چین اور بنگلہ دیش کے سٹریٹجک تعلقات جنوبی ایشیا کی صورتحال بدل رہے ہیں
ڈھاکا کے بیجنگ کے ساتھ جدید ترین معاہدے کے بعد، نیو دہلی کو اپنے روایتی اثر و رسوخ والے خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے بحری اور انفراسٹرکچر کے قدموں سے خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔
This brief is primarily synthesized from Indian media sources, which frame the Bangladesh-China partnership through the lens of New Delhi's regional security concerns and strategic competition.
""دوسرے ملکوں کے ساتھ ہمارے تعلقات کوئی مسئلہ نہیں ہیں... ڈھاکا اپنی فارن پالیسی کو کسی کی جیت یا ہار کے طور پر نہیں دیکھتا۔""
تفصیلی جائزہ
ڈھاکا اور بیجنگ کے درمیان سٹریٹجک تعلقات میں یہ اضافہ بھارت کی علاقائی برتری کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ Mongla Port کی جدید کاری اور حساس Teesta River پروجیکٹ میں کردار حاصل کر کے، چین بنگلہ دیش کے اہم انفراسٹرکچر میں قدم جما رہا ہے، جو بھارت کی مشرقی سرحدوں پر 'موتیوں کی مالا' (string of pearls) جیسے دباؤ کے مقامات پیدا کر سکتا ہے۔ ذرائع NDTV کا دعویٰ ہے کہ یہ پیش رفت بھارت کی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہے، جبکہ بنگلہ دیشی حکومت کا موقف ہے کہ اس کی فارن پالیسی سب کو ساتھ لے کر چلنے والی ہے۔
Teesta River کے حوالے سے صورتحال خاصی سنگین ہے، جو دہلی اور ڈھاکا کے درمیان عرصے سے تنازع کا باعث ہے۔ دریا کے انتظام میں چین کی شمولیت بیجنگ کو پانی کے ذخائر پر اثر و رسوخ اور انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے، وہ بھی ایک ایسے خطے میں جسے بھارت اپنا 'backyard' سمجھتا ہے۔ اگرچہ بھارت نے حال ہی میں بنگلہ دیشیوں کے لیے ٹورسٹ ویزا دوبارہ شروع کر کے تناؤ کم کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن چین کی بھاری سرمایہ کاری بتاتی ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن بدل رہا ہے جسے روایتی سفارت کاری کے ذریعے سنبھالنا مشکل ہو سکتا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
دہائیوں سے بنگلہ دیش بھارت—جو اس کا بنیادی سکیورٹی پارٹنر اور آزادی کا ساتھی ہے—اور چین—جو اس کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور فوجی سازوسامان فراہم کرنے والا ہے—کے درمیان توازن برقرار رکھے ہوئے ہے۔ Teesta River کے پانی کی تقسیم کا تنازع 2011 سے بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں تلخی کی بڑی وجہ رہا ہے، جب بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سیاسی مخالفت کی وجہ سے ایک مجوزہ معاہدہ منسوخ ہو گیا تھا۔
اس سفارتی تعطل نے ایک ایسی جگہ پیدا کی جس کا بیجنگ نے 2020 سے دریا کے لیے اربوں ڈالر کے مینجمنٹ پلان کی پیشکش کر کے فائدہ اٹھایا ہے۔ وزیر اعظم Tarique Rahman کے تحت موجودہ روابط پچھلی حکومت کی 'انڈیا فرسٹ' پالیسی سے واضح انحراف ہیں، جو نیو دہلی کے ساتھ برسوں سے رکی ہوئی بات چیت کو بائی پاس کر کے چینی سرمایہ کاری کے حصول کی کوشش کو ظاہر کرتے ہیں۔
عوامی ردعمل
بھارتی اسٹریٹجک حلقوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے، جہاں میڈیا چین اور بنگلہ دیش کے معاہدے کو بھارت کی 'Neighborhood First' پالیسی میں مداخلت قرار دے رہا ہے۔ اس کے برعکس، ڈھاکا کا سرکاری بیانیہ معاشی حقیقت پسندی پر مبنی ہے، جو اس شراکت داری کو جیو پولیٹیکل تبدیلی کے بجائے قومی ترقی کے لیے ایک ضروری اقدام کے طور پر پیش کرتا ہے۔
اہم حقائق
- •وزیر اعظم Tarique Rahman کے بیجنگ کے دورے کے بعد بنگلہ دیش اور چین نے اپنے سفارتی تعلقات کو 'جامع اسٹریٹجک تعاون کی شراکت داری' (comprehensive strategic cooperative partnership) تک بڑھا دیا ہے۔
- •اس مشترکہ معاہدے میں خاص طور پر بنگلہ دیش کی Mongla Port کو جدید بنانے کے لیے چین کی حمایت کا ذکر کیا گیا ہے۔
- •چین نے باضابطہ طور پر Teesta River Comprehensive Management and Restoration Project میں شمولیت کا وعدہ کیا ہے، جو بھارتی سرحد کے قریب ایک حساس آبی مقام ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔