسے فزکس کی ایک ایسی اسکین شدہ جوابی کاپی ملی جو اس کی نہیں تھی، جس کے بعد سوشل میڈیا پر اسے اس غلطی کو عام کرنے پر 'اینٹی نیشنل' اور 'پاکستانی' قرار دے کر نشانہ بنایا گیا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔